پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے حلف اُٹھا لیا

پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے حلف اُٹھا لیا

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) صوبائی وزیرتعلیم گلگت بلتستان ابراہیم ثنائی نے کہا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں شعبہ تعلیم پر ڈرون حملہ کیا گیا میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہم میرٹ چاہتے ہیں اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اگر مجھے میرٹ کے مطابق کام کرنے نہیں دیا گیا یا دباؤ ڈالا گیا تو استعفیٰ دوں گا پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان میں ماڈل کالجز کے قیام کے حوالے سے تجاویز دیں کا بینہ کی مشاورت کے بعد ماڈل کالجز کے قیام کا فیصلہ کریں گے میں اکیلا کوئی وعدہ نہیں کرسکتا اور نہیں ہی کوئی فیصلہ کرسکتا ہوں تمام چیزیں مشاورت سے ہوں گی گلگت بلتستان میں محکمہ تعلیم کی ترقی اور مانیٹرنگ کیلئے ڈائریکٹر جنرل ایجوکیشن بنارہے ہیں اور مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی جو تعلیمی اداروں میں فنانس، بلڈنگز اور ان رولمنٹ کی مانیٹرنگ کریں گی اور رپورٹ ڈائریکٹر جنرل کو پیش کریں گے گلگت بلتستان میں تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں پرائیویٹ سکولوں میں فیس بہت زیادہ جبکہ تعلیم کم ہے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو لگام دینے کی ضرورت ہے پرائیویٹ سکولوں میں رائج خود ساختہ نصاب پر پابندی لگادی جائے گی اس حوالے سے جامع پالیسی مرتب کرکے باقاعدہ قانون سازی کی جائے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے پروفیسز اینڈ لیکچراز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری کے موقعے پر بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

1

انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں میرٹ کی بحالی پر جاری اقدامات کی وجہ سے کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کسی کو سزادی جائے یا ترقی دی جائے تو فرقہ واریت کو سامنے لایا جاتا ہے گلگت بلتستان میں پھیلنے والی فرقہ واریت کے ہم سب ذمہ دار ہیں اچھے معاشرے کی تشکیل میں پروفیسرز اپنا کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں پروفیسر ز اینڈ لیکچراز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی جعفر اللہ خان نے کہا کہ فرقہ واریت کی بنیاد پر بننے والے تعلیمی ادارے ایٹم بم سے کم نہیں ہیں آج تک گلگت بلتستان میں جیتنے بھی فسادات ہوئے ہیں اس کی چنگاری تعلیمی اداروں سے اٹھی اور پورے شہر میں شعلے بلند ہوئے گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر بننے والے تعلیمی اداروں کا خاتمہ ناگزیر ہے بیرونی مداخلت کی وجہ سے سرکاری تعلیمی ادارے بالخصوص یونیورسٹی میں حالات خراب ہوئے ہمارے کوشش ہے کہ ان نفرتوں کو ختم کریں فرقہ واریت اور لسانیت کا خاتمہ اولین ترجیح ہے انہوں نے کہاکہ پروفیسز کی سوچ عام آدمی کی سوچ سے یکسر مختلف ہوتی ہے پرامن اور بہترین معاشرے کی تشکیل آپ کی کوشش سے ممکن ہے گلگت بلتستان کو پرامن خطہ بنانے اور اچھے معاشرے کی تشکیل کا بیڑا اٹھائیں حکومت آپ کا ساتھ دے گی انہوں نے مزید کہاکہ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم کی ترقی پر توجہ دی جاتی ہے اور تعلیم سے وابستہ افراد کو غیر معمولی عزت دی جاتی ہے اور قانون سازی میں شامل کیا جاتا ہے پروفیسرز ایسوسی ایشن پالیسیز بناکر دیں اسمبلی میں لے جائیں گے وزیر اعلیٰ کی بھی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان میں ماڈل تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں پرائمری لیول تک تعلیم کو خواتین کے حوالے کرنے کیلئے اقدامات جاری ہے تعلیمی پالیسیز کیلئے پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے نومنتخب صدر راحت شاہ نے کہاکہ پروفیسرز ایسوسی ایشن کے قیام کامقصد حقوق اور مراعات کیلئے پریشر گروپ بنانا نہیں بلکہ علاقے میں تعمیر و ترقی اور معیار تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تجاویز اور آراء متعلقہ حکام اور ارباب اختیار تک پہنچانے کیلئے آپس کے اچھے آئیڈیاز کو شیئر کرنا اور اچھے معاشرے کی تشکیل کیلئے عملی اقدامات اٹھانا ہے گلگت بلتستان کے کالجز میں ہر طبقہ ، ہر سوچ و فکر اور ہر طرح کے طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں وہ تعلیمی ماحول نہیں جو ایک تعلیم دینے اور تعلیم حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے جس کی وجہ گلگت بلتستان کے پروفیسرز اور لیکچرز کی محنت کا ثمر سامنے نہیں آسکتا گلگت بلتستان کے پروفیسرز اور لیکچرز میں وہ اہلیت اور قابلیت موجود ہے جو ایک طالب علم کی بہتر رہنمائی اور معیار تعلیم کیلئے درکار ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام بیوروکریٹس، سیاستدان اور اعلیٰ شخصیات اپنے بچوں کو ٹیوشن کیلئے سرکاری کالجز میں پڑھانے والے پروفیسرز اور لیکچرز کے پاس بھیجتے ہیں راحت شاہ نے کہاکہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان میں 2ماڈل کالجز بناکر دے اور سیاسی و مذہبی مداخلت سے بالاتر ہوکر سرکاری کالجز کے پروفیسرز اور لیکچرز تعینات کرے 2سالوں میں غیر معمولی نتائج دیں گے اور ماڈل کالجز میں زیر تعلیم طلباء ملکی سطح کے اعلیٰ تعلیمی معیار کے ہوں گے انہوں نے کہاکہ تعلیمی سرمایہ کاری کے نتائج دو چار سالوں میں سامنے نہیں آتے بلکہ کئی سال لگتے ہیں گلگت بلتستان ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تحت چلنے والے تعلیمی ادارے متوازن معاشرے کی تشکیل میں نہ صرف رکاوٹ ہیں بلکہ ایسے ادارے سے فارغ التحصیل طالب علم معاشرے میں ایڈجسٹ نہیں ہوپاتے اور غیر متوازن معاشرہ تشکیل پاتا ہے ایسے میں علاقے کو نقصان پہنچانے کیلئے بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں انہوں نے کہا کہ پروفیسرز ایسوسی ایشن کی نومنتخب کابینہ ان اقدامات کو آگے بڑھائے گی جو سابق کابینہ نے اٹھائے ہیں ایسوسی ایشن جہاں اپنے حقوق کی بات کرے گی وہاں گلگت بلتستان میں معیار تعلیم میں اضافہ کیلئے ایسوسی ایشن حکومت اور فیکلٹی ممبران میں پل کا کردار ادا کرے گی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق صدر گلگت بلتستان پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن محمد زمان نے پروفیسرز ایسوسی ایشن کی کارکردگی پرروشنی ڈالی جبکہ پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن کے نومنتخب سینئر نائب صدر علی رضا نے گلگت بلتستان کے کالجز اور فیکلٹی ممبران کو درپیش مشکلات سے مہمانوں کو آگاہ کرایا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔