سانحہ عطا آباد کے متاثرین کی فہرست سے نکال کر میرے ساتھ زیادتی کی گئی، غلام رسول

ہنزہ (بیورورپورٹ)مجھے سانحہ عطاآباد متاثرین کے فہرست سے نکالنا سراسر ناانصافی ہے۔ غلام رسول ان خیالات کا اظہار سانحہ عطاآباد کے متاثرین غلام رسول ولد عبادت شاہ ساکن آئین آباد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اس سانحے نے سب سے زیادہ نقصان مجھے دیا ہے ۔ زندگی بھر کی کمائی و جمع پونجی اب آئین آباد میں زیر آب ہے ۔ سب کچھ ختم ہونے کے بعد ہم لوگ متاثرین کی فہرست میں شامل ہوگئے ۔ متاثرین کی فہرستیں بنا شروع ہوگئی میری حالات دیکھ کر اُس وقت کے زمہ داروں نے مجھے کٹگری اے میں شامل کیا گیا ۔ اُس وقت بے گھر ہونے کے ناطے گھر بنانے کے لئے بنائی گئی فہرست میں حقدار قرار دیا گیا۔ جب گھر بنانے کا عین وقت آیا تو نامعلوم وجوہات کی بناپر مجھے لسٹ سے خارج کیا گیا ۔ فہرست سے میرانام سپیشل سازش کے تحت نکالا گیا جو میرے ساتھ زیادتی ہے اُنہوں نے مزید کہاکہ اگر میں خود گھر بنانے کا اہل ہوتا تو میں ادارے کو فریاد کیوں کرتا ۔ اس وقت میری عمر 78سال ہے ۔ عمر کے اس سٹیج پر ہوں کہ محنت مزدوری بھی نہیں کرسکتا ۔جوانی کے ایام میں جو محنت مزدوری کرکے جو کمایا تھا اُس سے آئین آباد میں زمین لیکر مکان بنایا تھا اب وہ جھیل کے اندر ہے ۔ جن لوگوں کی زمینیں اور مکانات اب بھی باقی ہیں اُن کے لئے گھر بناکر دیا گیا ۔ اور جن کا مکمل طور پر زمین اور مکان تباہ ہوچکے ہے اُن کے ساتھ ناانصافی کیوں ۔ اس لئے متاثرین کیلئے گھر بنانے والے ادارے سے بذریعہ میڈیا اپیل کرونگا کہ مجھے بھی حقیقی متاثرین کی فہرست میں شامل کرکے گھر دیا جائے تاکہ زندگی کے بقایہ امسال سکون سے گزار سکوں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments