ایسا کیوں ہوتا ہے؟

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

قسم ہے میں ان پڑھ ہوں میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا ۔ میں اللہ کی اس وسیع کائنات میں سراپا سوال بن جاتاہوں ہا ں سراپا سوال بن جاتاہوں۔ سب کچھ میری سمجھ سے باہر ہے ۔ شاید میرے سوال کا جواب دینا بھی کوئی گوارا نہ کرے۔ سوچتا ہوں ایسا کیوں ہوتا ہے کہ چاند نکلتا ہے کھیت کرتاہے ، پھر غروب ہوتا ہے ۔ اس کے نکلنے کے منظرکو لوگ دوسرے لمحے بھول جاتے ہیں۔ اس کا گھٹنا بڑھنا ایک بڑا سبق ہے اس سبق کو لوگ پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں یہ ایک کھلی کتاب ہے اس پر غور کرنے کی کوشش کوئی نہیں کرتا۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ تارے زمین والوں کو تکتے رہتے ہیں ، ان پر ہنستے ہیں ۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ سورج اپنی کرنیں سنبھالے ہر صبح مشرق سے نکلتاہے اور مغرب تک کا سفر بڑ ی پابندی کے ساتھ ایک سیکنڈضائع کئے کرتاہے مگر چونکہ ساری کائنات سفر میں ہے ایک ایسا مسافر جو سفر میں ہوتے ہوئے بھی غافل ہے ، ایسا کیوں ہوتاہے؟زندگی سفر ہے ہر انسان کی جیب میں ، ہاتھ میں ، کلائی میں وقت نما(گھڑی)ہے یہ گھڑی وقت اس کو بتاتی ہے مگر اس کو کبھی یقین نہیں آتا کہ وہ مسلسل سفر میں ہے اور وقت گزر رہا ہے۔ایسا کیوں ہوتاہے کہ ماں اپنے جگر کے ٹکڑے سے نفرت کرتی ہے باپ اپنی لخت جگر کو’’ دل نکالا‘‘ دیتاہے۔بہن بھائی کو بھائی نہیں کہتی ، بھائی بہن کو اجنبی کہتاہے ۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ بوڑھی ماں کی گود بیٹے کا گہوارہ نہیں بنتی۔ باپ حوصلہ افزائی کا منبع نہیں ہوتا ۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ راہ حق میں اکثر قدم ڈگمگاتے ہیں ۔ لوگ’’حق‘‘ بتانے سے اکثر کتراتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ سچ’’کڑوا‘‘ ہے جھوٹ شیرین ہے۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟کہ ربط اور ضبط میں فاصلے بڑھتے جاتے ہیں۔جتنا نزدیک جا نا چاٖہو اتنا دور ہوتے جاتے ہو۔ایسا کیوں ہے کہ سارے خواب اکثر ادھورے ہوتے ہیں۔خواہیشیں ننگی ہو تی ہیں ان کو کپڑا نہیں پہنا یا جا سکتا ۔ ان کے پیچھے خلوص نہیں ہوتا ، خواہشات کو پر لگتے ہیں اور انسان بکھر جاتاہے۔ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ آرزؤیں پیٹ سے شروغ ہوکر خدا بن بیٹھنے تک جاتی ہیں۔کسی کو ایک لقمے کی آرزو ہوتی ہے اور اسی انسان کو خدائی کا دعویٰ ہوتاہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کہ ایک ذلف گیرا گیر ہے، مشکین ہے، تاب دار ہے، رات ہے ،معطر ہے، پریشان ہے، دراز ہے، پاؤں سے لپٹتی ہے، زنجیر بنتی ہے ، بیڑیاں بنتی ہے ، رخ پر گرتی ہے رُخ سے اٹھتی ہے مگر یہی ذلف گرد�آلود ہے ، بے قدر ہے، نہ گیرا گیر ہے، نہ پر پیج ہے نہ زنجیر ہے ،نہ اس کی سیاہی رات ہے ،نہ اس کی کوئی خوشبو ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ کہ ایک چہرہ چاند ہے، ایک پتھر ہے ۔ ایسا کیوں ہے؟ کہ ایک باورچی خانہ میں چولہا جلتا تک نہیں ، ایک نعمتوں سے بھر ا ہوتاہے۔ایسا کیوں ہے؟ کہ ایک چہرہ افسردگی سے پژمردہ ہے ایک کھیلا ہوا ہے۔کلاس روم میں کھیلے چہرے کی قدر ہے ، نئے کپڑوں کی قدر ہے، استاد کی نگاہیں چمکتی جوتی پر ٹکتی ہیں، جس کا باپ’’ بڑا آدمی‘‘ ہے قابل بھی وہی ہے ، توجہہ طلب بھی وہی ہےِ کلاس مانیٹر بھی وہی ہےِ سپورٹس مین بھی وہی ہے ، اچھا بھی وہی ہے ، حال احوال بھی اس کے پوچھے جاتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتاہے ؟ کہ پولیس غریب کو تھپڑ مارتی ہے اور امیر کے سائبان ہے۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟ پیسہ والا گاڑی کے فرنٹ سیٹ پہ بیٹھتا ہے غریب ہمیشہ پچھلی سیٹ پہ………

ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ غریب کا کوئی رشتہ نہیں آتا اور نہ غریب کو کوئی رشتہ دیتاہے۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ ہمیشہ پیسہ والے کی باہوں میں’’گوری‘‘پناہ لیتی ہے اور ’’کلموہی‘‘ کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ محبت، حسن، خلوص، کو دولت سے تولا جاتاہے ۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ صلاحیتیں اکثر دولت کے ہاتھوں شکست کھاتی ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کرسی کی ’’قدر‘‘ ہے خواہ اس میں کوئی نا اہل ہی کیوں نہ بیٹھا ہو۔ایسا کیوں ہوتاہے کہ اگر ایک ماں کے دو جگر گوشے ہو ں تو ان میں سے ’’ افیسر بیٹے‘‘ کو بیٹا کہے گی اور بے روزگار کو (ڈق) بچہ کہے گی۔ ایسا کیوں ہوتاہے کہ بیٹی کی پلیٹ میں خالی سالن ڈالی جاتی ہے بیٹے کی پلیٹ میں بوٹیاں ہیں۔ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ کوئی قتل کرکے بھی بے قصور ہے کوئی آہ بھر کے بھی بد نام ہے۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ ایک ہاتھ صوفہ اور نوٹ چھو رہا ہے۔ دوسرا ہاتھ برش لئے پالش کر رہاہے ۔ ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ یہی انسان پل کو روتاہے۔تنہا ہوتاہے پل کو ہنستاہے ہجوم کے درمیا ن ہوتاہے ۔ ایسا کیوں ہوتاہے کہ موت و حیات کے درمیان ’’فاصلہ ہے‘‘ کہا جاتاہے ، حالانکہ کوئی فاصلہ نہیں۔ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ نعروں سے لوگ بے وقوف بنائے جاتے ہیں عمل سے حقیقت سمجھایا نہیں جاسکتا۔ ایسا کیوں ہوتاہے؟ کہ ہنسنے والے کے ساتھ سب ہنستے ہیں رونے والا تنہا روتاہے۔ اس کے ساتھ کوئی نہیں روتا۔ ایساکیوں ہوتاہے؟ کہ انسان دوسروں کو سنتابھی ہے دوسروں کو سناتا بھی ہے مگر نہ اپنے ’’من‘‘ کو سنتاہے نہ اپنے’’من‘‘ کو سناتاہے۔

مجھے پتہ ہے کہ میرے یہ سوالات ویسے سوالات ہے میرے سوالات کا جواب ہر کوئی دے سکتاہے مگر کوئی نہیں دے گا۔ یہی زندگی ہے کشمکش ہے۔ یہی تماشا ہے۔ یہی ناٹک ہے۔یہی کردار ہے اسی سے زندگی کے دو مخصوص راستے نکلتے ہیںیہاں پر راستوں کو اختیار کرنے کا اوپشن (option)دیا گیاہے میں بھی اس دو راہے پر کھڑا ہوں میری طرح سب سوچتے ہونگے …….میں ہجوم میں ہوں کہ تنہاہوں اپنے ’’من‘‘ سے پوچھ کر تمہیں بتاؤنگا۔۔۔۔۔۔!!!

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔