بیوی کا خط شوہر کے نام

بیوی کا خط شوہر کے نام

49 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد جاوید حیات

میرا دمساز ،میری آرزووں کا محور،میری دنیا۔۔خدا تجھے سدا شاد رکھے۔۔اور تیری محبت کے دامن میں مجھے پرسکوں رکھے۔۔۔عرب کے تپتے صحرا تیرے لئے گلزار ہوں ۔۔اور بادل تجھ پہ سایہ کریں ۔۔۔سرتاج تیری جدائی کے لمحے میرے لئے اگر چہ جان گسل ہیں ۔مگر زندگی ملن بچھڑن کے تسلسل کا نام ہے ۔میں تجھ سے جدا تو نہیں تو میری روح میں ایسے بستے ہو ۔کہ جیسے خوشبو پھول میں ۔۔تم ہی میری زندگی ہو ۔اس لئے میری ہرخوشی تیری خوشی سے وابستہ ہے ۔جہان تو میری حیات مستعار کی شادما نی اور آبرو ہے وہاں میں تمہاری عزت و ناموس کی پہرہ دار ہوں ۔تو سائبان ہو اور ایسی ڈھال جو حوادث کے تپیڑے میری طرف آنے سے روکتی ہے ۔۔میری مونس تجھے یاد ہے ۔۔کہ آج سے 20سال پہلے کی بہاروں کی خنک شام تھی ۔کہ تیرا ’’پیام‘‘ میرے گھر پہنچا۔آمی ابو سر جوڑ کے سوچنے لگے موضوع بحث تو نہیں ،تیری صورت نہیں ،تیری تعلیم نہیں ،تیرا کردار اور تیرا خاندان رہا۔۔۔شریف ہے ۔۔ہاں ۔۔با اخلاق ہے ۔۔ ہاں۔۔مہذب ہے ۔۔ہاں ۔۔خانداں شریف ہے۔۔ ہاں ۔۔۔یہ چند جملے تھے یہ چند سوال تھے ۔۔سب کے جواب ہاں میں ہوئے۔تو تجھے ’’ہاں‘‘کہا گیا ۔تجھے یا د ہے تو بے روزگار تھا ۔مگر تجھے ’’ہاں ‘‘ کہا گیا ۔۔میں اپنے کمرے میں دبکے کان لگائے بیٹھی تھی ۔سب کچھ سن رہی تھی ۔صبح امی نے مجھے اپنے کمرے میں بلا کر مجھ سے پوچھا ۔۔میری نین برس رہی تھیں ۔ماں نے بھی رورو کر مجھے گلے سے لگا لیا ۔۔کہا ۔۔’’بیٹی پنچھی ہوتی ہے دیکھئے اپنے ماں باپ کی عزت کی لاج رکھنا ‘‘۔۔تجھے یاد ہے شادی کے دن میرے چہرے پر کوئی غازہ ،ہونٹوں پر سرخی ،پلکوں میں تاؤ ،ہاتھوں میں مہندی،آنکھوں میں مستی،پاؤں میں گھنگروکوئی نہیں تھا ۔بس چہرہ صاف تھا ۔آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔دل میں تڑپ،بدن میں لرزہ،ہونٹوں پہ اللہ اللہ تھا ۔۔سمٹ کے بیٹھی تھی ۔تیری طرف دیکھنے کی جرائت نہ تھی ۔تو بھی سر جھکا کے بیٹھے تھے۔شاید تیری بھی یہی حا لت تھی ۔تجھ پہ بھی یہ لمحے سخت گذر رہے تھے ۔تو شرم سے پانی پانی ہو رہا تھا ۔لرزہ براندام تھا ۔۔۔تجھے یاد ہے تو جب پہلی بار میرے کمرے میں آئے ۔۔تو ہم دونوں سر بہ سجود تھے۔میرے دوپٹے پر تیرے سجدے کے نشان اب بھی ہیں ۔وہ دوپٹہ جس پر تو نے سجدہ کیا تھا میں نے سنبھال کے رکھی ہے ۔۔تمہیں یاد ہے کہ چار سال بعد شہلاکی آمد ہوئی ۔۔تو چاردن بعد مجھے اکیلی پا کر میرے کمرے میں آئے شہلا میرے پہلو میں سو رہی تھی ۔تو نے اس کی پیشانی چوما اور میرے بالوں میں ہاتھ پھیرا میں اب بھی تمہاری انگلیوں کی لمس محسوس کر رہی ہوں ۔۔۔۔میری زندگی۔۔۔۔پھر تو ہماری خوشیوں کی خاطر صحراؤں کی طرف چل نکلا۔۔اب سارا خاندان اسودہ ہے ۔گھر ہے گاڑیاں ہیں ۔پیسے ہیں ۔یہاں پر سب کچھ ہے بس ایک تو نہیں ۔۔تیرے ہوتے ہوئے تیرے خاندان کو کسی چیز کی کمی نہیں ۔۔۔مگر میں تجھے خط لکھنے پرمجبور کیوں ہوا؟اس لئے کہ میں یہ ساری باتیں فون پہ تجھے نہیں بتا سکتی ۔اب ہم دونوں کسی اور کے لئے ہیں ۔اب ہم ہم نہیں رہے بچوں کے ہو گئے ہیں ۔۔اللہ نے مال اور اولاد کو ’’ٖفتنہ‘‘کہا ۔یہ کہ دونوں ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے ۔۔ہم اللہ کی یاد تک سے غافل ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔شہلہ جوان ہو گئی ہے ۔۔میٹرک کا امتحان دے دیا ہے ۔دارالعلوم بھی جاتی ہے گھر کے کام کاج میں میرا ہاتھ بٹاتی ہے ۔۔مگر اس کو سوچتی سوچتی میں کڑتی رہتی ہوں ۔۔۔وہ جوتوں کو دیکھ دیکھ کے پہنتی ہے ۔۔اور پسند نا پسند کا اظہار بھی کرتی ہے ۔عید کیلئے کپڑو ں میں اس کی ’’چائیس‘‘ میری اور اس کے بھائی کی ’’چائس ‘‘ سے آگے ہے ۔۔یوں نہیں سوچتی کہ کپڑے جیسے بھی ہیں لایا بھائی نے ہے ۔خرید نے والا بھائی ہے ۔اپنے بھائی کی پسند کو قبول نہیں کرتی میں کڑتی رہتی ہوں ۔۔تو نے مجھ سے پوچھے بغیر اس کو موبائل بھیجا اب وہ میسج کرتی ہے ۔۔کہتی ہے کہ میں بھائی سے انکل سے ابو سے مخاطب ہوں ۔۔۔۔لیکن اس کی انگلیاں بڑی ڈیٹھائی سے حرکت کرتی ہیں ۔۔ہم باپ بھائی سے بات کرتے ہوئے سر جھکاتے بھی تھے لرزتے بھی تھے ۔۔وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہے ۔وہ ٹی وی کا ریموٹ اپنے ہاتھ میں لے کر بچوں کو چپ کرتی ہے اور اپنی پسند کا پروگرام دیکھتی ہے ۔۔وہ جب بال بناتی ہے تو کھڑی ہوکر بناتی ہے ۔فخر موجوداتﷺ نے فرمایا کہ کھڑے ہو کے بال مت بناؤ ۔۔۔ایک دن میں نے دیکھا کہ اس کا ایک ناخن بڑھا ہوا ہے ۔میں نے ڈانٹ پلائی تو کا ٹی ۔کبھی کبھی اس کا دوپٹہ سرک کر شانوں پہ گرتا ہے ۔وہ دوپٹہ اٹھانے میں غفلت کرتی ہے ۔۔۔ایک دفعہ اس نے کہا کہ ابو سے کہو کہ میرے لئے میموری کارڈ والا موبائل خریدے۔۔میں تڑپ اٹھی ۔اکثر اس کے بال کھلے رہتے ہیں ۔وہ دوپٹہ کس کے نہیں پہنتی ۔وہ گن گن کر پیپر وں کے نام لے لے کر کہتی ہے ۔۔کہ فزکس کا پرچہ اچھا ہوا ۔کمسٹری آسان ہے ۔۔۔۔پھر گلوبل ویلج،ہیومن رائٹس ،حقوق نسواں ،۔۔۔۔ایک دفع ایک ڈیبیٹ میں شرکت کی موضوع تھا ۔۔۔’’ عورت قیدی کیوں ؟‘‘۔پہلی پوزشن لی ٹرافی لائی ۔۔اس نے دلائل دی ہوگی ۔۔اس کی تقریر میں حوالاجات تھے ۔شو اہد تھے ۔مگر مجھے کسی صحابیؓ کا حوالہ نظر نہیں آیا ۔۔معرب ، مادر ٹھریسا ،آن سان سوچی ،ہلن کیلر کے حوالے تھے ۔۔میں نے سوچا کہ یہ کیسی تعلیم ہے ۔جس میں تربیت کم ،دین کا حوالہ کم ،اسلامی تاریخی شواہد کم ،قرآن کے حوا لاجات کم ۔۔۔میرے خط کا مقصد سمجھ گئے ہونگے۔۔۔۔شہلہ میٹرک پاس کرنے کے بعد کالج جانا چاہتی ہے ۔۔کالج میں یہ سب کچھ پڑھے گی۔یہ شواہد پختہ ہونگے ۔یہ بغاوت عادت بن جائے گی ۔یہ فیشن راسخ ہوگا ۔۔یہ ننگے سر ہونا روشن خیالی تصور ہوگا ۔یہ باہر نکلنا حقوق کے لئے لڑنا ہوگا ۔ْیہ اب تو ہما ری شہلہ نہیں رہے گی ۔ یہ ’’شمع محفل‘‘بن جائے گی ۔مردوں کو دیکھ دیکھ کر اس کی آنکھوں کا وہ نور ضائع ہو جائے گا جسے عورت کا سب سے بڑا ’’زیور‘‘کہا جاتا ہے پتہ نہیں کالج میں اسے کیا پڑھایا جائے گا ۔۔۔کون کہے گا کہ مردوں کے سامنے نگاہیں نیچی رکھو ۔۔کون کہے گا ۔۔جہاں بھی جاؤ تو اپنا بدن سمیٹ کر اپنی عزیمت کا خیال کرو ۔۔کون کہے گا احتیاط سے قدم اٹھاؤ اور وقار سے آگے بڑھو ۔۔کون کہے گا اپنے ارادے پاکیزہ رکھو اور دین کو اوڑھنا بچھونا بنا ؤ ۔کون کہے گا خدیجتہ الکبریٰؓ کو ماڈل بنا ؤ ۔۔۔اب شہلہ کالج جانے لگی ہے ۔۔اس لئے تم سے مشورہ کرنا ہے ۔لوگ کہتے ہیں بچی کو تعلیم نہ دینا اس کو قتل کرنا ہے ۔میں کہتی ہوں کہ بیٹی کی تربیت نہ کرنا اس کو قتل کرنا ہے ۔۔آجکل تربیت ریزہ ریزہ ہے ۔سارے سنجیدہ لوگ اقبا ل کی زبان میں نوحہ کنان ہیں ۔

شکایت ہے مجھے یا رب خداونداں مکتب سے

سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا ۔۔

’’خداونداں مکتب‘‘کو کیوں اس بات کا احساس نہیں کہ قوم کے نونہال تربیت سے عاری ہوتے جارہے ہیں ۔ان کو کیوں احساس نہیں کہ ان کے شاگرد مغرب کی تقلید میں دیوانے ہورہے ہیں ۔ان ہیروں کو سکالرشب کے نام پہ باہر بھیجا جاتا ہے ۔پھر لاکر قوم کو گفٹ کیا جاتا ہے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ ان کی تربیت کیسے ہوئی ۔مگر میں یہ محسوس کرتی ہوں کہ ’’روشن خیالی‘‘ پھیلتی جاتی ہے ۔بیٹی کے سر سے دوپٹہ سرک جائے تو بیٹے کو احساس تک نہیں ہوتا ۔۔اس منظر کو آپ کونسا منظر کہیں گے۔۔تجھے میرے اس دوپٹے کی قسم جس پر تیرے سجدوں کے نشان ہیں ۔جلد مجھے مشورہ دیجیے گا کہ شہلا کو کالج بھیجوں کہ نہ بھیجوں ۔۔آگے یونیورسٹی ہے جو بچیوں کی الگ نہیں ہے ۔۔اب بتاؤ شہلا کو کالج بھیجنا اس کو قتل کرنا ہے یا نہ بھیجنااس کو قتل کرنا ہے ۔۔وہ کس صورت میں زندہ بچ سکتی ہے ۔۔۔ہماری شہلا ۔۔سندر اور پیاری شہلا۔۔۔۔صرف تمہاری۔۔۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔