دیہی ترقی کا سفر

دیہی ترقی کا سفر

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:نیاز اے نیازی
آغا خان ڈولپمنٹ نیٹ ورک پاکستان بھر میں دیہی ترقی کیلئے کام کررہی ہے جس میں صحت ،تعلیم،ہاؤسنگ، ڈسزاسٹراورمائیکرو بینکنگ کے ادارے نمایاں ہیں۔اے کے ڈی این کاایک ذیلی ادارہ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام پہلی دفعہ 1983 ؁ء کو چترال میں دیہی ترقی کا پروگرام متعارف کرایا تھا۔اُس زمانے میں چترال جیسا پسماندہ ودور افتادہ علاقہ کے لوگوں کو دیہی ترقی کے بارے میں بہت ہی کم معلومات اور آگاہی حاصل تھی۔رات کے وقت لوگوں کا جلدی سوجانے کا رواج تھا۔رات کوروشنی کا واحد ذریعہ لالٹین ہواکرتی تھی۔معلومات عامہ اور حالات حاضرہ تک رسائی کیلئے ٹیلی ویژن نہیں تھا، وائی فائی نہیں تھی۔ پورے گاؤں میں دویاچارافراد کے پاس ریڈیو سیٹ ہوا کرتے تھے۔آمدورفت کی جدید سہولیات میسر نہیں تھیں۔صحت وتعلیم بہت مہنگی چیز ہوا کرتی تھیں۔دوستوں اور رشتہ داروں کی خیریت دریافت کرنے کیلئے موبائل سیٹ اور ٹیلی فون کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ایسے میں دیہی ترقی کا تصور اور تنظیم کانام لوگوں کیلئے بالکل نئی چیز تھی۔دیہی تنظیم کیا تھی! ایک مکمل ریاست تھی اس ریاست کے پاس ایک خاص علاقہ تھا ،لوگوں کی ایک مخصوص آبادی تھی،اس ریاست کے پاس ایک اختیار تھا۔ یہ اختیار ترقی کا تھا۔مالیات کا ایک نظام تھا۔اس تنظیم کا اپنا صدر اور کابینہ ہوا کرتا تھا۔تنظیم کے تحت لوگوں کو یکجا کیا گیا اُن میں قاعدانہ صلاحتیں پیدا کی گئی۔گاؤں کے ہرفرد کی اہمیت اُجاگر کی گئی۔ لوگوں کو اپنے گاؤں کی ترقی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر اور دیکھ بھال کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔لوگوں کو روزگار کی طرف راغب کیا گیا ،جس نے جتنا کام کیا اُسکی اتنی قیمت مقرر کی گئی ۔اس تنظیم کے تحت گاؤں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے آپس میں مشاورت کامکینزم اور تصور دیا گیا۔جو خواتین بحیثیت ماں،بہن،بہو،بیٹی اور بیوی گھروں میں کام کرتی تھیں اُن کے کام اور مشقت کوسراہا گیا۔یہ ایک ایسا دور تھا جب انسانی حقوق ،خواتین کے حقوق اور بچوں کے حقوق کے علمبردارپیدا نہیں ہوئے تھے، انسانی حقوق کے تنظیم وجود میں نہیں آئی تھی۔ مگر آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے دیہی ترقی کے تصور کے تحت عملی طورپر انسانی حقوق ،خواتین کے حقوق اور بچوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کی جسکے نتیجے میں اس معاشرے کے محروم اور غریب طبقے کو حقوق ملنے شروع ہوئے۔اُن کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی۔فرائض کی ادائیگی کی تربیت دی گئی۔بچوں کو تعلیم کے حق ملنے لگے،فیصلہ سازی میں خواتین کے کردار کو اہمیت دی گئی۔مردوں کوبھی حقوق ملنا شروع ہوئے۔ تعلیم یافتہ اور ہنر مند مردوں کو باعزت روزگار میسر آنے لگے۔دیہی ترقی کے منصوبوں کی وجہ سے مزدور کو بھی مزدوری میسر آئی۔پن بجلی گھر تعمیر ہوئے۔بلب روشن ہوئے،رات دیر سونے کی عادت لوگوں میں آگئی۔بچے رات دیر تک کتاب پڑھنے شروع کئے۔معلومات عامہ اور حالات حاضرہ تک رسائی کے آسان ذرائع میسر آنے لگے۔نوجوانوں میں آگے بڑھنے اور بہتر طرززندگی کی جستجو پیدا ہوئی۔علاقائی فاصلے کم ہوئے، مذہبی اور فکری ہم آہنگی کو فروغ ملا۔ترقی کے دروازے کھلے۔اے۔کے ۔آر۔ایس۔پی نے 32سال پہلے چترال میں دیہی ترقی اور معاون تنظیموں کا جوتصور متعارف کرایا تھا اس تصور اور ڈھانچے کو دوسرے ادارے مثلاًچترال ایریا ڈولپمنٹ پروگرام،چترال انٹگریڈڈ پروگرام وغیرہ نے بھی اپنایا اور چترال کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال چکے ہیں۔نیشنل رورل سپورٹ پروگرام(این آر ایس پی) پاکستان بھی اسی تصور پر دیہی ترقی کے لئے کام کررہی ہے۔سرحد رورل سپورٹ پروگرام بھی اسی طریقہ کار اور دیہی ترقی کے تصور کے تحت خیبر پختونخواہ کے کئی اضلاع بشمول چترال میں تعمیر وترقی اور دیہی ترقی کے لئے سرگرم عمل ہے۔آغا خان رورل سپورٹ پروگرام چترال نے آج سے 32سال قبل گاؤں کی سطح پر دیہی ترقی کیلئے جو تنظیمی ڈھانچہ متعارف کرایاتھا۔آج وہ ڈھانچہ بڑھتے بڑھتے لوکل سپورٹ ارگنائزیشن کی شکل اختیار کرچکا ہے۔مقامی معاون تنظیمیں۔(ایل۔ایس۔اوز)کانیٹ ورک پورے چترال میں پھیل چکی ہے۔یہ نیٹ ورک قومی اور بین الاقوامی ڈونر ایجنسیز کیلئے سب سے زیادہ قابل اعتماد اور موثر ادارے کی شکل اختیار کرچکی ہے۔32سال قبل دیہی ترقی کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ کمال کامیابی کے ساتھ جاری وساری ہے۔اے۔کے۔آر۔ایس۔پی چترال کے دروازے سب کے لئے کھلئے ہیں ۔تعلیم یافتہ ،بے روزگار نوجوانوں کیلئے انٹرن شب سے لیکر ری سرچ تک کے موقع دستیاب ہیں ۔اس پروگرام کے زیر تربیت اور سرپرستی چترال کے باصلاحیت بیٹے اور بیٹیاں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اور اس دھرتی کا نام روشن کررہے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔