سکردو کو صاف پانی کی فراہمی کا مسلہ، سپریم اپیلیٹ کورٹ نے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی

سکردو (پ ر) چیف جج گلگت بلتستان جناب جسٹس ڈاکٹررانا محمدشمیم صاحب کی سربراہی میں، چیف جج صاحب اور جناب جسٹس مظفر علی صاحب پر مشتمل بنچ نے سکردو برانچ رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت کی اور 05 کیسز نمٹا دیے۔ سکردو کی عوام کے لیئے صاف پانی کی فراہمی کے ازخودنوٹس کیس میں عدالت نے جناب محمد اعظم صاحب ،رجسٹرار، سپریم ایپلیٹ کورٹ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ، جس میں جناب شیر مدد، ایڈوکیٹ جنرل گلگت بلتستان، جناب محمد عیسٰی ایڈوکیٹ، صدر سپریم ایپلیٹ کورٹ بار ایسو سی ایشن، جناب شوکت علی سینئر ایڈوکیٹ، سپریم ایپلیٹ کورٹ، جناب موسٰی رضا ، ڈپٹی کمشنر سکردو، جناب وزیر تاجور، چیف انجینئر PWD ، جناب شاہد شگری، ڈائریکٹر انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی، جناب جوہر علی، پراجیکٹ ڈائریکٹر سدپارہ ڈیم WAPDA اور مینیجر، PTDC سدپارہ، شامل ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ گلگت بلتستان کے حکم کے مطابق یہ کمیٹی اپنی سفارشات ۱۹ نومبر، ۲۰۱۵ تک عدالت میں پیش کرے گی تاکہ سکردو کی عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے دیرینہ مسئلہ کا مستقل حل کیا جا سکے۔

کمیٹی نے واٹر فلٹریشن پلانٹس، پاور ہاوس ۔۱ اور PTDC ہوٹل سدپارہ ڈیم کا دورہ کیا ۔ اس دوران جناب رجسٹرار صاحب نے موقع پر موجود افسران کو صاف پانی کی فراہمی کے حوالے سے اور سکردو میں بجلی کی کمی پوری کرنے کے لیے بھی محتلف ہدایات جاری کیں۔ کمیٹی ایک دن میں مجوزہ رپورٹ رجسٹرار صاحب کو پیش کرے گی جسے بعد میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments