گانچھے میں پچاس بیڈ ہسپتال کے لئے 80 اسامیاں منظور نہ ہو سکیں

گانچھے میں پچاس بیڈ ہسپتال کے لئے 80 اسامیاں منظور نہ ہو سکیں

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گانچھے (محمد علی عالم ) نو سال گزر گئے مگر پچاس بیڈ ہسپتال کی 80 پوسٹیں منظورنہ ہوسکیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہسپتال خپلو کی 30بیڈہسپتال کو 2009میں اپ گریڈ کر کے پچاس بیڈ کردیا اور بلڈنگ تیار ہو کے ہسپتال انتظامیہ کے حوالے ہو گیا تاہم سات سال گزرنے کے باوجود پچاس بیڈ کی پوسٹیں منظور نہ ہوسکا جس وجہ سے مشکلات کا شکار ہے عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال خپلو کو پچاس بیڈ کے 80پوسٹوں کی فوری منظوری دی جائے عملے اور دیگر سہولت کی فقدان سے مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہو رہے ہیں اس وقت ہسپتال میں گائناکالوجسٹ کی پوسٹ تاحال خالی ہے اس سے خواتین مریضوں کو شدید مسائل کا سامنا ہے اس کے علاوہ ہسپتال میں ڈاکٹرز کی بھی کمی ہے۔

سیکرٹری صحت راشد خان نے تین ماہ قبل اپنے دورے کے موقع پر مقامی سرکردہ گان و میڈیا کی نمائندوں کی موجودگی عندیہ دیا تھا کہ وہ 60ہزار خواتین کو زچگی کے مسائل سے نجات دلانے کے لئے کنٹریکٹ بیس پر ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے ماہوار تنخواہ پر تقریری کے احکامات جاری کریں گے لیکن چار ماہ گزر جانے کے باوجود اب تک اس احکامات پر کوئی عملدآمد نہ ہو سکا۔ اس سے پہلے بھی سابقہ چیف سیکرٹریز نے اپنے دورے پر مریضوں کو درپیش مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کی مگر کئی سال گزر گیا کوئی شنوائی نہ سکی اس وقت عوام گلگت بلتستان حکومت اور اس کے سربراہ حافظ حفیظ الرحمن نے طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ گانچھے میں مریضو ں خصواً خواتین مریضوں کو درپیش مسائل کو دور کریں گے اس کے علاوہ پچاس بیڈ ہسپتال کی 80پوسٹوں کی منظوری بھی فوری طور پر دیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔