ضلع کوہستان میں خسرے کی بیماری پھیلنے کا انکشاف

کوہستان(شمس الرحمن کوہستانیؔ ) خسرے کی بیماری نے پورے کوہستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے ۔دروں اور دیہاتوں میں سینکڑوں بچے شدید بیماری کے باعث کوہستان کے مقامی پرائیویٹ طبی مراکز کی جانب لائے جارہے ہیں جبکہ لاکھوں آبادی کی علاج معالجے کیلئے داسو میں موجود واحد سرکاری ہسپتال آر ایچ سی داسو اپنی معیار اور سہولیات کے لحاظ سے مرض کے علا ج میں ناکام ہے اور نجی میڈیل سنٹرز پرمریضوں کا رش لگاہواہے اور بیشتر کو ضلع سے باہر علاج کے لئے لے جایا جارہاہے اور کئی بچے دیہاتوں سے ہسپتالوں تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ضلع کوہستان صوبہ خیبر پختونخواہ کا وہ بدقسمت پسماندہ ضلع ہے جہاں ترقی کے ساتھ صحت کا انصاف بھی ندارد ہے۔پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے ضلع بھر میں خسرے کی بیماری پھوٹ پڑی ہے اور لواحقین اپنے جگرگوشوں کے علاج کیلئے پریشان ہیں ۔ غریب لوگ بڑی مشکل سے دروں اور دیہاتوں سے گاڑیوں کا کرایہ برداشت کرکے سرکاری ہسپتال پہنچتے ہیں تو جہاں خاطر خواہ علاج کی سہولت نہ ہونے کے پیش نظر انہیں پرائیویٹ میڈیکل سنٹرز پر جانا پڑتاہے ۔جہاں اور ہر طرح سے پریشان نظر آتے ہیں ۔ پچھلے دنوں علاقہ سیو کے گاوں گبر اور دادیر سمیت داسو کے بعض علاقوں میں درجنوں بچے خسرے کی بیماری سے جان کھو بیٹھے ہیں جبکہ کئی بچے اب بھی مختلف میڈیکل سنٹرز میں زیر علاج ہیں ۔ضلع کوہستان میں صحت کی سہولیات کے شدید فقدان پر ایکٹنگ ڈی ایچ او سے رابطہ کیا گیا تو وہ تفصیلات کیلئے دستیاب نہ ہوسکے۔ یوں کوہستان کی لاکھوں آبادی کے بچے بیچ پہاڑوں کے دامن میں کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت