کھوار حروف تہجی کو اسی حالت میں نصاب میں شامل کیا جائے، احباب سخن کھوار اشکومن کا مطالبہ

اشکومن(کریم رانجھا) ؔ زباں ماں کا درجہ رکھتی ہے ،مادری زباں کو اقوام متحدہ نے بنیادی انسانی حقوق میں شامل کیا ہے،کھوار زباں کے حروف تہجی 1922میں ترتیب دئے گئے ،اہل چترال کا کھوار زباں کی ترقی میں بنیادی کردار ہے،نصاب میں شامل کرنے کے لئے حروف تہجی کو ازسر نو ترتیب دینے کی کوششوں کی بھرپور مخالفت کریں گے،احباب سخن کھوار کے زیر اہتمام چٹورکھنڈ کے مقامی گیسٹ ہاؤس میں ’’کھوار تاریخ کے آئینے میں ‘‘کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے مقررین کا خطاب۔محکمہ سیاحت کے تعاون سے منعقدہ اس سیمینار میں ضلع غذر سے تعلق رکھنے والے کھوار ادبی تنظیموں کے نمائندوں سمیت کھوار ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

کھوار تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے شمس الحق نوازش غذری نے کہا کہ کھوار زبان پر مختلف غیر ملکی مستشرقین نے مختلف ادوار میں بیش قیمت تحقیق کی ہے جن میں ڈاکٹر لٹنیر1866،سر جان بڈلف1880،پروفیسر جارج مارگین 1932،مسٹر سیلون،کرنل ڈیوڈ سن کے نام سر فہرست ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 1921میں کھوار قاعدہ کا اجراء ہوا ۔اس وقت چترال سمیت گلگت بلتستان میں کھوار بولنے والوں کی تعداد ایک ملین کے قریب ہے لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ یہ زبان معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کھوار ’’دردی‘‘ زبانوں کی ایک شاخ ہے ۔کھوار بولنے والے دو سو کے قریب گھرانے کاشغر،یارقند اور نورستان میں آج بھی مو جود ہے ۔کھوار زبان پر آج تک بہت سا تحقیقی کام ہوا ہے۔کھوار ادب کے لئے اتالیق محمد شکور غریب 1690-1761،محمد سیار،شیر ملک گدیری،زیارت خان زیرک اور امیر گل کی خدمات نا قابل فرا موش ہیں۔

مقررین نے کھوار زبان کو گلگت بلتستان کے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ کھوار حروف تہجی کو اسی حالت میں نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ اس زبان کی اصل ہئیت قائم رہے۔سیمینار سے شمس الحق نوازش غذری،پروفیسر (ریٹائرڈ) زر نذیر ،موسیٰ مدد،عاشق حسین شاکر ،احباب سخن کھوار کے صدر سردار خان بیغش ؔ ودیگر مقررین نے خطاب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments