ہوشیار، خبردار۔۔۔۔۔۔ نجی ایف ایم ریڈیو چینل نے “انسداد تاڑنا مہم” کا آغازکردیا

ہوشیار، خبردار۔۔۔۔۔۔ نجی ایف ایم ریڈیو چینل نے “انسداد تاڑنا مہم” کا آغازکردیا

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلام آباد (پریس ریلیز)ایک نجی ایف ایم ریڈیو پاؤر ٩٩ خواتین کو تاڑنے کے خلاف” انسداد تاڑنا مہم ” کے نام سے ایک مہم کا آغاز کررہا ہے ۔جس کا آغازاس مہینے کی اٹھارہ تاریخ سے ہوگا۔ یہ مہم پاؤر ٩٩ کی پروگرام منیجر انیلا انصاری کی سرپررستی میں چلائی رہی ہے۔پاؤر ٩٩ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اس مہم کا مقصد معاشرے سے خواتین کو تاڑنے جیسے غیر اخلاقی فعل کو ختم کرنا ہے۔ اس پریس ریلیز میں اس مہم کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسا  پروگرام مینجر انیلا انصاری نے بہت سرکاری اور پرائیویٹ دفاتر میں اپنے ضروری کام کیلئے جانے کے موقع پر پیش تلخ تجربات کی روشنی میں کیا ہے ۔پریس ریلیز میں اس کی وضاحت موجود ہےجس میں کہا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو جہاں بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہی انہیں دفاتر،ٹرانسپورٹ،پبلک پلیسز اور شاپنگ مالز میں مردوں کی جانب سے مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے،جن میں سے ایک مردوں کاخواتین کو تاڑنا بھی شامل ہے،جس سے خواتین کو ذہنی اذیت اورمعمولات زندگی کی ادائیگی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انکی شخصیت پر منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔اس بیان کے مطابق مختلف مقامات پر خواتین کو گھور کر ہراساں کرنے کے خلاف یہ قدم پہلی مرتبہ پاکستان میں پرائیویٹ ایف ایم ریڈیوپاور ٩٩ نے اٹھا یا ہے،تاکہ مرد حضرات شعوری یا لاشعوری طور پر خواتین کو تاڑنا بند کردیں اور خواتین پُراعتماد ہو کر اپنے کام سرانجام دیں سکیں۔

ایف ایم پاور ٩٩ ریڈیو ایک پرائیویٹ چینل ہے ۔اس کی نشریات راولپنڈی اسلام آباد خیبر پختونخواہ اور جنوبی پنجاب کے علاقہ وہاڑی تک پہنچتی ہیں۔  پاؤر ٩٩ سے رروزانہ خبریں (ہفتے میں چھے دن) حالات حاضرہ ،سماجی رویوں میں تبدیلی ، تعلیمی نظام میں بہتری ،انسانی حقوق ، امن ، مساوات اور صنفی امتیاز سمیت تمام موضوعات پر پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔

اس مہم کی سربراہ اور پروگرام منیجر انیلا انصاری برطانیہ میں کئی سال تک کمیونٹی ریڈیو میں اپنی خدمات سرانجام دے چکی ہیں انہیں پاؤر٩٩ کے منسلک ہوئے چھے ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے اس عرصے میں وہ انسانی حقوق سے متعلق بہت سے موضوعات پر پروگرام چکی ہیں جس میں خواتین کو گھور کر حراسان کرنا  بھی شامل ہے۔ واضح رہے گھورنا اور دیکھنے میں واضح فرق ہے دیکھنے سے کسی تکلیف نہیں ہوتی جبکہ گھورنا یا تاڑنا جنسی تشدد کے زمرئے آتا ہے جس سے نہ صرف خواتین کو بلکہ ان  کے ساتھ موجود مردوں کو بھی شدیدد کوفت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔