ضلع کوہستان کے تحصیل کندیا میں 23 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوے ہیں، امدادی کاروئیاں میں ضلعی انتظامیہ کو دشواریوں کا سامنا

ضلع کوہستان کے تحصیل کندیا میں 23 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوے ہیں، امدادی کاروئیاں میں ضلعی انتظامیہ کو دشواریوں کا سامنا

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کوہستان ( نامہ نگار) کوہستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچاتے ہوئے کئی خاندان اُجاڑدئے ہیں ، اتھور باڑی گاؤں کندیامیں ملبے تلے دبے 23افراد کے لواحقین انہیں ایک پل دیکھنے کیلئے تڑپ رہے ہیں۔ تین دن گزرگئے شاہراہ قراقرم کی بندش کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثرہیں ۔ کوہستان میں ملبے تلے دبے افراد کے ساتھ اموات کی تعداد 39جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ تمام دروں و دیہاتوں اور میدانوں میں زرعی زمینوں کے ساتھ انفراسٹرکچر ملیامیٹ ہوگیا۔ لاکھوں آبادی کسی مسیحا کے منتظر ، دروں اور دیہاتوں میں ادویات اور اشیاء خوردنوش کی قلت پیدا ہوگئی۔ضلع انتطامیہ اور مقامی لوگ اپنی مدد آپ امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں،موسم کی خرابی کے باعث ہیلی کاپٹر ز کوہستان میں لینڈ ہی نہ کرسکے ۔ڈی سی کوہستان راجہ فضل خالق۔

تفصیلات کے مطابق ضلع کوہستان خیبر پختونخواہ میں سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کی لسٹ میں شامل ہوگیاہے ،جہاں چار دنوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب نے مجموعی طورپر 39انسانوں کی جانیں نگل لی ہیں ۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریش کوہستان کی طرف سے بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق کوہستان کی تحصیل کندیا کے گاوں اتھور باڑی میں آ سمانی بجلی گرنے سے انیس مکانات منہدم ہوئے جن میں کل تیس افراد دب گئے تھے تاہم مقامی لوگوں نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ زخمیوں اور دو لاشوں کو ملبے سے نکال دیا جبکہ 23افراد کی لاشیں ابھی بھی ملبے تلے دبی ہیں، دوسری جانب کوزشریال پالس میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہی خاندان کے سات افراد لقمہ اجل بن گئے ، پٹن میں مکان کی دیوار اور لینڈ سلائیڈنگ سے دو افراد جاں بحق ، داسو جالکوٹ میں مکان کی چھت گرنے سے دو بچے جاں بحق ، کیر و کے مقام پر مژدا حادثے میں ڈرائیور کنڈیکٹر جاں بحق اور کیا ل میں لیند سلائیڈنگ سے ایک شخص جاں بحق ہواہے ۔اسی طرح مجموعی ہلاکتوں کی تعداد ا39اور درجنوں لوگ زخمی ہیں۔

ڈی سی کوہستان راجہ فضل خالق کے مطابق ریونیو سٹاف اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاران پولیس کے ہمراہ موقع کی طرف پیدل گئے ہیں وہ متاثرین کی ہرممکن مدد کررہے ہیں ، تاہم ہیلی کاپٹر کے بغیر ریسکیو کاروائیوں میں دشواری ہے ۔ موسم کی خرابی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہے ، متاثرین کیلئے اشیاء ضروریہ دیدی گئیں ہیں ، پہلی ترجیح ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنا ہے ۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے بھی امدادی کاموں میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔ اسی طرح تین دن گزرگئے لیکن ملبے تلے دبے افراد کے ورثاء پریشانی کے عالم میں کسی مسیحا کے منتظر ہیں متاثرہ خاندان کے فرد محمد صفی نے کمیلہ میں صحافیوں کو بتایاکہ انہیں کچھ نہیں چاہئے بس اُن کے لوگ کسی طریقے سے ملبے سے نکال لئے جائیں ۔

واضح رہے کہ چار دنوں میں طوفانی بارشوں نے کوہستان میں نظام زندگی مفلوج کئے رکھاہے نہ پانی ہے نہ بجلی اور نہ اشیاء خوردنوش ، دروں دیہاتو ں میں موجود ہزاروں ایکڑ اراضی ،ہزاروں مال مویشیاں ، رہائیشی مکانات ، رابطہ سڑکیں اور انفراسٹرکچر تباہ ہوکر رہ گیا ہے ۔ پاکستان اور چائنا کو ملانئے والی شاہراہ قراقرم متعدد مقامات پر بلاک ہے اور گلگت سے پنڈی آنے جانے والے مسافر ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔جبکہ ایف ڈبلیو او اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ واپڈا کے اہکاران شاہراہ کھولنے میں مصروف ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔