قدرتی آفات سے متاثرہ مشکلات کا شکار ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، صبح سے شام تک چترال تا مستوج روڑ بند رہا

قدرتی آفات سے متاثرہ مشکلات کا شکار ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، صبح سے شام تک چترال تا مستوج روڑ بند رہا

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سیلاب اور زلزلہ سے متاثرہ ہزاروں لوگوں نے اپنے حق کیلئے احتجاج کیا۔ بونی ، چترال مستوج روڈ صبح سے شام تک بند رہا۔
چترال(گل حماد فاروقی) تحفظ حقوق چترال کے زیر نگرانی کوشت، کوراغ، مستوج اور دیگر بالائی علاقوں کے ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا۔ ان لوگوں کا موقف ہے کہ پہلے سیلاب کی وجہ سے ان کی گھر بار برباد ہوا پھر زلزلہ کی وجہ سے یہ لوگ بری طرح متاثر ہوئے مگر حکومت کے دعوے صرف اعلانات کی حد تک محدود رہی اور ابھی تک متاثرہ لوگ بے یار و مدد گار پڑے ہیں۔
احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کوشت کا پل تباہ ہوا، بمباغ میں سڑک، پل اور آبپاشی کی نہریں تباہ ہوئی مگر ابھی تک حکومت نے بحالی کا کام مکمل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موژ گول کا پورا گاؤں تباہ ہوا ابھی تک دس فٹ ملبہ پڑا ہے مگر نہ تو متاثرین کو امدادی رقم کی چک ملے نہ سامان۔
انہوں نے کہا ہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امدادی کارڈ بھی اکثر افسران، سرکاری ملازمین اور بااثر افراد کو جاری کئے گئے ہیں جن سے زیادہ تر غریب، نادار اور حقدار لوگ محروم رہ چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ لوگوں نے پہلے بھی احتجاج کیا تھا جس پر انتظامیہ نے یقین دہانی کی تھی کہ وہ ان کے مسائل حل کریں گے مگر ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا۔
احتجاجی جلسہ میں خواتین نے بھی شرکت کی اور وقتاً فوقتاً وہ بھی جلسہ سے خطاب کرتی رہیں۔ متاثرین نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے چترال کے دورہ کے دوران اعلان کیا تھا کہ جس کا جو بھی نقصان ہوا ہے ان کے ساتھ مالی طور پر امداد کیا جائے گا مگر ابھی تک متاثرہ لوگ اس امداد سے محروم ہیں اور انتظامیہ کے افسران نے من پسند لوگوں کو یہ امدادی چیک تقسیم کئے۔
متاثرین نے دن بھر چترال سے بونی مستوج روڈ بلاک رکھا شام کے وقت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عبد الغفار اور تحصیل ناظم محمد یوسف، نائب ناظم فخر الدین نے مذاکرات کے بعد احتجاج حتم کیا۔ تاہم کوشت سے تعلق رکھنے والے سابق ناظم بلبل خان ایوبی نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ انتظامیہ نے سات افراد کے حلاف مقدمہ درج کیا ہے انہوں نے کہا کہ اس سے حالات مزید حراب ہوسکتے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔