چترال کے علاقے دروش میں احتجاجی زلزلہ زدہ گان ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مذاکرات کے لئے آمادہ ہو گئے،2مئی کو اجلاس ہوگا

چترال (بشیر حسین آزاد) دروش اور مضافاتی گاؤں کے زلزلہ زدگان کا میرکھنی کے مقام پر دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہاجوکہ دروش کے تین یو نین کونسلوں میں ارندو سے لے کر مداک لشٹ تک دوبارہ سروے کے مطابق متاثریں کے لئے معاوضوں کی ادائیگی کے لئے گزشتہ پانچ مہینوں سے مطالبہ کرتے آرہے ہیں ۔ جمعہ کے روز ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے میرکھنی جاکر احتجاجیوں سے مذاکرات کئے اور انہیں ضلعی انتظامیہ کے سربراہ ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مذاکرات پر امادہ کرلیا جس کے مطابق 2۔مئی کو گیارہ بجے ڈی۔سی کے دفتر میں ضلع ناظم کی موجودگی میں اجلاس ہوگا جس میں احتجاجیوں کے ساتھ مقامی ممبران ضلع وتحصیل کونسل اور تجاریونین کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرعبدالغفار ، ڈی ایس پی دروش ظفر احمد اور دروش سے تبدیل ہونے والے اے۔سی بشارت احمد بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ضلع ناظم نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر دروش اور مضافات کے عوام ملک کو چھوڑکر جانے جیسی انتہائی نوعیت کی باتیں کررہے ہیں تو ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل اور وجہ ضرور ہوگی اور یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ ابتدائی دور میں معاوضوں کی ادائیگی میں ضلعی انتظامیہ سے غلطیاں ضرور سرزد ہوئی ہوں گے ۔ انہوں نے دھرنا دینے والوں پرز ور دیا کہ وہ مذاکرات کا راستہ اپنائیں اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر مسئلے کا حل تلاش کریں اور پھر بھی مسئلہ کا حل نہیں نکل آیا تو وہ ان کے ساتھ کسی بھی قربانی دینے کو تیار ہوں گے۔ بعدازاں ضلع ناظم ، ضلعی انتظامیہ کے افسران، ا ور منتخب ممبران تحصیل و ضلع کونسل کا دھرنا کمیٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کے نتیجے میں ڈی۔ سی کے ساتھ مذکرات کے لئے تاریخ کا تعین کیا گیا۔ دھرنا کمیٹی کے امیر حاجی محترم شاہ، سابق یونین ناظم عبدالباری، قاری نظام الدین، صلاح الدین طوفان اور دوسروں نے اپنے مطالبات کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے پرامن مطالبے کو ضلعی انتظامیہ نے کو اہمیت نہ دے کر ان کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ اس موقع پر تحصیل ناظم مولانا محمد الیاس، ضلع کونسل کے ممبران مفتی محمود الحسن اور مولانا انعام الحق جبکہ تحصیل کونسل کے ارکان عبدالسلام، روئیداد خان، قسور اللہ قریشی موجود تھے جنہوں نے مذاکرات میں ضلع ناظم کی معاونت کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments