چترال بھر میں انتہائی ناقص اشیاء خوردونوش فروخت ہو رہے ہیں۔ضلع ناظم مغفرت شاہ

چترال بھر میں انتہائی ناقص اشیاء خوردونوش فروخت ہو رہے ہیں۔ضلع ناظم مغفرت شاہ

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے کہا ہے ۔ کہ چترال بھر میں انتہائی ناقص اشیاء خوردونوش فروخت ہو رہے ہیں۔ جو کہ انسانی صحت کیلئے بالکل زہر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اور یہ واحد ضلع ہے ۔ جس کیلئے ناقص خوراک ضلع سے باہر تیار کی جاتی ہیں اور چترال میں انہیں فروخت کیا جاتا ہے ۔ اس لئے ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ چترال کے عوام کی زندگیوں کا سوال ہے ۔ اس لئے تمام ذمہ دار سٹیک ہولڈروں سے اجلاس منعقد کرنے کے بعد ٹھوس بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے کا فیصلہ عنقریب کیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان چترال کی طرف سے ایک مقامی ہو ٹل میں بریفنگ دینے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس میں ڈائریکٹر اے کے ایچ ایس پی محمد یوسف شہزاد ، ڈاکٹر سعد ملوک ،جی ایم ڈاکٹر ظفر ودیگر موجود تھے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں ناقص خوراک کی وجہ سے حکومت کے بھاری فنڈ علاج معالجے پر خرچ ہو رہے ہیں ۔ اور دن بدن مختلف امراض میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے ۔ جو کسی وقت اس ضلع میں نہیں پائی جاتی تھیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس سلسلے میں ایک ورکشاپ ضلعی انتظامیہ چترال کے زیر اہتمام منعقد کیا جائے گا ۔ جس میں جج صاحبان ،ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ اداروں کے ذمہ داروں کو دعوت دی جائے گی ۔ تاکہ چترال کے سادہ لوح عوام کو خوراک کے نام پر بکنے والی زہریلی اشیاء سے چھٹکارا دلانے کیلئے متفقہ طور پر ٹھوس لائحہ عمل نہ صرف تیار کیا جاسکے بلکہ اُس پر عملددر آمد کیلئے بھی اقدامات کئے جاسکیں ۔ ضلع ناظم نے اس امر کا بھی اظہار کیا ۔ کہ چترال میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز کو مرحلہ وار مزید ٹریننگ دلوانے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں درکار سامان کی فراہمی اور بعض ہسپتالوں کی اپگریڈیشن صحیح معیار کے ساتھ کرنا انتہائی ضروری ہیں ۔ تاکہ علاج معالجے کی سہولیات میں مزید اضافہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومت کے پاس فنڈز کی کمی نہیں ۔ مگر بعض ادارتی پیچیدگیوں نے عوام تک یہ سہولت پہنچانے کا راستہ روک لیا ہے ۔ جنہیں بلا تاخیر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ضلع ناظم نے چترال میں صحت کی سہولیات کی فراہمی میں آغا خان ہیلتھ سروس کے کردار کی تعریف کی ۔ اور کہا ۔ کہ چترال کے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں لوگوں کی دہلیز پر علاج کی سہولت کی فراہمی قابل تحسین ہے ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ بروقت علاج کی سہولت ملنے کے سبب اموات میں بہت زیا دہ کمی آئی ہے ۔ جی ایم آغا خان ہیلتھ سروس ڈاکٹر محمد ظفر نے کہا ۔ کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا فارمولہ بہت کامیاب رہا ہے ۔ اوراے کے ایچ ایس پی بونی ، مستوج ، شاگرام اور گرم چشمہ میں کامیابی کے ساتھ خدمات انجام دے رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کچھ لوگوں کو علاج پر اُٹھنے والے اخراجات پر تحفظات ہیں ۔ لیکن ہم جو سہولت مہیا کر رہے ہیں ۔ اُن کی نسبت یہ چارجز انتہائی نارمل ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال میں ہارٹ اٹیک ، استمہ،زیابطیس، کینسر،معدے کی بیماری ،ایکسڈنٹ ، خود کُشی اور ذہنی بیماریوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ۔ اور لوگوں کی آمدنی کا بڑا حصہ علاج معالجے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں ۔ جس کی بنیادی وجہ چترال میں غیر معیاری اشیاء خوردونوش اور غیر معیاری ادویات کی فروخت ہے ۔ خصوصا گھی ، چائے ، مصالحہ جات ، چپس وغیرہ سے بازار اور دکانیں بھری پڑی ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس حوالے سے لوگوں میں آگہی پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں ٹھوس کچرے کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ کار بھی سائنسی طریقے پر نہیں کیا جاتا ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ اے کے ایچ ایس پی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال کو ٹھوس کچرا تلف کرنے کی مشین فراہم کی ہے ۔ جس میں جدید طریقے سے اپریشن کے مواد و فضلات کو ٹھکانے لگانے کی سہولت میسر ہوگی ۔ اور بہت حد تک آلودگی سے بچنے میں مدد ملے گی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔