ضلع غذر کے علاقے پھنڈر میں تخم ریزی کی رسم جوش و خروش سے منائی گئی

ضلع غذر کے علاقے پھنڈر میں تخم ریزی کی رسم جوش و خروش سے منائی گئی

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر ( رپورٹ جاویداقبال ) ضلع غذر کے تحصیل پهنڈر میں بهی بہار آ گیا  قدیم رسم تخهم ریزی انتہائی خوشی کے ساتھ مناتے ہوئے لوگوں نے بہار کو خوش آمدید کیا اور کاشت کاری کا آغاز کر دیا. اس موقع پر پهنڈر پولو گرونڈ میں ایک شاندار میلہ ہوا.جس میں پولو کھیل، رسہ کشی، میوزیکل پروگرام،اور روایتی کهانوں کے سٹال بهی لگا ئیں گئے تھے. اس شاندار پروگرام کے مہمان خصوصی فدا خان فدا پارلیمانی سیکرٹری منصوبہ بندی و رکن قانون سازاسمبلی تھے. انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کی ترقی کے میریٹ کی بنیاد پر ہی کام کر رہی ہے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کیلئے این ٹی ایس کے زریعے 700 اساتذہ بھرتی کرنے کا عمل بہت جلد شروع ہو رہا ہے.جس میں پهنڈر کے سکولوں کو میریٹ کی بنیاد پر ضرورت کے مطابق اساتذہ میلیں گے اور 1 ارب 30 کروڑ کی لاگت سے گلگت چترال روڈ کی تعمیر کا منصوبے پر کام جلد کام شروع کیا جا رہا ہے. اس منصوبے کے تکمیل کے بعد یہاں کے لوگوں کو گلگت اور چترال کے لیے بہتر سفری سہولیات فراہم ہو گی اور یولنگ کے مقام پر متبادل روڈ کی تعمیر کے لیے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ  بار بار روڈ بلاک ہونے کا سلسلہ ختم ہو .انہوں نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے پهنڈر میں انٹر کالج کی منظوری دی تھی گزشتہ دنوں پهنڈر کالج کا پی سی ون بهی منظور ہو گیا ہے . پهنڈر کے مختلف علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم پرتوجہ دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں پهنڈر گرلز پرائمری سکول کو مڈل سکول کردیا گیا ہے اور پانچ سالوں میں پهنڈر میں گرلز ہائی سکول بنائیں گے. انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہماری حکومت علاقے میں آمن اور تمام مسالک میں ہم آہنگی کے فروغ کیلئے اقدام کررہی ہے. اور سیاحت کے فروغ کے لیے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان اہم کردار ادا کر رہا ہے تاکہ علاقے میں زیادہ سے زیادہ سیاحوں کا آ مد ہو اور لوگوں کی معشیت میں اضافہ ہو. انہوں نے کہا ہے کہ کے پی کے کی حکومت گزشتہ کئی سالوں سے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کررہی ہے سرحدی کی خلاف ورزی پر قانون سازی اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی ہے جس کے تحت ایک اعلیٰ کمشن کے زریعے تنازعہ حل کیا جائے ہماری حکومت شندور میلے کا بائیکاٹ کے حق میں نہیں ہے میلہ ہونا چاہیے دونوں علاقوں کے عوام کو تفریح اور کاروبار کے مواقع پیدا ہو. حدود کے مسلےکوکمشن کے زریعے حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں.انہوں نے کہا ہے کہ حکومت نے زلزلہ متاثرین کو 70 فیصد معاوضے ادا کردی ہے باقی 30 فیصد معاوضے جلد ادا کیا جائے گا اور علاقے کی ترقی کے لیے اے ڈی پی میں سڑکیں، سکولوں، ہسپتالوں کے منصوبے رکھا ہے اور آنے والا جون میں نئ اے ڈی پی میں نئے اسکیمیں بهی عوام کی مشاورت سے دیں گے.

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔