دس مارچ تک ادائیگی نہیں ہوئی تو محکمہ واٹر اینڈ پاور کے دفاتر کی تالہ بندی کر دیں گے، ٹھیکیدار بپھر گئے

دس مارچ تک ادائیگی نہیں ہوئی تو محکمہ واٹر اینڈ پاور کے دفاتر کی تالہ بندی کر دیں گے، ٹھیکیدار بپھر گئے

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(بیورورپورٹ)دس مارچ تک ادائیگی نہ ہوئی تو ٹھیکیدار برادری محکمہ واٹر اینڈ پاور کے دفاترکی تالہ بندی سمیت تمام مرمتی کام بند کر دینگے۔2010کے سیلاب سے اب تک پاور ہاؤسز ،واٹر چینل کی بحالی اور مرمت،ٹرانسفارمرز کی مرمت اور گاڑیوں کی مرمت بینکوں سے قرضہ لیکر کروایا۔ابتک کوئی ادائیگی نہیں کی گئی اب نوبت فاقوں تک آئی ہے۔ متعلقہ حکام کے در پر فریادیں سنا سنا کر تنگ آگئے ۔محض طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں مل رہا اب مرتے کیا نہ کرتے پر عمل پیرا ہو کردس مارچ سے ضلع بھر میں محکمے کا پہیہ جام کر دینگے۔ان خیا لات کا اظہار ٹھیکیدار برادری کے راہنماؤں جانان،لیاقت ولی،شیر افضل،محمد افضل،بابو جان،کٹور خان،صبا الحق،نواب،محمد دین،رحیم جان،عبدالرشید،لال میر،دینار محمد،یوسف،شکور رحمت،سید جان،عبدالرحمت و دیگر نے پر ہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ان راہنماؤں کا کہنا تھا کہ کئی سالوں سے بغیر ادائیگی کے باوجود اب تک محکمے کا پہیہ چلایا ہے۔گاڑیوں کی مرمت سے لیکر ٹرانسفارمرز اور واٹر چینل تک کی مرمت کروائی مگر اب خود بچوں کی سکول فیس کے پیسے ادا کرنے کے قابل نہیں رہے۔بینکوں سے بھی قرضہ لیا اب نوبت فاقوں تک پہنچی ہے۔ اپنے مطالبات اور مسائل سے کئی بار حکام کو آگاہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے بھی تین قسطوں میں ادائیگی یقینی بنانے کا وعدہ کیا تھا۔مگر وہ وعدہ بھی وفا نہیں ہو سکا۔محکمہ واٹر پاور کو بار بار ریلیز سے محروم رکھ کر بی اینڈ آر کو فراہمی ٹھیکیدار برادری کرپشن اور زیادتی سمجھتی ہے۔ٹھیکیدار برادری تمام دروازے کھٹکھٹانے کے باوجود محروم رہ گئی ہے۔اب احتجاج کے باعث عوامی رد عمل سامنے آنے کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلیٰ اور متعلقہ اداروں کے حکام پر عائد ہوگی۔وزیر اعلیٰ ٹھیکیدار برادری کو مرمتی کام کی مد میں فنڈز کا اجراء فوری طور پر کروائیں۔تاکہ محکمہ واٹر پاور کا پہیہ جاری و ساری رہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔