گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور کشمیری رہنما

گلگت بلتستان کے آئینی حقوق اور کشمیری رہنما

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: محمد ابراھیم اسدی

گلگت بلتستان کے عوام بائی چانسز(By Chance) پاکستانی نہیں بلکہ بائی چوائس(By Choice) پاکستانی ہے خود سے گلگت بلتستان کو آزاد کرا کر پاکستان میں شامل ہوا ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان کے نااہل حکمرانوں نے ہمیشہ کشمیریوں کے دباؤ میں اس خطے کی آئینی حقوق کو دبا نے کی کوشش کی اس وقت ملک کے کچھ حصوں میں پاکستان سے علیحدہگی کی تحریکیں چل رہی ہے اس کے باوجود گلگت بلتستان میں پاکستان کے ساتھ الحاق اور آئینی صوبہ بنانے کی تحریک چل رہی ہے اس لیے اب حکومت کو چاہئے کہ وہ جلد گلگت بلتستان کو وطن عزیز پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنائے آئینی صوبہ گلگت بلتستان کے عوام کا بنیادی حق بنتا ہے اور آگر خدا نہ خواستہ پاکستان کے وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ نہ بنا یا تو پھر ایک آزاد ریاست کے قیام کی بات کر نا گلگت بلتستان کے عوام کا حق بنتا ہیں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے میں اقوام متحدہ کی کوئی قرارداد رُکاوٹ نہیں اور نہ ہی ان میں گلگت بلتستان کا تذکرہ موجود ہے پھر بھی میرے سمجھ میں نہیں آتا کشمیر کے رہنما کیوں گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کے راہ میں رکاوٹ بن کر ہندوستان کے ایجنڈے کو تقویت دینے میں مدد گار بن رہے ہیں آزاد کشمیر کے حکمران خود تو 68 سالوں سے اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں تب کبهی ان کو گلگت بلتستان یاد نہیں آیا 2009 سے جب بھی اسلام آباد گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت سے مطلق کوئی بات کرتے ہیں کشمیری رہنماؤں کو تکلیف شروع ہو تی ہے اور الٹے سیدھے بیانات گلگت بلتستان دشمنی پر مبنی دیتے ہیں. کشمیری رہنما جان لیں گلگت بلتستان آپ کے باپ کی جاگیر نہیں اور نہ ہی ہمارے آباواجداد نے کشمیریوں کے ساتھ الحاق کے لئے ڈوگراراج سے لڑکر آزادی حاصل کی ہے کشمیری عوام کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کو بس اتنی ہمدردی ہے جتنی ہمدردی آپ کے ساتھ پنجاب بلوچستان سندھ خیبر پختون والوں کو ہیں بس اس سے زیادہ دہ کچھ نہیں گلگت بلتستان کے سقافت سے لیکر ہر چیز آپ سے مختلف ہے اور آگر کسی حوالے سے آپ سمجھتے ہیں آپ کا حصہ تھا تب بھی گلگت بلتستان کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کر نے کا حق حاصل ہے دنیا میں آزادی کی تحریکیں چلتی ہی اسی لئےہیں.جہاں تک کشمیر کے ایک نامونہاد رہنما کےاس بیان کا تعلق جس نے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کی کوشش کی اس کا قبر تک پیچھا کرینگے کشمیری اس رہنما کو چاہیے ان کا پیچھا کرنے کی بجائے ہندوستانی فوج کا پیچھا کریں جس کے لیے گلگت بلتستان کے جوان 60 سالوں سے تمہارے ساتھ بغیر کسی حقوق کے دیتے آئے ہیں اور کچھ لوگوں کا خیال ہیں گلگت بلتستان کو مسلکی بنیادوں پر کوہستان اور چترال کو ملا کر صوبہ بنا دیا جائے میں سمجھتا ہوں یہ ایک خطرناک سازش ہے گلگت بلتستان کو فرقہ واریت کی لعنت میں تقسیم کر نے کا اور الحمدللہ گلگت بلتستان میں آئینی حقوق کے حوالے سے کسی بھی مسلکی میں اختلاف نہیں اس حوالے سے 90 فیصد لوگ متحد ہیں اور ایک پیج پر ہیں پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ چاہتے ہیں باقی 10 فیصد میں 5فیصد لوگ مسلکی بنیاد پر کشمیر کی بات اور 5فیصد لوگوں الگ ریاست کی بات کر تے ہیں.اور گلگت بلتستان کے عوامی منتخب قانون ساز اسمبلی کے معزز ممبران نے بھی مکمل آئینی صوبے کے لئے کئی بار متفقہ طور پر قرارداد پاس کی ہیں ان تمام معاملات کے بعد گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ نہ بنا نے کی 

کو ئی وجہ باقی نہیں رہتا ہے اس لئے اب بغیر کسی اے پی سی بلاکر اور کمیٹیاں تشکیل دے کر ٹائم کا ضیاع کیے بغیر پاکستان کے تمام اداروں کو مل بیٹھ کر گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانا چاہئے. 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔