ضلع کوہستان 2008 سے پولیو فری ہے، لیکن انتالیس یونین کونسلز کی نگرانی کے لئے سٹاف کافی نہیں ہے، ڈپٹی کمشنر کی زیرِ صدارت اجلاس

کوہستان( شمس الرحمن کوہستانیؔ ) کوہستان، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے پولیو مہم کیلئے کوہستان کے انتالیس یونین کونسلوں میں نگرانی کے لئے مقامی افراد تعینات نہ کرنے پر محکمہ صحت کوہستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ پورے ضلعے میں صرف بارہ لوگ پولیو مہم کی نگرانی کررہے ہیں جو مواقع پر نہیں پہنچ پارہے ، بچے پولیو کے قطروں سے محروم رہ سکتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر کوہستان راجہ فضل خالق کی زیر صدارت اجلاس کے دوران محکمہ صحت کا ہلکاروں کا انکشاف۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رفیع اللہ کے مطابق رقبے کے لحاظ سے صوبے کا دوسرا بڑا ضلع کوہستان2008سے پولیو فری ہے اور اب تک کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے ۔ دوسری جانب بین الاقوامی ادارے WHOکی مبینہ لاپرواہی کے باعث کوہستان کے دورافتادہ علاقوں میں بچے پولیو کے قطروں سے محروم رہ سکتے ہیں ۔اس بات کا انکشاف محکمہ صحت کے اہلکاروں نے کیاڈپٹی کمشنر کے سامنے کیا۔

منگل کے روز ڈپٹی کمشنر کوہستان راجہ فضل خالق کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں محکمہ صحت کوہستان کے ایک اہلکار نے شرکاء کے سامنے مائیکروں پلان پیش کیا جس پر مذکورہ ادارے (ڈبلیو۔ایچ ۔او) نگرانوں کے دستخظ ہی نہیں تھے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنازئریشن کی جانب سے ڈاکٹر سرتاج نے شرکاء کو بتایا کہ تاحال انتالیس یونین کونسلوں میں بارہ ٹاون ٹیم مانیٹرز کام کررہے ہیں ان کی تعداد بڑھانے کی کوشش کریں گے ۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر رفیع اللہ نے کہا کہ کوہستان کے انتالیس یونین کونسلوں میں انتالیس مانیٹرز تعینات کئے جائیں جو مقامی ہوں تاکہ یہاں کے لوگوں کی مزاج کے مطابق اُن کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جاسکیں ۔ انہوں نے بتایاکہ کوہستان میں سب سے بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ یہاں سکیورٹی کا کوئی مسلہ نہیں ہے اور نہ انکاری ولدین ہیں ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے بھاشاچیک پوسٹ پر تعینات پولیس اہلکارکو شکایت پر پولیو مہم میں ڈیوٹی سے غیر حاضری کا نوٹس لیا اور ڈی پی او سے رپورٹ طلب کی ۔ اجلاس میں محکمہ صحت اور ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت