انسانی جانیں خطرے میں ہیں

انسانی جانیں خطرے میں ہیں

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پوری رات برف باری جاری رہی ،خلاف توقع نومبر کے مہینے میں ہی برف باری شروع ہو گئی تھی، مجھ سے صبر نہیں ہوا کمرے کا دروازہ کھول کر آسمان سے گرتی ہوئی برف کی طر ف دیکھتا رہا جو زمین پر سفید چادر بچھا رہی تھی، بار بار حالیہ زلزلے سے متاثرہ خاندانوں کا خیال آرہا تھا، جو مجھے سونے نہیں دے رہا تھا، پتہ نہیں وہ خیموں میں اس شدید برف باری میں کیسے گزارا کر لینگے ، کبھی خیال آتا کہ بیچارے معصوم بچے، خواتین اور بزرگ کس حال میں ہونگے، مجھے مقامی ہوٹل کے ایک کمرے میں دو کمبل اوڑھنے کے باوجود شدید سردی کا احساس ہو رہا تھا ، سردی کی شدت میں رفتہ رفتہ اضافہ ہو تا جا رہاتھا، کچھ دن قبل یہاں زلزے نے کئی گھرانوں کو مسمار کر دیا تھا او ر یہاں کے لوگ بے سرو سامانی کے عالم میں خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے تھے، گزشتہ روز ہمارا اس علاقے کا دوسرا دورہ تھا ، ہم الخدمت فاونڈیشن گلگت بلتستان کی طرف سے متاثرہ خاندانوں میں خیمے، رضائیاں ،خشک راشن ، ترپال اور گرم کوٹ تقسیم کرنے آئے تھے ، زلزلے کے بعد ہمارا مسلسل دوسرا دورہ تھا کیوں کہ کچھ گھرانے شروع کی ریلیف میں ہم سے رہ گئے تھے، ہمارے ساتھ الخدمت کے رضاکاروں کے علاوہ 5 افراد پر مشتمل ٹیم بھی موجود تھی ۔
صبح تک سطح سمندر سے تقریبا 10ہزار فٹ بلندی پر واقع تحصیل پھنڈر کو برف کی چادر نے مکمل طور پر لپیٹ لیا تھا۔26 اکتوبر کے روز شدید زلزلے کے باعث دیگر علاقوں کی طرح اس علاقے کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا، وادی پھنڈر کے ڈڈمل، سربل، گلوگ، پھنڈر پائین، جعفر آباد، رحیم آباد اورریسٹ ہاوس سے متصل انوٹک گاوں کے سینکڑوں گھرانے بے گھر جبکہ تقریبا تمام گھر وں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ، اس اچانک افتاد کے بعد زمینی رابطے اور مواصلاتی نظام کی بندش کی وجہ سے اس علاقے کے لوگ تین دن تک دیگر دنیا سے کٹ کر رہ گئے، نہ تو ان بے گھر خاندانوں کو کسی کی امداد پہنچی نہ ہی کسی نے داد رسی کی، کئی گھرانوں میں فاقے پڑ گئے، چوتھے روز ڈسٹرکٹ انتظامیہ نے سڑک کی رکاوٹوں کو صاف کر کے ذرائع نقل و حمل کو بحال کر دیا ، جس کے بعد انتظامیہ اور دیگر فلاحی ادارے یہاں پہنچے، اور امدادی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔
برف باری کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، ہمارے لئے ایک بہت بڑا امتحان بھی تھا کہ اس شدید برف باری میں ہم کیسے متاثرہ خاندانوں تک ریلیف پہنچائیں ، ناشتے کے دوران ہماری پوری ٹیم نے باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا چاہے کچھ بھی ہو ہم متاثرین میں ریلیف ضرور تقسیم کرینگے، ایک جذبہ سب کے دلوں میں پیدا ہو گیا تھا، ہم ایک دو دن اگر اس برف کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ان بھائیوں کا کیا جن کے سروں سے چھت اٹھ چکی ہے اور انہوں نے اس برف باری میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرنا ہے ، پوری ٹیم کے اندر خدمت خلق کا جذبہ بھر چکا تھا، سب نے کمر کس لی اور برف کی پرواہ کئے بغیر متاثرہ علاقوں کا رخ کر لیا،رات سے جاری برف باری کی وجہ سے زلزلے کے فورابعد مہیا کئے گئے کئی خیمے برف کا بوجھ برداشت نہ کر سکے تھے اور زیادہ تر خیمے گر گئے تھے۔
ایک گرے ہوئے خیمے کے قریب ایک خاتون افسردہ بیٹھی ہوئی تھی ، انکا کہنا تھا کہ ایک خیمہ ملا تھا وہ بھی چلا گیا، عجیب مناظر ہر طرف پھیلے ہوئے تھے، اللہ کی طرف سے ان لوگوں کی آزمائش میں کمی نہیں آرہی تھی ، ابھی زلزلے کے نقصانات کا ازالہ ہوا نہیں تھا برف باری نے لوگوں کو اور زیادہ حراساں کیا ہوا تھا، کئی گھرانوں میں ابھی بھی فاقے تھے، ایک شخص جس نے غالبا اپنا نام رحمت بتایا روتے ہوئے فریاد کی کہ میرے گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے کل رات بھوکے پیاسے سوئے ہیں ، یہ سن کر کلیجہ منہ کو آگیا ، ہر طرف دل کو چیرنے والی مثالیں موجود تھیں اور ہم ان کی مصیبتوں کے چشم دید گواہ تھے۔
حکومتی سطح پر کئے جانے والے اقدامات سے مقامی لوگ ناخو ش تھے ، انکا مطالبہ تھا کہ ہمیں فوری طور پر شیلٹرز فراہم کئے جائیں تاکہ ہماری زندگیاں بچ سکیں، ہم لوگوں کی دکھ بڑی داستانیں بھی سن رہے تھے اور ساتھ ساتھ امدادی سرگرمیاں بھی جاری تھیں، برف باری کے باوجود رضاکاروں نے خیمے لگانے کا کام شروع کر دیا تھا، متاثرین میں رضائیاں اور خشک راشن تقسیم ہورہا تھا، فلاحی ادارے اپنی بساط کے مطابق ہی امدادی سرگرمیاں کر سکتیں ہیں، لیکن متاثرین کے دکھوں کا مداوا اس سے ممکن نہیں تھا۔
خیموں میں آباد متاثرین کے ساتھ ساتھ برف باری کی وجہ سے جن گھروں میں حالیہ زلزلے کی وجہ سے دراڑیں پڑیں تھیں انکو بھی شدید خطرہ لاحق ہوسکتا تھا، دوپہر تک دو فٹ تک برف جم چکی تھی ، یہاں کی آبادی کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، خدانخواستہ برف باری کا سلسلہ جاری رہا تو انسانی جانوں کے زیاں کا بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، اگر فوری طور پر متاثرین کو شیلٹرز فراہم نہیں کئے گئے تو مستقبل میں ان لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتیں ہیں ، حالات کا جائزہ لیتے لیتے دل سے دعا نکل رہی تھی کہ اللہ ان لوگوں کو اس آزمائش کی گھڑی سے نکالے، ایک جگہ ایک چھوٹا سا بچہ اپنے خیمے سے برف اتار رہا تھا، کہیں لوگ برف بار ی کے باوجود اپنے تباہ شدہ گھروں سے سامان نکالنے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔
شام تک ہم نے کئی متاثرہ علاقوں میں ریلیف کا سامان تقسیم کیا اور واپس ہوٹل کا رخ کیا ، اگلے روز بھی یہ سرگرمیاں جاری رہیں ، رات گئے انتظامیہ کے مقامی نمائندوں سے بات چیت میں معلوم ہوا کہ وسائل کی کمی کی وجہ سے انتظامیہ بھی متاثرین تک انکا حق پہنچانے سے قاصر ہے ، اور اصل حقدار امداد سے محروم رہ رہے ہیں، ایک عدد خیمہ مہیا کرنے سے متاثرین کی تکالیف کا ازالہ ممکن نہیں ۔موجودہ حکومت کو خصوصا وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کو ہنگامی بنیادوں پر اس علاقے میں انتظامیہ کی طرف سے جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینا ہوگا اور خود بھی دورہ کر کے یہاں کے متاثرین کی داد رسی کے ساتھ ساتھ انکے مستقل حل کیلئے اپنا خصوصی کردار ادا کرنا ہوگا ، بصورت دیگر اگر موسم کی یہی روش رہی تو کل کیا ہوگا یہ اللہ کو معلوم لیکن خدانخواستہ کسی بھی قسم کے حادثے کے صورت میں صوبائی حکومت پر سوالیہ نشان لگ جائیگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔