وزیر اعلی نے فورتھ شیڈول سے اپنے حمایتیوں کے نام نکال کر نیشنل ایکشن پلان کو بے معنی کر دیا ہے، عمران ندیم شگری کا بیان

وزیر اعلی نے فورتھ شیڈول سے اپنے حمایتیوں کے نام نکال کر نیشنل ایکشن پلان کو بے معنی کر دیا ہے، عمران ندیم شگری کا بیان

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شگر(عابدشگری)سنیئر نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی وممبر قانون ساز کونسل عمران ندیم نے کہا ہے کہ بلتستان سے تعلق رکھنے والے پر امن لوگوں کو شیڈول فور میں شامل کرکے مسلم لیگ ن نے ووٹ نہ دینے کی سزا دی ہے اور اپنی ذہنیت کا عکاسی کی ہے۔ جس کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی اب حیثیت نہیں رہی کیونکہ وزیر اعلیٰ نے اپنے تمام حمایتوں کا نام شیڈول فور سے نکال کر ان بے گنا ہ افراد کے نام شامل کئے ہیں جنہوں نے حفیظ کو ووٹ دینے سے انکار کیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ بلتستان بھر خصوصا شگر میں علماء کی وجہ سے ہی امن قائم ہے ۔ شاید حکومت کو انہی علماء سے خطر لاحق ہوگیا ہے اس لئے پر امن علاقے کے پر امن علما کا نام شیڈول فور میں شامل کرکے حکومت نے اپنی اصلیت دیکھا دی ہے ۔عمران ندیم نے کہا کہ شگرکے شیخ فدا حسین عابدی جیسے امن کے لئے ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کرنے والے عالم دین کا نام شیڈول فور میں شامل کرکے انہیں امن کے لئے قربانیاں دینے کی سزا دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انہی علماء کی وجہ سے بلتستان میں امن قائم ہے لہذا اہم علماء کی توہین والے اس فیصلے کو ماننے کے لئے کسی صورت تیار نہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے شیڈول فور سے علماء کا نام نکالیں ورنہ ہم احتجاج پر مجبور ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ان واقعی امن امان کے لئے خطرے کا باعث بننے والے افرا د بلتستان میں موجود ہیں تو ان کا نام شیڈول فور میں شامل کیا جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔