تحصیل اشکومن میں چند فٹ کا ایک ایسا پل بھی ہے جو گزشتہ آٹھ سالوں سے زیرِ تعمیر ہے، عمائدین

تحصیل اشکومن میں چند فٹ کا ایک ایسا پل بھی ہے جو گزشتہ آٹھ سالوں سے زیرِ تعمیر ہے، عمائدین

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چٹورکھنڈ(کریم رانجھا) ؔ محکمہ تعمیرات کی نااہلی،دائین ،شولجہ کے مابین چند فٹ کا پل گزشتہ آٹھ سالوں سے ادھورا ،با اثر افراد نے پیدل جانے کا راستہ بھی بند کردیا،مریضوں کو چار کلومیٹر تک پیٹھ پر لاد کر سول ہسپتال چٹورکھنڈ لایا جاتا ہے ،پل کی تعمیر نہ ہونے سے سکول جانے والے بچے اور بچیاں دائین مرکزی پل کے نیچے سے گزرنے پر مجبور ہے جہاں سلائیڈنگ کی وجہ سے قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے ،وزیر اعلیٰ نوٹس لیں ،

ان خیالات کا اظہار دائین شولجہ کے مکینوں محمد ولی ،ناصر خان ،تیغون ،شکور خان ودیگر نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ چالیس گھرانوں پر مشتمل آبادی شولجہ کودائین مین روڈ سے ملانے کے لئے خطیر رقم خرچ کر کے سڑک تعمیر کی گئی ،سڑک کے ساتھ ہی نالے پر چند فٹ کا پل بھی تعمیر کرنے کا منصوبہ تھا لیکن نالے کے دونوں اطراف کنکریٹ کا دیوار تعمیر کرنے کے بعد محکمہ تعمیرات کے نااہل افسران نے خا موشی اختیار کر لی اور عوام علاقہ کوگزشتہ آٹھ سالوں سے اذیت میں مبتلا کررکھا ہے۔علاقے کے عوام چونکہ انتہائی پسماندہ ہیں اسلئے ان کی شنوائی نہیں ہو رہی۔پل نہ ہونے کے باعث سڑک کی تعمیر کا مقصد ہی فوت دکھائی دیتا ہے۔

مکینوں کا مزید کہنا تھا کہ عوام شولجہ جیسے تیسے پیدل عوامی راستے کے زریعے آمدورفت جاری رکھے ہوئے تھے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے چند بااثر افراد نے مذکورہ چھ فٹ کا عوامی راستہ بھی بند کردیا ہے جس سے عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔بیماری کی صورت میں مریض کو پیٹھ پر ہسپتال پہنچایا جاتا ہے۔عوامی راستہ بند ہونے سے عوام سمیت سکول کے بچے اور بچیاں دائین مرکزی پل سے متصل پہاڑی کے نیچے سے آمدورفت جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے قیمتی جانوں کے ضیا ع کا خدشہ ہے۔علاقے کے مکینوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ،وزیر تعمیرات اور چیف انجئنئیر سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر پل کی تعمیر میں تاخیر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لایا جائے اور فی الفور پل کی تعمیر کا حکم جاری کرکے علاقہ مکینوں کی دادرسی کریں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔