شندور میلہ کے بارے میں پریس کانفرنس غلط اور من گھڑٹ ہے۔بہتان اور جھوٹا الزام لگانا قانوناً اور شرعاً جرم ہے، ضلعی انتظامیہ چترال کا بیان

شندور میلہ کے بارے میں پریس کانفرنس غلط اور من گھڑٹ ہے۔بہتان اور جھوٹا الزام لگانا قانوناً اور شرعاً جرم ہے، ضلعی انتظامیہ چترال کا بیان

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(بشیر حسین آزاد)ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہیہ پریس ریلیز شندور میلہ کے بارے میں جاری کردہ من گھڑت اور غلط پریس کانفرنسوں کے بارے میں جاری کی جا رہی ہے۔چونکہ شندور میلہ پورے چترال کا ایک قدیمی اور تاریخی میلہ ہے جو کہ دہائیوں سے شندور کے مقام پر منایا جاتا ہے۔ اس کی انتظامی امور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ، عوامی نمائیند گان، پاک فوج،چترال پولیس اور ٹورزم ڈپارٹمنٹ خیبر پختو خواہ کرتی چلی آئی ہے۔

سال 2015میں سیلاب اور زلزلہ کی وجہ سے تقریباً 20000گھرانوں کو نقصان پہنچاجس میں ہر ایک گھرانے کو حکومت کی طرف سے امدادی رقم اور دیگر امدادی سامان دئے گئے۔ 2ارب30کروڑ کی رقم متاثرین سیلاب اور زلزلہ زدگان میں تقسیم کی گئیں۔مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کسی کی طرف سے بھی مالی بے ضابطگی اور بدعنوانی کے کوئی الزامات سامنے نہیں آئے۔ صرف اکتوبر 2015کے زلزلے کے بعد چترال بھر میں 7300متاثرین میں ٹینٹ تقسیم کیے گئے۔ جو کہ پورے ملک میں سب سے زیادہ تھی۔ امداد اور امددادی سامان کی تقسیم کو ایک شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے ریکارڈ ٹائم میں مکمل کیا گیا۔ جس کی مثال پورے صوبے میں نہیں ملتی۔اکتوبر 2015کے شدید زلزلہ کے بعد جب امدادی سامان کو چترال پہنچنے میں تقریباً ایک ہفتے کا ٹائم لگا تو ضلعی انتظامیہ کے پاس انتظار کی مہلت نہیں تھی اور یہ مناسب سمجھا گیاکہ ٹینٹ،کمبل اور دیگر سامان جو کہ مخصوص شندور میلہ کے لئے شندور میں سٹور کئے گئے تھے کو متاثریں میں فوراً تقسیم کیا جائے۔ اس سوچ کے تحت چترالی بھائیوں کے مشکل کو پیش نظر رکھ کر 300ٹینٹ، 600کمبل اور دیگر سامان شندور کے سٹور سے نکال کر تقسیم کئے گئے۔جس کی ریکارڈ ضلعی انتظامیہ کے دفتر میں موجود ہے اور جن متاثرین کو یہ سامان دی گئی ان کی لسٹ بھی ضلعی انتظامیہ کے دفتر سے حاصل کی جا سکتی ہے۔یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ TCKPکی طرف سے شندور میلہ کے لئے نہ تو کوئی ٹینٹ مہیا کئے جاتے ہیں اور نہ ہی اس کے لئے کسی قسم کا فنڈ دیا جاتا ہے۔ٹینٹوں کیلئے کسی قسم کا فنڈ کے نہ ہونے کی صورت میں مالی خورد برد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ضلعی انتظامیہ نے اس سال ضلع کے تمام 24یو سیز میں ٹینٹ اور دیگر امدادی سامان کا اسٹاک کسی بھی ہنگامی صورت حال کے لئے کیا تھا جس میں کل ملا کر 1300ٹینٹ ،کمبل اور دیگر اشیا ء موجود ہیں۔ یہاں اس بات کو بھی سامنے لانا ضروری ہے کہ چترال بار ایسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ غلام حضرت انقلابی کو بھی دو ٹینٹ ایشو کئے گئے تھے جس کے اندر وہ میلہ کے اختتام تک قیام پذیر رہے۔مگر فائنل سے ایک رات پہلے میلہ کے منتظم سے اس نے مذید 5ٹینٹ،10کمبل اور 10میٹریسوں کا تقاضہ کیا ساتھ ہی صدربارنے فائنل میں چیف گیسٹ کے ساتھ5سیٹ دینے کا بھی تقاضہ کیا جو کہ ان کو مہیا کرنا ممکن نہیں تھا۔جس پر انقلابی صاحب نے دھمکی دی کہ ضلعی انتظامیہ کو اس کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔مگر اس کے باوجود بار کے صدر کو سٹیج پر سیٹ دیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے سو فیصد جوابدہ سمجھتی ہے ۔اگر کوئی بھی عام شخص ان حقائق کی تحقیق کے لئے ڈی سی آفس انا چاہے تو ضلعی انتظامیہ اس کو خوش آمدید کہے گی۔اس کے علاوہ ہر قسم کی عدالتی یا حکومتی انکوائری کو بھی خوش آمدید کہا جائے گا۔ مگر یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بہتان اور جھوٹا الزام لگانا قانوناً اور شرعاً جرم ہے۔ ضلعی انتظامیہ اپنے خلاف بہتان اور جھوٹے الزامات لگانے پر ہر قسم کی قانونی چارہ گوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔