موسلا دھار بارش نے چلاس شہر کی سڑکوں میں پڑے کھڈوں کو مزید گہرا کردیا

چلاس(مجیب الرحمان)موسلا دھار بارش نے چلاس شہر کی سڑکوں میں پڑے کھڈوں کو مزید گہرا بنا دیا عوام کی مشکلات اور حادثات میں بے تحاشا اضافہ اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں چلاس شہر دیہات کا منظر پیش کرنے لگا۔عوامی حلقوں نے اپنی تشہیر میں مصروف حکومتی ایوانوں میں پروٹوکول کے مزے میں گم ارباب اختیار سے نظر کرم کی اپیل کر دی۔چلاس شہر کی سڑکیں عرصہ دراز سے مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں۔جگہ جگہ بڑے بڑے کھڈے پڑنے سے حادثات معمول بن چکے ہیں۔نت نئی گاڑیاں سڑکوں کی خستہ حالی سے بد حالی کی انتہاء کو پہنچ چکی ہیں۔گزشتہ روز ہونے والی موسلا دھار بارش کھڈوں میں موجود کچی مٹی کو بہا کر لے گئی ہے۔جس سے کھڈے مزید گہرے ہوگئے ہیں۔سڑکوں کی حالت زار دیکھ کر یہی گمان ہوتا ہے کہ چلاس اکیسویں صدی کا شہر نہیں بلکہ صدیوں پرانا دیہی علاقہ جہاں ابھی تک جدید سہولیات پہنچی ہی نہ ہوں۔عوامی حلقوں نے سروے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران محض اپنی تشہیر اور عیش و آرام میں پروٹوکول کے مزے لینے میں مصروف ہیں۔عوامی مشکلات کا احساس تک ہی نہیں ہے۔سڑکوں کی خستہ حالی نے شہریوں کا چین غارت کیا ہوا ہے۔شہر کی تمام تر خوبصورتی ماند پڑ چکی ہے۔سڑکوں میں جا بجا پڑے کھڈوں نے گاڑیوں کو تباہ کر کے رکھا ہوا ہے۔نت نئی گاڑیاں کباڑ بن چکی ہیں۔حکمران فوری طور پر عوام کو انکی بنیادی ضروریات بہم پہنچائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments