معائدہ کراچی کو رد کرتے ہیں، 28 اپریل تاریخ کاسیاہ دن ہے جب عوام کو اندھیرے میں رکھ علاقے کا فیصلہ کیا گیا، بی این ایف

گلگت ( پ۔ر ) بالاورستان نیشنل فر نٹ کے مر کزی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدہ کرا چی کو رد کر تے ہیں بالاورستان نیشنل فرنٹ۔28 اپریل 1949 ء تاریخ کا وہ منحوس باب ہے جس میں گلگت بلتستان کی قوم کو اندھیر ے مین رکھ کر سودا کیا گیا اور دو کشمیریوں ایک پاکستا نی نے گلگت بلتستان کو غلامی کے دلدل میں ڈالا جس میں اب تک گلگت بلتستان کے عوام ہیں اور اپنے بنیا دی حقوق سے محروم ہیں اس معا ہدے کے تحت گلگت بلتستان کے مظلوم و محکوم قوم کی آنے والی نسلوں کو غلا می کے زنجیر میں جھکڑ دیا اس دن کو جی بی کے عوام پہ غلامی کی تلوار لٹکا دی گئی اور تا حال یہ سلسلہ جاری ہے جب بھی کو ئی اپنے خلاف ہو نے والی سا زش کو بے نقاب کر کے عوامی شعور اور آزادی کے لیئے کام کر تا ہے یا اپنے بنیا دی حقوق کے حصول کے لیئے کام کر تا ہے تو اس کے خلاف بغاوت کے مقدمات سمیت دہشت گر دی کے مقدمات لگا کر آواز اور جدو جہد کو دبا نے کی کوشش کی جا تی ہے اب تک متعدد قومی رہنما ؤ کے خلاف اس قسم کے اقدا مات کیئے گئے ہیں لیکن اس سے گلگت بلتستان کے عوام کی آواز دبنے والی نہیں ہے معا ہدہ کرا چی جس کو کہا جا تا ہے اس بد نام زما نہ معاہدے کے زریعے ہی آج گلگت بلتستان کے عوام پہ مظا لم کے پہاڑ ڈھا ئے جا رہے ہیں اور اس معاہدے میں گلگت بلتستان کی کو ئی بھی نما ئند گی نہیں ہے پھر بھی اس معاہدے کے تحت گلگت بلتستان کے حقوق کو غصب کیا جارہا ہے با لا ورستان نیشنل فرنٹ اس بد نام زمانہ معاہدے کو رد کر تی ہے اور گلگت بلتستان کے حقوق کی جنگ جا ری رکھے گی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments