وزیراعلیٰ کا فرضی کالم

وزیراعلیٰ کا فرضی کالم

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

میں حافظ حفیظ الرحمن صدر مسلم لیگ نون آج پہلی بارآپ بیتی لکھ رہا ہوں بدقسمتی سے کہ جن افراد کو میں نے میڈیا ایڈوائز منتخب کیا تھا وہ سب غیرفعال نظر آئے لہذا موجودہ حالت کے تناظر میں میرے پاس
یہی آپشن تھا کہ میں خود اپنا مدعہ عوام کے سامنے رکھوں۔قارئین میں کوئی نظریاتی سیاسی کارکن نہیں تھا ،میں تو دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مذہبی سیاست کی طرف جانا چاہتا تھا لیکن میرے بھائی کو جب اپنوں نے بے دردی سے شہید کیا تو مقدر نے مجھے فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا،بھائی کی شہادت کا صدمہ ابھی ختم نہیں ہوا تھامشورہ دیا کہ سیف الرحمن شہید کو چونکہ سیاست میں کافی پذائرائی حاصل تھی وہ ہر مکتب فکر کیلئے پسندیدشخصیت تھی لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ یہ بیڑہ آپ ہی اٹھا لیں اور انکے مشن کو یعنی مسلکی اور علاقائی ہم آہنگی کے فلسفے کو آگے لیکر چلیں ۔میرے لئے ایسا ممکن نہیں تھا لیکن میں نے حامی بھر لی۔
میں نون لیگ کا صدرمنتخب ہوا تو لوگ مجھ سے توقعات کرنے لگے لیکن یہ تو میں جانتا تھا کہ میں سیف الرحمن نعم البدل نہیں کیونکہ میری سو چ اور فکر شہید بھائی سے قدرے مختلف تھا،لیکن میں نے یہ بات سب سے چھپائے رکھا کیونکہ میں لوگوں کی اعتماد کو کھونا نہیں چاہتا تھاجس میں مجھے کچھ کامیابی بھی ملی۔اس سیاسی سفر میں نے بہت سے اُتار چڑھاو دیکھا میری پارٹی کووہ پذیرائی حاصل نہیں تھی جو دوسرے وفاقی پارٹیوں کوتھی۔لیکن دوہزار نو کے الیکشن نے تو مجھے بلکل ہی نااُمید کیا مگر کچھ دوستوں نے کہا حافظ صاحب صبر کریں وقت بدلنے میں دیر نہیں لگتا،میں دل ہی دل میں کہتا رہامسلسل ناکامی نے میراحوصلہ پست کیا ہے۔یوں دوستوں نے حوصلہ بڑھا یا اور مشورہ دیا کہ آپ جارحانہ سیاست کریں اور لوگوں کو اپنے وجود کا احساس دلائیں ،میں نے ایسا ہی کیا جس میں کچھ حد تک سیاسی حلقوں میں میرا نام زیر بحث آنے لگا
مہدی شاہ کی حکومت پرتو میں نے آودیکھا نہ تاو، کھل کر تنقید کرنے کا عہد کیاتاکہ انکو ٹف ٹائم دے سکوں جس میں مجھے کچھ کامیابی ملی،اُس وقت میری نگاہ مقامی لکھاریوں کی طرف تھا روزانہ بنیاد پر مقامی اخبارات کا مطالعہمعمول بنایا تاکہ معلوم ہو سکے کونسے لکھاری مہدی شاہ حکومت پر کھل تنقید کرتے ہیں پورے پانچ سال میں ایک گمنام کالم نگار میرے سامنے ہی رہتا تھا وہ ہمیشہ حکومت پر کھل تنقید کیا کرتا تھا کافی کوشش کیا کہ وہ کہیں نظرآجائے تو ملکر تنقید کریں گے لیکن وہ کبھی کہیں نظر نہیں آیا لیکن اُس نے بھی ایک مرتبہ مہدی شاہ کے حق میں کالم لکھا تو دل ہی دل میں سوچا کہ اُس گمنام لکھاری کوبھی حکومت نے خرید لیا ،
لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ کھرمنگ ضلع کے اعلان کی خوشی میں وہ مہدی شاہ پر مہربان ہواتھا ۔بحرحال قصہ مختصر میں دن گناکرتا تھا کہ آخر کب پانچ سال پورے ہونگے آخر وہ دن کب آئے گا جب وفاق میں میاں صاحب تخت نشین ہو۔ اللہ اللہ کرکے الیکشن قریب تھا ہر وقت اللہ سے یہی دعا کرتا تھا کہ یااللہ اس بار میاں صاحب پر مہربان ہوجا تاکہ میرے لئے کوئی جانس بنے ،بس اسی سوچ میں گم ہی رہتا تھا کبھی دل چاہتا کہ موقع ملے تو گلگت بلتستان سے بھی کچھ لوگوں لے جاکر ووٹ کاسٹ کرادوں لیکن مسلہ یہ تھا کہ ہم چونکہ آئینی طور پر پاکستان کے شہری نہیں ہیں لہذا پاکستان کے معاملات میں دخل اندازی کا ہمیں حق بھی نہیں ہے۔ وفاق میں الیکشن کا اعلان ہوتے ہی میں نے مصلے پرڈیرہ جما لیا، اے مالک بس ایک مرتبہ میاں صاحب کو میرے لئے جتا دے ،بس اللہ میری سُن لی میاں صاحب اقتدار میں آگئے میں نے نوافل ادا کیا مٹھائیوں کی دوکانیں خالی کرادیا کیونکہ پہلی بار ایسا لگ رہا تھا کہ قسمت کی دیوی اب مجھ پر مہربان گئی ہے۔وفاق میں سیاسی تبدیلیوں کے بعد میں دیکھتا تھا کہ مہدی شاہ کچھ اداس سا ہوگیا ہے لہذا میں نے بھی ٹھان لیا کہ انکی اُداسی میں اضافہ کرنا ہے میرے اندر کا وزیراعلیٰ مجھے کہہ رہا تھا کہ جاگ حفیظ جاگ یہی وقت ہے تیرے لئے اس سے بہترین وقت کبھی نہیں آنے والا،میں نے کمر باندھ کر گلگت میں ڈیرہ ڈال دیا اپنے تمام کارکنوں کو ہدایت جاری کیا کہ اس مختصر وقت میں مہدی شاہ حکومت کے منفی پہلوں کو عوام کے سامنے لانا ہے عوام کو مکمل آئینی صوبے کا وعدہ کرنا ہے تاکہ آنے والے الیکشن میں جیت یقینی ہو ۔لیکن دل ہی دل میں خوش بھی تھا کیونکہ مجھے معلو م تھا کہ ہمارے ہاں وفاق میں برسراقتدار والی پارٹی ہی ہمیشہ جیت کا سہرا اپنے نام کرتے ہیں۔مجھے ان لوٹوں سے بڑا خوف آتا تھا جو ابن الوقت ہیں اور سیاسی مفاد کیلئے پارٹیاں بدلنا اُن کے نزدیک کوئی عیب نہیں، یہی وجہ تھی کہ میں نے کوشش کیا کہ کوئی پروفیشنل لوٹا ہماری پارٹی میں شامل نہ ہو لیکن میں ناکام ہواساتھ میں الیکشن بھی قریب تھا میرے لئے یہ لمحات ایک امتحان سے کم نہ تھا یوں میں نے حافظ کی ڈگری کو گلدان میں رکھکر متواتر جھوٹ اور بہتان پر مبنی بیانات وقت کی ضرورت سمجھ کر دیا جس پر مجھے دلی طور پر دکھ بھی ہے۔تمام پریشانیوں کے باوجود اُمید کی ایک شمع مجھے روشن دکھائی دے رہا تھا کیونکہ جیسے میں اوپر ذکر کیا کہ تخت گلگت کا مالک وہی ہونگے جنہیں وفاق کی آشیرباد حاصل ہو۔ بس ایک بات میرے دل میں بار بار کھٹکتی تھی کہ کہیں یہ لوٹے جیت کر میرا پتہ صاف نہ کردے لیکن دوستوں نے کہا کہ آپ ہی وزیر اعلیٰ بنو گے امید رکھیں اور اپنے حلقے سے جیت کو یقینی بنائیں ۔یہی وجہ تھی کہ ایک مولوی صاحب کی خدمات حاصل کرکے ماضی کے وہ تمام منفی پہلوں کو اکھٹا کرنا شروع کیامیں نے پورے دیامر میں عقیدے کی تحفظ کیلئے کرسی کی ضرورت پر زور دیا،یہ باتیں ہمارے معاشرے کیلئے کوئی نیک شگون تو نہیں تھا لیکن اقتدار نے مجھے ایسا کہنے پر مجبور کیا جس کیلئے مجھے خود دلی طور پر شرمندگی ہورہی ہے۔میری جیت میں دومولوی صاحبان کا بڑا کردار ہے کیونکہ اگر یہ دو مذہبی شخصیات الگ الگ پلیٹ فارم سے الیکشن نہیں لڑتے تو میرے لئے مسائل پیدا ہونا تھا لہذا اللہ بھلا کرمیاں صاحب کا جنہوں عین الیکشن کے موقع پر کلعدم تحریک جعفریہ کو بحال کرکے سیاست کا کایا پلٹا دیا۔مہدی شاہ سے مجھے کوئی خوف نہیں تھا کیونکہ اُنہیں عوام پہلے ہی مستردکر چُکا تھا ۔یوں الیکشن کے بعد کی صورت حال پر اگر میں روشنی ڈالوں تو جیت کی خوشی کے ساتھ بجٹ سر پرتھا احباب سے بجٹ کا ذکر ہوا تو پتہ چلا سب کچھ تیار ہیمیں نے بس پڑھ کر سُنانا ہے چلیں یہ مرحلہ بھی گزر گیا ۔یوں حکومت بننے کے بعد مجھے سیاسی طور پر ساکھ بنانے کی ضرورت تھی کیونکہ آگے مسائل کی انبار ہے اور مجھے اس حوالے سے کوئی تجربہ نہیں۔کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا میں کیا کروں اسی اثنا میں ایک ہمارے خاص دوست صحافی نے اپنے ایک کالم میں مجھے عالم دین کا لقب دیکر مزید پریشان کیا سوچا موصوف کو فون کرکے ڈانٹوں لیکن صبر کیا۔بات کو مختصر کریں تو اقتصادی راہداری نام کا مصیبت سامنے آیا میرے لئے نیا امتحان شروع ہوا لوگ مجھے عالم دین سمجھ رہے تھے اور میں اپنے اندرکا حافظ بھی اقتدار میں آنے کے بعد ختم ہوتے دیکھ رہا تھا کیونکہ ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے مجھے روزانہ کی بنیاد پر کئی جھوٹ بولنا واقعی میں تکلیف دہ مرحلہ تھا۔میرے اندرکی قومی غیرت مجھے بار باربتانے کی کوشش کرتی رہی کہ تم قوم کے ساتھ ذیادتی کر رہے ہو لیکن یا اللہ ایسا اقتدار کسی کو نصیب نہ کرے جہاں نظریہ اور قوم پر سواد بازی کرنا پڑے۔ بحرحال میں خود کو قومی مجرم سمجھتا ہوں کیونکہ میں نے قومی سپوتوں کو غدار کہا میرے اندر کی انسانیت شرما گئی جب میں نے گلگت بلتستان کو مسلک کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بارے میں کہا ،میرے لئے نہایت ہی تکلیف کا مقام تھا جب میں نے قومی مسائل کا اصل ذمہ دار سابق حکومت کو ٹہرایا حالانکہ میں اچھی طرح جانتا تھا اُن کے ہاتھ بھی خالی تھے اُنہیں بھی مشیروں نے دھوکہ دیا جیسے آج کل مجھے دیا جارہا ہے۔یقین کریں میں اُس رات کو سو نہیں پاتا تھا جب میں کسی ٹی وی پر بیٹھ کر اپنے ہی لوگوں کے خلاف من گھڑت الزامات لگا کر آتا تھا ۔میں نے تنہائی میں ریاست کے ساتھ ہونے ظلم ذیادتیوں کے بارے میں سوچا لیکن میں کیا کرتا اقتدار کی اس کال کوٹھری کے سبب میرے پاس خاموش رہ کر جھوٹ بولنے کے کوئی چارہ نہیں تھا۔ بس دل ہی دل میں روکر اللہ سے یہی شکوہ کرتا تھا اے خدا میرے ساتھ یہ کیا ہوا میں حافظ قرآن اور اقتدار کی اس دیوی نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا۔باتیں تو بحرطویل کی طرح ہے مگرکالم میں وسعت نہیں،اسی طرحجن لوگوں کو میری رہنمائی کیلئے مشیر بنایا وہ بھی میرے کسی کام کا نہیں ایک صاحب نے میرے حق میں کالم لکھا اُن صاحب کو میں نے الیکشن کے دنوں میں سرکاری ٹی وی تجزیہ دینے کیلئے سفارش کی تھی لیکن لکھتے ہیں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے،میرا تو پسینہ چھوٹ گیا کیونکہ صاف معلوم ہورہا تھا کہ یہ سرکاری پیڈ لکھارہیں حالانکہ میں نے کہا بھی تھا میڈیا پر ایسا تاثر دینا جیسے ایک عام صحافی بیان کرتے ہیں لیکن اُنہوں نے تو مجھے خوش کرنے کیلئے ناک ہی کٹوا دیا۔اب میں کیا کروں سب نالائق لوگ میرے ارد گرد جمع ہیں، میں پارٹی کو چلاوں ،حکومتی معاملات دیکھوں ،یوتھ کا سامنا کروں میں کیاکروں۔؟ اس وقت میری حیثیت ایک ریموٹ کی طرح ہے جسے ہر کوئی اپنی مرضی سے چلاتے ہیں یارو میں پریشان ہوں مجھے معاف کرنا کیونکہ مجھے معلوم ہے میری دھرتی میں مسائل کی انبار ہیں لیکن میں مجبور ہوں میری کرسی مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ میں قوم کی بہتر مستقبل کے بارے سوچتے ہوئے قوم کیلئے درد رکھنے والوں کو سپورٹ کروں،دل تو بہت چاہتا ہے ان قوم پرستوں کو سپورٹ کرنے کا جنہوں ریاستی حقوق کی بہتر ترجمانی کا بیڑا اُٹھایا ہوا ہے مگر میں مجبور ہوں کیونکہ میرے گلے وزیراعلیٰ کا پھندا ہے ،میں قید میں ہوں، میرے عوام مجھے معاف کرنا میرے حق پرست ساتھیو مجھے معاف کرنا اصل لیڈر تو آپ لوگ ہیں ہم تو بس نوکری کرتے ہیں خدا گلگت بلتستان کے مسائل اور قومی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو سلامت رکھے آمین ثمہ آمین۔ آپکا اپنا بھائی حافظ حفیظ الرحمن۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔