ایٹمی پاکستان 

ایٹمی پاکستان 

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر اسلم چلاسی

28مئی 1998ء کا سہ پہر ہے ۔عالمی دباو میں دبا ہوا پاکستان اقوام عالم کی توجہ کا مرکز بنتا ہے ۔دنیا جہاں کی الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کا رخ اچانک ایشیاء کا سب سے بڑا اسلامی ملک کی طرف گھومتا ہے ۔ملک کی طول و عرض میں پچھلے پہر کو زمیمیں شائع ہوتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو کا خواب شرمندہ تعبیر ہو تا ہے ۔پورا عالم اسلام اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے گونجتا ہے ۔کشمیر ،فلسطین ،افغانستان اور چیچنیا کی مظلوم مسلمانوں کو امید کی ایک خوشگوار کرن نظر آنے لگتی ہے ۔آزادی کی تحریکوں میں مزید جوش ولولے پیدا ہونے لگتے ہیں ۔مجاہدین کی صفحوں میں جہاد کا شوق مزید بڑھتا ہے مظلوم و محکوم مسلمانوں کے آزادی کی تحریکوں میں نیا روح پھونک جاتا ہے ۔دنیا بھر کی مسلمانوں کے غلامانہ لب و لہجہ تبدیل ہو کر مساوات اور برابری کی سطح پر آجاتا ہے ۔داد و تحسین پورے عالم اسلام کی طرف سے پاکستان کو ملتا ہے ۔برادر ممالک عالمی دباو کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں ۔بے تحاشا پابندیوں کے باوجود اسلامی ممالک کی دروازے پاکستان کیلئے کھل جاتے ہیں ۔ایٹم بم پاکستان بناتا ہے خوشیاں پورے عالم اسلام میں ہوتے ہیں ۔پاکستان کی جوہری اثاثے کو اسلامی بم کا نام دیا جا تا ہے ۔دنیا بھر میں مسلمانوں کا سر فخر سے بلند ہو تا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے سوا ایک ارب مسلمانوں کو اس وقت مایوسی ہو تی ہے جب مسلمان دنیا بھر میں عالم کفر کے ہاتھوں کٹ مرتے ہیں۔کرہ ارض کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جہاں مسلمانوں کیلئے خدا کی دھرتی تنگ نہ کی گئی ہو ۔عرب سے عجم تک شرق سے غرب تک مسلمان بے وجہ او ر بے موت مرتے رہے ہیں ۔انسانی سروں کے مینار بن گئے زمین انسانی لہو سے سیراب ہو گیا عورتیں ،بزرگ ،بچے بلا امتیاز کفر کے بھٹیوں میں کندن بن گئے مگر ہمارا اسلامی ایٹمی ملک کچھ نہیں کر پایا ۔جس ملک کی بنیادوں میں عالم اسلام کا تعاون اور بے شمار قربانیاں شامل تھی اس ملک نے مسلمانوں کے معاملات میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کر کے پورے عالم اسلام کو مایوس کر دیا ۔جس کی طاقت پر عالم اسلام کو فخر تھا وہ ملک دنیا بھر کے مسلمانوں کی رہنمائی اور تحفظ تو دور کی بات ہے اب تک اپنے سسٹم کو ٹھیک کرنے میں کامیاب نہیں ہے ۔اسلامی ممالک کی دفاع تو دیوانے کا خواب ہے ہم اپنے سرحدوں کے حفاظت بھی نہیں کر سکتے ہیں ۔امریکی ڈرون حملے ہمارے شہروں قضبوں میں ہوتے ہیں جس میں بے شمار لوگ مر مٹتے ہیں ہم اپنے شہریوں کے دفاع نہیں کر سکتے تو عالم اسلام کا کیا دفاع کرینگے ۔امریکہ کی ایک دھمکی پر ہم ڈھیر ہو جاتے ہیں ۔اپنوں اور غیروں کی تمیز کئے بغیر غیروں کی معاملات میں کود پڑتے ہیں جس کا صلہ ہم برسوں تک اٹھاتے ہیں ۔پاکستان عالم اسلام کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہے لیکن ہم سے ابھی تک کوئی بھی خوف نہیں کھاتا ۔بنگلہ دیش غولیلوں پر گزارہ کرنے والا ملک ہے وہ بھی ہم سے ذرا بھی خائف نہیں ہے ۔پاکستان کی ہمدردوں کو چن چن کر تخت دار پر چڑھاتا ہے ہم اپنے ہمدردوں کے جنازے دیکھتے رہتے ہیں لیکن ہم اپنا تیور بدل کر ایک ایٹمی ملک کی حیثیت سے بنگلہ دیش جیسے ملک پر ذرا پریشر تک نہیں ڈال سکتے ۔18 سال ہو گئے پاکستان دنیا کے نقشے میں ایک اسلامی ایٹمی ملک بن کر سامنے آیا لیکن ابھی تک پاکستان کا اپنا مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا ۔کشمیر کو بھارت نے فوجی کالونی میں تبدیل کر دیا ہمارے پانی روک کر ہمارے ہرے بھرے کھیتوں کو بنجر کر دیا لیکن ہم کچھ بھی نہیں کر پاتے ہیں صرف اور صر ف دیکھتے رہتے ہیں ۔ہمارے شہروں کے اندر ہمارے دشمن گھس کر ہمارے لوگوں کو ہمارے خلاف استعمال کرتا ہے ۔دشمن ہمارے وحدت کو توڑنے کا اعتراف انٹرنیشنل میڈیا کے سامنے کرتا ہے لیکن ہم عالم اسلام کا پہلا ایٹمی ملک ہونے کے باوجود لب کشائی کرنے سے قاصر ہیں جب سے ہمارا ملک ایٹمی ملک بنا ہے ہم جرت سے بات نہیں کر سکتے ہمیں اپنے طاقت کا اندازہ نہیں ہے یا ہم اعصابی طور پر کمزور ہیں ۔طاقتور ایٹمی ملکوں کا لب و لہجہ یہ نہیں ہو تا ہے اور نہ ہی ایٹمی ملکوں کی پالیسیاں ہمارے جیسے ہوتی ہیں ۔ہمیں کشمیر کے معاملے پر اپنے لب و لہجے کو تبدیل کر کے تیور بدل کر بات کرنی ہو گی ۔عالم اسلام کے معاملات پر بات کرنے کا حق ہمیں حاصل ہے ہمیں اس حق اور ذمہ داری سے فرار نہیں ہو نا چاہئے صرف 28 مئی کو یوم تکبیر کا نام دیکر اپنے ذمہ داریوں سے کب تک بھاگ جائینگے ۔کبھی تو اس دن کی اہمیت دنیا کو دیکھا کر عالم اسلام کو یہ بتا سکیں گے کہ آپ کے خوشیاں بے وجہ اور بے محل نہیں تھے ۔دیکھو ہم نے کشمیر کو آزاد کیا فلاں اسلامی ملک پر ہونے والے حملے کو ہم نے سامنے آکر روک دیا اپنے اور پرائے سبھی ہم سے مایوس ہو چکے ہیں ہمیں اپنے کمزور پالیسیوں کو ترک کر کے جرت مند پالیسیاں بنانا چاہئے ۔ہمیں افغانستان کے صف میں دیکھنے والا دوست ملک کو یہ باور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایٹمی ملک کے باسی ہے ہمارا ملک مضبوط دفاعی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے یوں ہمارے سرحدوں کو پامال کرنے کا انجام برا ہو گا ۔ایسا تو صرف مفتوح علاقوں میں کیا جا تا ہے ایک باقاعدہ ریاست کی سرحدوں کو عبور کرنا وہ بھی کسی ایٹمی ملک کے قابل افسوس امر ہے۔یہ سب ہمارے کمزور پالیسیوں کا نتیجہ ہے ہمیں دوستی اور دشمنی دونوں برابری کی سطح پر کرنی چاہئے بلا شبہ 28مئی ہمارے لئے فخر کا دن ہے لیکن اس دن کی اہمیت سے دوست اور دشمن کو باور اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک ہمارے پالیسی ساز ادارے اپنی کمزور پالیسیوں کو ترک کر کے ایک ایٹمی ملک کی حیثیت سے اپنی پالیسیوں کو ترتیب نہیں دیتے اور ہماری طاقت گلدانوں میں رکھ کر سجانے کی نہیں ہے بلکہ اس طاقت کی وساطت سے اپنے معاملات کو حل کرنے کیلئے زندہ و جاوید فیصلوں کی ضرورت ہے عالم اسلام کی نظر ہم پر مرکوز ہے بحیثیت اسلامی ایٹمی ملک ہمیں عالم اسلام کو مایوس نہیں کرنا چاہئے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔