انجمن ترقی کھوار حلقہ ایون کے زیر اہتمام طرحی محفل مشاعرہ کا انعقاد

انجمن ترقی کھوار حلقہ ایون کے زیر اہتمام طرحی محفل مشاعرہ کا انعقاد

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد )انجمن ترقی کھوار حلقہ ایون کے زیر اہتمام گورنمنٹ ہائی سکول ایون کے ہال میں ایک طرحی محفل مشاعرہ منعقد ہوا ۔ جس میں نوجوان ادیب و شاعر اور استاد ثنا ء اللہ ثانی مہمان خصوصی اور چترال پریس کلب کے سابق صدر محکم الدین صدر محفل تھے ۔ جبکہ معروف شعراء ممتاز عالم دین اور صاحب دیوان شاعر حافظ خوشولی خان ولی کے علاوہ صدر انجمن حلقہ ایون مظفر الدین مظفر،خالد ظفر ظفر،مطیع الرحمن قمر ،ظفر الدین سروراور (ر) صوبیدار محمد عمر شامل تھے ۔ مشاعرے کیلئے طرح مصرعہ “وادی تان ہوشہ نکی گیرو امتحانو پوشی “دیا گیاتھا۔ صدر انجمن ترقی کھوار حلقہ ایون مظفر الدین مظفر نے شرکاء محفل کو خوش آمدید کہا ۔ استاد خالد ظفر ظفر نے نظامت کے فرائض انجام دیے ۔قاری شیر زمان نے تلاوت کلام پاک سے اور اورغوچ سے تعلق رکھنے والے طالب علم فہد علی نے نعت شریف پیش کرکے محفل کو با برکت بنایا ۔بعد آزان طرح مصرعہ پر شعراء نے اپنے کلام پیش کئے ۔ جس میں اورغوچ اور بروز سے حلقہ ایون کے ساتھ رجسٹرڈ ہونے والے شعراء نے پہلی مرتبہ شرکت کرکے اپنے کلام پیش کئے ۔

مہمان شعراء میں اور غوچ سے عبدالربی ، سجاد علی ساجد ،نذیر محمد مظلوم ، شکیل احمد شاکر بروز سے مولانا فضل حق ، بمبوریت سے مطیع الرحمن قمر ،سینگور سے ثناء اللہ ثانی کے علاوہ ایون سے حافظ خوش ولی خان ولی ،خالدظفر ظفر ، ظفر الدین سرور ،ریٹائرڈ صوبیدار محمد عمر ،اصغر شیدائی ، مظفرالدین مظفر ،ذکریا عمر ذاکر اور کرامت شاہ ناصح نے مشاعرے میں شرکت کی ۔ اور انتہائی خوبصورت کلام پیش کرکے محفل لوٹ لی اور خوب داد وصول کی ۔ مشاعرے کے اختتام پر مہمان خصوصی ثناء اللہ ثانی نے تاثرات بیان کرتے ہوئے اپنے خطاب میں انجمن ترقی کہوارحلقہ ایون کی ادبی سرگرمیوں کو سراہااور کہا ۔ کہ ایون قدیم زمانے سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے ۔اور یہاں بُلند پائے کے شعراء و ادباء پیدا ہوئے اور نام کمائے ،آج بھی یہ زمین ادب کے حوالے سے زرخیز ہے ۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو نمی فراہم کی جائے ۔

صدر محفل محکم الدین نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ شعر و ادب کے حامل شخصیات کسی بھی قوم کیلئے آئینہ اور رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اور شاعر وہ کچھ اپنے کلام کا موضوع بناتا ہے ۔ جومعاشرے میں پائی جانے والی مثبت اور منفی سرگرمیوں سے متعلق ہوتے ہیں ۔ جو الفاظ کے خوبصورت بناوٹ کے ساتھ معاشرے کے درد امند افراد کو سوچنے پر مجبور کرنے ا ور اصلاح کے جذبے کے تحت پیش کئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شعر میں نکھار پیدا کرنے کیلئے اصلاح حا صل کرنا کوئی معیوب بات نہیں ہے ۔ اور شعراء کو ادب کے اسلاف کا یہ طریقہ اپنانا چائیے ۔ انہوں نے کہا ،کہ چترال میں ماہ مئی کی 28 تاریخ کو گندہارا ہندکو اکیڈمی اور انجمن ترقی کہوار چترال کے اشتراک سے ایک روزہ لینگویج کانفرنس کا انعقاد ہو رہا ہے ۔ جو کہ چترال میں علم و ادب کے فروغ کے حوالے سے ایک اچھی کوشش ہے ۔ انہوں نے اپنی طرف سے حلقہ ایون کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کے جذبے کا اظہار کیا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔