عاصمہ جہانگیر کا دورہ گلگت بلتستان ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کی فیکٹ فائنڈنگ مشن کا حصہ تھا، اسرار الدین اسرار

اسلام آباد(فدا حسین )ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کیلئے گلگت بلتستان کے صوبائی کوارڈینٹراسرار الدین اسرار نے کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر کاحالیہ دورہ گلگت ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی فیکٹ فائنڈنگ مشن کا حصہ تھا۔ان کے اس دورئے کے دوران گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کا مسئلہ سب سے نمایاں رہا تاہم اس کے علاوہ بابا جان کی نااہلی اور گلگت بلتستان کے آبپاشی اور کاشتکاری کے مسائل بھی زیر غور آئے۔

انہوں نے انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رکن عاصمہ جہانگیر کے تین روزہ دورہ گلگت  کے اختتام پر اسلام آباد کے ایک نجی ریڈیوایف ایم 99ریڈیو نیوز نیٹ ورک کودیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے اپنے اس دورے کے دوران  وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن سمیت مختلف شعبہ ہائی زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کیں جس میں گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی ۔

اسرار الدین اسرار کے مطابق عاصمہ جہانگیر کے اس دورے کے دوران گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کا مسئلہ سب سے نمایاں رہا،اور اس حوالے سے وہاں کے نوجوانوں نے عاصمہ جہانگیر سے وہاں کے پہاڑ ، دریا اور زمین پاکستان کے ہیں تو گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دیتے  ہوئے انہیں متنازعہ کیوں قرار دیا جاتا ہے جیسے  سوالات بھی کیے۔

ان کا مزید یہ بھی کہناتھا کہ اس موقع پر  بابا جان کو دہشت گردی کے مقدمات  میں ملوث کرکے انتخابات میں حصہ لینے کے  لئے نااہل قرار دینے کا مسئلہ بھی زیر غور آیا ۔اس بارے میں بابا جان کے وکیل سزا  کے خلااف نظر ثانی کی درخواست دینے والے ہیں ،جس میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی قانونی مدد حاصل ہو گی۔ایک سوال کے جواب میں اسرار الدین کا کہناتھا کہ عاصہ جہانگیر کے سامنے گلگت بلتستان کے آبپاشی اور کاشتکاری کے نظام کے مسائل پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments