گلگت بلتستان میڈیا کنونشن

گلگت بلتستان میڈیا کنونشن

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Safdar Logoکچھ عرصہ قبل برطانیہ میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کے حوالے سے عطاء الحق قاسمی صاحب کا کالم پڑھ کر دل میں اچانک ایک آس ابھری کہ کاش ہمارے یہاں بھی کوئی اس قسم کا ایونٹ منعقد کیا جاتا! لیکن بہت جلد گلگت پریس کلب کے صدر طارق حسین شاہ اور انکی ٹیم نے گلگت بلتستان سطح پر ایک میڈیا کنونشن کا اہتمام کرکے اس خواہش کو حقیقت میں بدل ڈالا۔ یہ گلگت بلتستان کی صحافتی تاریخ کا پہلا موقع تھا جس میں خطے کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ صحافیوں کی ایک کثیرتعدادنے شرکت کی۔

کنونشن صبح ساڑھے نو بجے سے شروع ہوکر تقریباً رات نو بجے اختتام پذیر ہوا‘جس دوران صحافیوں کی پرمغز باتوں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی اراء سے بھی اگاہی حاصل ہوئی۔ پہلے سیشن میں محکمہ سیاحت گلگت بلتستان اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام(اے کے ار ایس پی) کی جانب سے بالترتیب خطے میں سیاحت اور قیمتی پتھروں کے کاروبار کو فروغ دینے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اسی سیشن کے مہمان خصوصی ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی جعفراللہ خان نے ’’معاشرے میں جمہوری اقدارکو پروان چڑھانے میں صحافت کاکردار‘‘ کے موضوع پر مفصل گفتگو کی۔ دوسرا سیشن گلگت بلتستان کے صحافیوں کو پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں حائل رکاوٹوں اور ان کے حل کے لئے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے حوالے سے تجاویزپرمشتمل رہا‘جس میں ضلع گلگت سے سنیئرصحافی خورشید احمد،امتیاز علی تاج،بشارت مہند عباسی،غذر سے یعقوب عالم طائی،استور سے رانا فاروق،سکردو سے نثار عباس،ہنزہ سے اکرام نجمی،نگر سے اقبال راجوا،گوجال سے نورپامیری اور دیامر سے فیض اللہ فراق نے اپنے اپنے اضلاع کے صحافیوں کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے حل کے لئے مفید تجاویز دیئی۔جبکہ ضلع گانچھے کے معروف صحافی و کارٹونسٹ اقبال بلتی عرف (اپو) کی میٹھی میٹھی باتوں اور مزاحیہ انداز اوردیامر سے بزرگ صحافی حاجی سرتاج خان کی طویل صحافتی تجربات اور نوجوان صحافیوں کے لئے مخلصانہ مشوروں نے تو کنونشن کی خوبصورتی کو چارچاند لگا دیا۔ اسی سیشن کے خاص مہمان گورنرگلگت بلتستان میرغضنفرعلی خان تھے ‘جنہوں نے خطے میں مقامی گورنر کی تقرری اور جمہوریت کی بالا دستی کے لئے مقامی صحافیوںکی خدمات کو خوب سراہتے ہوئے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے فوائد سے گلگت بلتستان کو فیض یاب کرانے کے حوالے سے صحافیوں کو کردار ادا کرنے پر زوردیا۔ یوں گورنر صاحب کی رخصتی کے ساتھ آخری سیشن کا آغاز ہوا‘جو تمام ضلعی پریس کلبوں کے صدور،صوبائی وزیراطلاعات محمدابراہیم ثنائی اور وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کے خطابات پر مشتمل تھا۔ اس سیشن میں اگرچہ تمام مقررین کے خطابات قابل دید تھی‘ تاہم غذر پریس کلب کے صدر راجہ عادل غیاث کی خوبصورت شاعری،سنیئرصحافی منظرشگری کا انداز نظامت اور کنوشن کے روح رواں وگلگت پریس کلب کے صدر طارق حسین شاہ کی دبنگ تقریر نے دسمبر کی اس ٹھٹرتی سردی میں سیدحسن(مرحوم) میموریل حال کو جلتی انگیٹھی کی طرح گرما دیا۔

اس سیشن کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن تھے جنہوں نے اپنی تقریر میں علاقائی صحافیوں کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل کے لئے قانون ساز ی کی یقین دہانی کروائی۔ قبل ازیںگلگت پریس کلب کے صدر طارق حسین شاہ نے صحافیوں کی مشترکہ تجاویزکوضلعی پریس کلبوں کے صدورکی مشاورت سے ایک اعلامیہ کی شکل میں پیش کیا جس میں گلگت بلتستان کے تمام صحافی جو کسی بھی قومی یا علاقائی اخبار سے منسلک ہیں‘ کو قومی سطح پر حکومت کی جانب سے منظور کردہ پالیسی اورویج بورڈ ایوارڈ کے تحت تنخواہیں اور مراعات کی فراہمی، تمام پریس کلب کو سالانہ بنیادوں پر
گرانٹ ان ایڈ دینے ، صحافیوں کی ملکی و علاقائی سطح پر پیشہ ورانہ تربیت کے لئے پالیسی مرتب کر نی، صحافیوں کے لئے انشورنس سکیم کا بندوبست کرنے سمیت متعدد مطالبات شامل تھی۔

علاوہ ازیں،کنونشن میں تمام ضلعی صدور نے اس بات پر اتفاق کیا کہ گلگت بلتستان کے تمام پریس کلبوں کا آئین ایک ہی طرز پر مرتب کیا جائیگا اور ہر پریس کلب اپنی جنرل باڈی سے اس کی باضابط منظوری کے بعد نافذ کریگی۔جبکہ پریس کلب کے صدور اور شرکاء کنونشن کی تجویزپر متفقہ طور پرگلگت بلتستان لیول کی ایک باڈی بنانے کی منظوری دی گئی جوکہ’’ گلگت بلتستان پریس کونسل‘‘ کہلائے گی ۔کونسل گلگت بلتستان سطح پر صحافیوں کی نمائیدگی کریگی اور صحافیوں کے حقوق کیلے جدوجہد کریگی۔نیز گلگت بلتستان لیول پر جنرلسٹ یونین بھی ایک ہوگی جو کہ’’ گلگت بلتستان یونین آف جنرلسٹ‘‘ کہلائے گی ،دونوں صوبائی سطح کی تنظیموں کے علاوہ تمام اضلاع کے پریس کلب کے الیکشن ایک آئین کے تحت ایک ہی دن ہونگی۔اس کے علاوہ تمام صحافیوں کے لئے پیشہ ورانہ امورکی بہتر سے بہتر انجام دہی اور علاقے میں اس مقدس پیشے کے تقدس ووقار کو بلند رکھنے کے لئے ایک صحافتی ضابطہ اخلاق بھی مرتب کیا گیا جوکہ بذریعہ ای میل تمام صحافیوں کو اسی وقت ہی ارسال کردیا گیا۔ گلگت بلتستان سطح پر منعقد ہونے والے اس تاریخی کنونشن سے جہاں دوردراز علاقوں سے آئے ہوئے صحافیوں کی ایک دوسرے شناسائی ہوئی‘ وہی پر صحافیوں کو درپیش مسائل اور خطرات کا جائزہ لینے اور اس سلسلے میں کوئی جامع حکمت عملی مرتب کرنے کا بھی موقع ملا۔ کیونکہ آج کے اس نفسانفسی کے عالم میں ہرانسان کو اجتماعی مسائل کا حل تلاش کرنے سے زیادہ فکر ذاتی مفادات کا حصول ہوتا ہی۔ ویسے بھی گلگت بلتستان میں صحافی وہ واحد طبقہ ہے جو خودطرح طرح کے مسائل کے گرداب میں پھنسنے کے باوجود ہمیشہ دوسروں کے مسائل کو اجاگر کررہا ہوتا ہے اور کوئی خدا کا بندہ نہیں جو ان صحافیوں سے ان کے اپنے مسائل دریافت کرسکی۔ایسی صورتحال میں صحافتی تنظیموں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس پیشے سے وابستہ افراد کے مابین اتحاد ویگانگت کی فضاء قائم رکھنے اور صحافیوں کو درپیش مشترکہ مسائل کے حل کے لئے وقتاً فوقتاً اس طرح ایونٹس کا اہتمام کرے تاکہ علاقے میں صحافتی شعبے کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکی۔اس کے ساتھ ساتھ صحافتی تنظیموں کی ذمہ داری یہ بھی بنتی ہے کہ وہ اپنے ممبران اور اس شعبے میں نئے قدم رکھنے والے صحافیوں کے لئے پیشہ ورانہ تربیت اورانہیں جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے مواقعے بھی تلاش کرے کیونکہ آج کے اس دورمیں قلم اور کاغذ کی جگہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے لے رکھی ہے اور اس کے استعمال میں مہارت کے بغیرجدید اورموثرصحافت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author