‘شہید امن’ سیف الرحمن کی برسی کے موقعے پر گلگت میں شاندار تقریب منعقد

‘شہید امن’ سیف الرحمن کی برسی کے موقعے پر گلگت میں شاندار تقریب منعقد

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے شہید امن سیف الرحمن خان کی برسی کے حوالے سے منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ2014 میں جب گلگت کے حالات بہت مخدوش تھے اس وقت بھی شہید امن کے سپائیوں نے اتحاد بین المسلمین کا یہ جلسہ بھر پور انداز میں منعقد کیا جو گلگت بلتستان میں قیام کی امن کی راہ کو ہموار کرنے کیلئے معاو ن ثابت ہوا سرکاری وسائل کے استعمال کیے بغیر اس عظیم و شان برسی کے حوالے سے اجتماع کے انعقاد پر میں شہید امن کے سپاہیوں اور مسلم لیگ(ن) کے عہدیداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ قائد عوام محمد نواز شریف نے شہید امن کو یہ ذمہ داری دی تھی کے گلگت بلتستان سے انتہا پسندی اور مذہبی منافرت کا خاتمہ کرنے اور بھائی چارگی کے فضاء کو قائم کرنے کیلئے اپنے ساتھیوں سمیت عملی جدوجہد کرے شہید امن نے اس امن مشن کو پائیے تکمیل پہنچانے کیلئے اپنی جان قربان کی شہید امن کا خواب تھا کہ مسلم لیگ (ن) میں ہر مسلک اور ہر طبقے کی برابر نمائندگی ہو۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ2004 کے انتخابات میں ریاستی طاقت کو استعمال کر کے مسلم لیگ (ن) کو دیوار سے لگایا گیا اور اسی طرح2009 کے انتخابات میں بھی دھاندلی کا سہراہ لے کر مسلم لیگ(ن) کو ہرایا گیا جب بھی صاف و شفاف الیکشن ہوئے ہیں کامیابی مسلم لیگ (ن) کو ہی ہوئی ہے ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر حکومتیں تشکیل دی جاتی تھی پہلی دفعہ گلگت بلتستا ن میں ایک جماعت کی حکومت بنائی گئی ہے ہم نے اپوزیشن کو اس لئے مضبوط بنانے کی خواہش کی تاکہ حکومتی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے الیکشن میں بے داغ نمائندوں کا ٹکٹ دیا جس کی وجہ سے عوام نے مسلم لیگ(ن) کے نمائندوں کو کامیاب کرایا۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری حکومت کی پالیسی زیرو ٹالیرنس کی ہے امن وامان یقینی بنانے کیلئے پولیس فورس کو ضروری وسائل فراہم کیے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جس کی وجہ سے آج پولیس فورس کی کارکردگی قابل تحسین ہے امن وامان قائم رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اگر کسی نے امن خراب کرنے کی سازشیں کیں ہمیں چاہیے کہ اسکی حوصلہ شکنی کرے اور نشاندہی کرے پر امن احتجاج کرنے سے کسی کو نہیں روکا گیا ہے لیکن واضع رہے کہ کسی کو بھی امن خراب کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو کرپشن عروج پر تھا ادارے تباہی کے دھانے پر تھے9ماہ میں ہم نے اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی صوبے سے کرپشن کا خاتمہ کیا اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا گڈ گورننس قائم کیا ہم نے کفایت شعاری کی راہ اپنائی اسلام آباد میں گورنر اور وزیراعلیٰ کیلئے بھاری کرائیوں پر لیے ہوئے بنگلوں کو ختم کیا جس کی وجہ سے ماہانہ15لاکھ روپے عوام کے بچائے غیر ضروری پروٹوکول کو ختم کیا اور ایمبولینسز کو ہسپتالوں کو دئیے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ پاور پراجیکٹس کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائینگے گلگت بلتستان میں گرمیوں کے دوران لوڈشیڈنگ ختم کی جائیگی۔1200اسامیوں پرNTS کے تحت میرٹ پر بھرتیاں عمل میں لائی گئی ہیں925 آفیسران بھرتیاںFPSC کے تحت کی جائینگی میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جارہا ہے سابق حکومت نے نیب کو آزادانہ کام کرنے نہیں دیا جبکہ ہم نے اقتدار میں آکر نیب کو فعال بنایا ہے۔ ہنزہ میں 27میگاواٹ پاور پراجیکٹ تعمیر کرئینگے وزیر اعظم کیا اعلانات پر70فیصد عمل درآمد ہوا ہے۔KIUمیں انجینئرنگ کلاسز کا آغاز کیا گیا ہے۔ گلگت کو فوروے لنک منصوبے پر کام جارہی ہے۔ گلگت شہر میں سیوریج کے نظام کو عملی جامع پہنایا جارہا ہے آئندہ ماہ زون2 کا ٹینڈر کیا جائیگا1ارب کی خطیر رقم سے گلگت میں صاف پانی کے منصوبوں کا آغاز کیا جارہا ہے۔

29-03-2016 (3)

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ایک ایسی جماعت جس کو عوام نے مسترد کیا اسمبلی میں صرف ایک سیٹ کی نمائندگی ہے اپنے خاتمے کے خوف سے عوام میں غلط فہمیاں پھیلانے میں مصروف ہیں ہمیں ڈرایا نہیں جاسکتا بلیک میل کرکے حکومت سے فیصلے نہیں کرائے جاسکتے ہم تعمیر وترقی کے ایجنڈے سے آئیے ہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چےئرمین کا انتخاب اپوزیشن جماعت سے کیا اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔ گلگت سکردو روڈ کی تعمیر کیلئے 22.5ارب لاگت کا ٹینڈر طلب کیا گیا ہے ہماری جماعت نے بلتستان سے کلین سوئپ کیا ہے ہم سے زیادہ بلتستان کا خیر خواہ کوئی اور نہیں ہوسکتا بیرونی ملک علاقے کی بدنامی کا باعث بنے والے افراد بھی آج ہم پر تنقید کررہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے منصب کو مد نظر رکھتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر بات کرے اگر علاقے کی ترقی اور ہماری اصلاح کیلئے کوئی مثبت تجویز ہوگی تو اسکا خیر مقدم کرئینگے لیکن بلاجواز اور تنقید برائے تنقید علماء کی شایان شان نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ای گورننس کا ماڈل متعارف کرایا جارہا ہے20ارب کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جائیگا سرکاری ملازمین بھی عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے اپنے فر ائض کی انجام دئی خلوص نیت سے کرے۔

29-03-2016 (4)

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن امن کیلئے کام کرنے والوں کو حکومت سطح پر شہید سیف الرحمن ایوارڈ دیا جائیگا گلگت میں خواتین اور بچوں کیلئے جدید ہسپتال کا افتتاح اپریل میں کیا جائیگا اس ہسپتال کا نام شہید سیف الرحمن میموریل ہسپتال رکھا گیا ہے30جون تک صوبے میں MRI مشین کی تنصیب عمل میں لائی جائیگی اکتوبر اور نومبر میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا جائیگا پہلی مرتبہ شہداء پیکیج تیار کیا گیا ہے جو ملازمین اپنے فرایض کے انجام دئی میں شہید ہونگے انکے لواحقین کیلئے شہداء پیکیج کا اعلان کیا جو ملازمین دوران ملازمت انتقال ہونگے انکے بچوں کیلئے کو سکیل1تا10 میں مستقل ملازمت دی جائیگی اور ملازمین اسسٹنٹ پیکیج کے تحت کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں انکو مستقل کیا جائیگا جو پولیس اپنے فرایض کے انجام دئی کے دوران شہید ہونگے انکے وارثوں کو30لاکھ روپے مالی معاونت فراہم کی جائیگی بچوں میں سے کسی ایک کو ملازمت دی جائیگی اور ملازمت کی مدت مکمل ہونے تک وارثوں کو تنخواہ کی مسلسل ادائیگی کی جائیگی۔ واٹر اینڈ پاور ملازمین جو ڈایینگ کیڈر میں کام کررہے ہیں اگر دوران فرایض کی انجام دئی شہید ہوئے تو انکے ورثاء کو بھی شہداء پیکیج دیا جائیگا۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلاسود قرضوں کا اجراء کیا گیا ہے۔گلگت بلتستان کے غریب عوام کو صحت کے بہتر سہولیات کی فراہمی کیلئے وزیر اعظم ہیلتھ انشورنس سکیم میں گلگت بلتستان کو شامل کیا گیا ہے ابتدائی طور پر ضلع دیامر اورسکردو کے50ہزار غریب لوگوں کو3لاکھ روپے کا ہیلتھ انشورنس کارڈ دئیے جارہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اکتوبر سے میڈیکل کالج کے کلاسز کا اجراء کیا جارہاہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔