دس سال گزر گئے لیکن دو کمروں پر مشتمل جمال آباد پرائمری سکول کی عمارت تعمیر نہ ہوسکی

دس سال گزر گئے لیکن دو کمروں پر مشتمل جمال آباد پرائمری سکول کی عمارت تعمیر نہ ہوسکی

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( اجلال حسین) دس سال گزر گئے، لیکن ضلع ہنزہ کے بالائی گاوں جمال آباد میں دو کمروں پر مشتمل پرائمری سکول کی عمارت مکمل نہ ہوسکی۔ ٹھیکیدار آدھے سے بھی کم کام کر کے غائب ہوچکا ہے۔ مقامی عوام کو مذکورہ ٹھیکدار کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق بالا ئی ہنزہ کے علاقے گاوں جمال آباد (مور خون) میں دس سال قبل دو کمروں اور ایک باتھ روم پر مشتمل پرائمری سکول کی عمارت پر کام شروع کیا گیا تھا۔  عمارت مکمل نہ ہونے کی وجہ سے گاوں کے بچے سخت سردی اور گرمی کے موسم میں آٹھ کلو میٹر دور سوست جانے پر مجبور ہیں۔ آج تک اس سکول کے بارے میں محکمہ تعمیرات عامہ یا ضلعی انتظامیہ نے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی ہے۔

عوام جمال آباد نے ضلعی انتظامیہ ہنزہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پرائمری سکول کی تعمیر میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ٹھیکیدار سے کام لیا جائے تاکہ معصوم بچے 8کلومیٹر کا طویل پیدل سفر کر کے سکول جانے پر مجبور نہ ہوں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔