گلوداس اور سیلپی پائین کو سیراب کرنے والا چار کلومیٹر طویل نہر تباہ، بحالی کے لئے حکومت اور غیر حکومتی اداروں سے مدد کی اپیل

گلوداس اور سیلپی پائین کو سیراب کرنے والا چار کلومیٹر طویل نہر تباہ، بحالی کے لئے حکومت اور غیر حکومتی اداروں سے مدد کی اپیل

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(خبرنگارخصوصی) گلوداس کے عمائدین فدا محمد خان،راجا یحیےٰ عالم ،عبدالرحمن،فقیر علی،بلبل جان،رحمت اللہ و دیگر نے صوبائی حکومت ،این جی اوز اور مخیر حضرات سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل دو گاؤں گلوداس اور سلپی پائین کو سیراب کرنے والی واحد واٹر چینل مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جس کی بحالی عوام کے بس کی بات نہیں اس لیے واٹر چینل کی بحالی میں ان کی مدد کی جائے تاکہ علاقے کو بنجر ہونے سے بچایا جا سکے۔میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلوداس اور سلپی پائین کو سیراب کرنے والی واحد واٹر چینل تقریباًچار کلومیٹر تک مکمل تباہ ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے گلوداس اور سلپی کے عوام پانی کی بوند بوند کے لیے ترس رہے ہیں اورپانی بند ہونے سے ان دو گاؤں میں ہزاروں کنال پر مشتمل کھڑی فصلیں ہزاروں پھلدار اور غیر پھلدار درخت اور باغات کے سوکھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے حالیہ بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے واٹر چینل کو مکمل طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت اس چینل کو بحال نہیں کر سکتے اوراس کی بحالی کے لیے مہینہ سے زیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے کیونکہ اکثر مقامات پر ملبہ بہت زیادہ ہے اور بڑے بڑے پتھر چینل میں گھرے ہیں اور چینل کی بحالی کے لیے ہیوی مشنری کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ گاؤں گلوداس میں حالیہ سیلاب سے واٹر سپلائی سکیم بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور سیلاب نے واٹر سپلائی سکیم کا چیمبر بہا لے گیا ہے جس کے باعث گزشتہ دس دنوں سے گاؤں کے لیے پانی مکمل طور پر بند ہے اور عوام کے پاس مال مویشی کو پلانے کے لیے بھی پانی نہیں ہے جبکہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے شہری گھنٹوں چل کر دریا اور چشمے سے پانی لانے پر مجبور ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے اہم مسلہ واٹر چینل کا ہے جس کی بروقت بحالی ممکن نہ ہو سکی تو علاقہ مکینوں کا ذرائع معاش تباہ ہو جائے گا اور علاقے میں قحط کی سی صورتحال پیدا ہوگی کیونکہ علاقی مکینوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہے کہ وہ سبزی بھی باہر سے خرید کر کھا سکے۔انہوں نے کہا کہ عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت چینل کی بحالی کے لیے کام کا آغاز کر دیا ہے مگر حکومتی تعاون کے بغیر اس کام کوجلدی مکمل نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے مہینے لگ سکتے ہیں۔انہوں نے صوبائی حکومت،این جی اوز اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ واٹر چینل کی بحالی میں ان کا ساتھ دیں تاکہ دونوں گاؤں گلوداس اور سلپی کو بنجر ہونے سے بچایا جا سکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔