کھرمنگ کے سرحدی علاقے بریسل میں زیرِ آب آنے والی سڑک کئی دنوں کے بعد حکومتی امداد کے بغیر ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا

کھرمنگ کے سرحدی علاقے بریسل میں زیرِ آب آنے والی سڑک کئی دنوں کے بعد حکومتی امداد کے بغیر ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کھرمنگ (سرور حسین سکندر سے) کھرمنگ سرحدی علاقہ یونین کونسل بریسل کے علاقہ میموش تھنگ کے قریب خالد چیک پوسٹ کو جانے والا روڈ کئی دن گزر جانے کے بعد حکومتی امداد کے بغیر خود ہی کھل گئی ہے روڈ کئی کلومیٹر زیر پانی آیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ان علاقوں کا کھرمنگ کے دیگر علاقوں خاص طور پرسکردو شہر سے راستہ منقطہ ہو گیا تھا جبکہ کئی ہفتے منقطہ رہنے والی سڑک کی بحالی کے لئے حکومت کی کوئی ٹیم نہیں آئی۔عوام کا حکومت کی بے حسی کو قابل مذمت فعل قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت خاص طور پر منتخب نمائندے عوام کی فلاح و بہبود کے بارے میں صرف دعوے ہی کرتے ہیں جبکہ عوام ان کو صرف الیکشن کے دنوں نظر آتے ہیں۔ اہل علاقہ کا مزید کہنا تھا خدا نہ خواستہ اگر اس سے بڑا کوئی سانحہ پیش آئے تو حکومت سے ان کو کوئی امید نہیں ہے اعلیٰ حکام ان چیزوں کو اپنے نوٹس میں رکھنا چاہیے لیکن حکومت کی بے حسی کی وجہ سے دفاعی اہمیت کا حامل علاقہ کا زمینی رابطی کئی ہفتے دیگر علاقوں سے کٹے رہے ۔ اہل علاقہ نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ جن علاقے میں دریا کا پانی زرعی ایریا یا سڑک تک پہنچنے کا امکان ہے تو ان جگہوں پر حفاظتی بند تعمیر کرایا جائے واضح رہے کھرمنگ کے سرحدی علاقہ میموش تھنگامبولونگ،بریسل چھو، گنگنی اور دیگر علاقوں میں اشیا ء خورد نوش کی سخت قلت ہے جس کی وجہ سے وہاں کے عوام زہنی اذیت میں مبتلاء ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔