وادی یاسین ۔۔۔۔۔ چوتھی قسط

وادی یاسین ۔۔۔۔۔ چوتھی قسط

18 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: جاوید احمد ساجد
(گزشتہ سے پیوست)

درچھ گلی:: درچھ یا درچ کھلیان کو کہا جاتاہے اس رسم کو اس وقت منایا جاتا ہے جب مکئی بھی کوٹ کر صاف کر کے مکئی کا غلہ اُٹھا یا جاتا ہے اور کھلیان میں زمینداری سے متعلق کوئی کام نہیں رہتا ہے اور اس روز بھی مختلف کھانے ہر گھر اپنے باری میں اپنا کام ختم کرنے کے بعدحسب توفیق پکا کر گاوں والوں کے ساتھ مل کر کھاتے پیتے ہیں اس طرح رسم بھی ختم ہو تا ہے۔

کھا شًشً یا کھشیًشً :

یسن یا یاسین میں اناج یا غلہ کو حفاظت سے رکھنے یا سٹور کرنے کیلئے زیر زمین ایک خانہ یا جگہ بنایا جاتا تھا جس کو تِس (Tis ) کہتے ہیں بنایا جاتا تھا تاکہ غلہ اس میں محفوظ رکھ سکیں ۔ جس کا ذکر ڈاکٹر میجر فیض امان نے بھی اپنے ایک مضمون میں کیا تھا ۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا ہ اس زیر زمین خانے کو تِس کہا جاتاہے ہو تا یوں ہے کہ زیر زمین ایک کھڑا کھودا جا تاہے اور اس کے اندر بڑے بڑے پتھر کے سل اس طرح سے کھڑے کیئے جاتے ہیں کہ یہ ایک ڈرم کی شکل میں گول خانہ بن جاتاہے ، ان پھتروں کو برو شاسکی میں بَت(جمع صیغہ بَتو ئنگ) کھوار میں ( کھشنا لا کو )کہا جاتاہے پرانے زمانے میں گاوں کے لوگ ملکر ان پتھروں کو دور دور سے لکڑی اور رسیوں کے ذریعے باندھ کر کئی کئی بندے اُٹھا کر لا تے اور پھر یہ تِس بنایا جاتا ۔ چاروں اطراف میں پتھروں کو کھڑا کر نے کے بعد ان کے دھانے میں انہی پتھروں میں سے ایک پتھر میں اتنا گول سوراخ بناکر کہ اس میں سے ایک بندہ اسانی سے تِس میں اتر سکے ۔ پھر پتھروں کے ارد گرد مٹی ڈالکر ڈھانپ دیا جا تاہے۔اور اگر گول سوراخ کے اوپر بھی ایک گول ڈھکنا لگا کر بند کیا جائے اور اوپر مٹی ڈال دیا جا ئے تو پتہ بھی نہیں چلتا ہیے کہ اس جگہ میں کچھ ہے۔ پھر جب گندم کو دھن کر یا آج کل تھریشنگ کر کے اگر غلہ حفاظت سے رکھنے کا وقت آجاتا تو اس تِس میں گھاس پھوس ڈال کر آگ لگایا جاتا تاکہ یہ اندر سے اگر نمی پکڑ چکا ہے تو خشک ہو جائے۔پھر جب آگ کے انگارے بھی بجھ جاتے تو اس کو اندر سے خوب صاف کر کے پھر اس میں غلہ کو ( نِمار) یعنی چمڑے کی تھیلے کے حساب سے اس تِس میں ڈالا جاتا اور تقریباً دس سے بیس من تک غلہ اس میں ڈال کر بند کیا جاتا۔ اس سے یہ غلہ یا اناج دو طرح سے محفوظ ہو جاتا یعنی ایک تو یہ گلنے سڑھنے سے بچ جاتا تھا اور دوسرا بیرونی حملہ آوروں سے محفوظ رہتا ۔ چونکہ وہ گھر کے ہر چیز کو آگ لگاتے تھے اور مسمار کر تے تھے اور یہ تِس زیر زمین ہو نے کی وجہ سے حملہ آوروں سے محفوظ رہتااور پھر پانج چھ ماہ بعد جب اس تِس یا کش سے اناج جب نکالا جاتا تو اس وقت بھی ایک عجیب و غریب رسم ادا کیا جاتا اور اس غلے کو پیسنے سے پہلے تھوڑا سا غلہ پیس کر ایک بڑی موٹی روٹی جس کو بروشاسکی میں برٹ بنایا جاتا اور اس کے اوپر دیسی گھی لگایا جاتا اور اس برٹ کو تھوڑا تھوڑا کر کے کئی دنوں تک گھر کا بزرگ صرف کھا سکتا تھا اورکسی دوسرے شخص کو اجازت نہ تھا۔اور کہا جاتا تھا اس طرح سے برکت ہو گی اور یہ غلے کا گو دام جلدی ختم نہیں ہو گا۔اور اس برٹ یا روٹی کی رسم کو کھشَشَ کہتے تھے۔

دینسلیکی(دن سلی کی) :

جب گندم کے اناج کا مکوک بنایا جاتاہے یعنی جب گند م کو کئی دنوں تک پانی میں بھگو کر ان کی حییت تبدیل کی جاتی ہے اور جب ان کی لمبی لمبی جڑیں نکل آتی ہیں تو اس کے بعد ان کو دھوپ میں خوب سکھایا جاتاہے اور پھر جب چکی میں پیستے ہیں تو چونکہ یہ آ ٹا ذائقے میں میٹھا ہو تاہے اس لئے چکی سے اس میٹھا س کو نکالنے کیلئے تھوڑا سا صاف سھترہ گندم پیسا جاتاہے جس کا ذائقہ مکوک سے کم میٹھا ہو تاہے اور پھر اگر مزید گندم کی پیسائی کی جائے تو اس کا ذائقہ میٹھا ہونے سے بچ جاتاہے ۔ مکو ک کا ذکر میں نے علٰحدہ سے کیا ہے ۔ اس کم میٹھے یعنی مکوک پیسنے کے فوراً بعد جو گندم پیسا جاتاہے اسے دن سلی کی یا دینسلیکی کہا جاتاہے۔ جو کہ مکوتی ، شوشب یا درم بنانے کا کام آتا ہیے جس کو دیسی حلوہ بھی کہا جاتاہے جو کہ عام طور پر موسم بہا ر کی آغاز میں تخم ریزی یا بو یا یوم کے موقع پر ہمیشہ اور دوسر ے مواقعو ں میں عموماً اور سردیوں میں نسالو کے مو قع پر بھی پکایا جاتاہے اور شوق سے کھا یا جاتا ہے۔Lajek of yaseen

اوسکیل چے دیچم:

یہ نیک شگون کے طور پر لیا جاتاہے اور بہت پرانا رسم یا رواج ہے جب کوئی فرد گھر سے کسی سفر پر نکلتا ہے یا شادی بیاہ کے مواقعوں میں جب براتی گھر سے نکلتے یا باہر سے آتے ہیں یا عام طور پر پولو کھیل کھیلنے کیلئے نکلتے وقت بھی کم و بیش او ر کسی بھی اچھے اور مشکل کام کیلئے گھر سے نکلتے وقت یا خدا نا خواہسۃ کسی گھر میں فوتگی کی صورت میں میت کو گھر سے نکالتے وقت یہ رسم ادا کیا جا تاہے۔ یا کسی بھی ایک انہونی قسم کا مہمان پہلی مر تبہ گھر آئے تو بھی یہ رسم ادا کیا جاتاہے۔ ہو تا یہ ہے کہ تھو ڑا سا گندم کا آٹا کسی برتن میں عام طور پر حنیک یا کسی تھال میں ڈال کر اس کے اوپر قرآن پاک کو رکھا جاتاہے پھر گھر کا کوئی بزرگ اس برتن کو اُٹھاتاہے اور دیسی گھر کے چاروں ستونوں کو اس آٹے کی ایک چٹکی لگاتاہے اور دیسی گھر کے( شتما ) آتش دان( چولھے )کے ارد گرد تین جگہوں میں ایک ایک چٹکی آٹا لگا تاہے اور پھر اس بر تن کو لے کر گھر کے دروازے سے باہر نکل کر کھڑا ہو جاتاہے اور جب سفر پر جانے والا شخص باہر نکلتاہے تو آٹے کی ایک چٹکی اس کے دائیں کندے پر لگاتاہے اور قرآن اس کے سر پر رکھتاہے اور جانے والا شخص قرآن پاک کو چوم کر گھر سے باہر نکلتاہے یعنی اللہ تعلی کے کلام کی پناہ میں وہ گھر سے نکلتاہے اور پھر سامنے والا شخص دعایہ کلمات کے ساتھ گھر سے باہر جانے والے کو رخصت کرتا ہے تاکہ بخیر و عافیت اپنے منزل مقصود تک پہنچ جائے ۔

پھتک : مندرجہ بالا رسم میں جو آٹا استعمال کیا جاتاہے اس کو پھتک کہا جاتاہے اور اس کا پس منظر شاید یہ ہے کہ گندم جو کہ انسانی زندگی کی بقا کیلئے لازمی ہے اور اسے اُس شخص کو رخصت یا گھر میں خوش آمدید کے طور پر استعمال کیا جاتاہے کہ اس کی زندگی دوام بن جائے اور خیریت سے آ ئے اور جائے

دوخنہ :

جب کسی روح کی ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی یا آیات بخشندہ کرایا جاتاہے تو گندم کے آٹے میں تھوڑا سا دیسی گھی یا تیل ملاکر آگ یا گرم انگاروں پر ڈالا جاتاہے اس سے جو دھواں نکلتاہے اس سے خوشبو آتی ہے شاید اس لئے یہ رسم اد ا کیا جاتا ہو کہ پرانے وقتوں میں اگر بتی وغیرہ نہیں ہو تاتھا تو عام طور پر گل (سرو) کے درخت کے پتے بھی خوشبو کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جیسے نگر یا ہنزہ میں ڈیئل کیلئے عام طور پر استعمال کیا جاتاتھا۔Darkut Yaseen

گل خان : راکھ کو گل خان کہا جاتاہے جو کہ پہلے زمانے میں عام طور پر اگر کسی بچے بلکہ بڑوں کے بھی پیٹ میں جب درد ہوتا تھا تو تھوڑا سا گرم راکھ ہاتھ میں لے کر اس درد والے جگہ میں تھوڑی دیر کیلئے رکھا جاتاتھا تو عموماً آرام آجاتا تھا اس کے علا وہ عموماً کوئی عورت اپنے باپ کے گھر سے رخصت ہو تی ہے تو تھوڑا سا راکھ ہاتھ میں پگڑ کر بازو کے کف میں لپیٹتی ہے

فو چے تواہ ایچُم ( آگ کا طواف):

یہ ایک عجیب سا رواج ہے چونکہ پہلے انگیٹھی نہیں ہوتی تھی بلکہ کھلے دیسی چولھے آ تش دان ( شتما) ہو تے تھے اور آگ سامنے جلتا نظر آتاتھا اور جب چولھے میں آگ تھوڑی دیر کیلئے بجھ گیاہو اور گرم ہو کر خود بخود آگ جل اُٹھے تو بوڑھے لوگ دیکھو آگ بھی جل اٹھا کہہ کر آگ کی طواف کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں یہ رواج گوپس کے علاقے میں بھی ہے۔ اور اگر کوئی شخص کوئی بات سنا رہا ہو اور اگر آگ جل اُ ٹھے تو ایک دم کہتاہے دیکھو میں سچ کہہ رہا ہو ں اس لیئے آگ بھی جل گیا ۔ اس طرح جب کوئی بندہ گھر سے کہیں سفر پر جانے کیلئے نکلنے لگے یا براتی گھر سے نکلنے لگے یا خدا ناخواہستہ کسی میت کو گھر سے نکالنا ہو تب بھی چولھے میں آگ کاجلنا ضروری ہے ۔ ان علاقوں میں آگ کی بڑی قدر کی جاتی ہے اس لئے بعض اوقا ت میں یہ سوچتاہوں کہ ہو سکتاہے قبل اسلام اس علاقے میں آگ کی پوجا کی جاتی ہو یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی ہے مگر قیاس ہے۔

تھیمی شنگ:

یہ رسم بھی تر قیش کی طرح صرف سلگان یعنی برکولتی، ہندور، درکوت تک منایا جاتا ہے یہ رسم تقریباََ بویایم یعنی رسم تخم ریزی کی طرح کا ہے گھر دلہن کی طرح سجایا جاتاہے اور آتش دانوں کو اچھی قسم کی مٹی سے لپائی کی جاتی ہے اور مکوتی وغیرہ پکایا جاتاہے اور غلمندی جو کہ دودھ یا پنیر میں روٹی کو لپیٹ کر گھی میں خوب بگویا جاتاہے تیار کی جاتی ہے اور نزدیکی برادری یا گاوں والے باری باری ہر گھر میں جاکر کھاتے ہیں اور روحوں کی بخشش کیلئے آیات یعنی قرآن پاک کی بعض آیات کی تلاوت کی جاتی ہے اور مر حو مین کی مغفرت کیلئے دعائیں مانگی جاتی ہے اور مکو تی پکایا جاتا ہے اور جدھر جدھر بچیاں بیا ہی گئیں ہیں ان کو مکو تی کا تحفہ بیجا جاتاہے

لو بہو :

تھیمی شینگ کے دوسر ے دن گڑریے جب بھیڑ بکریوں کو چرا کر واپس لاتے ہیں تو پہاڑوں کی ایک خاص اونچائی پر بڑے بڑے بکروں کو چن کر رسیوں سے باندھا جاتاہے اور باقی تمام بھیڑ بکریوں کو ایک آدمی ہانک کر گاوں کی طرف لے کر جاتا ہے جب وہ گاوں کے نزدیک پہنچ جاتا ہے تو پھر ایک آدمی ایک ایک بکرے کو کھول کر چھوڑتا ہے اور باقی بندے راستے میں چھپ کر بیٹھتے ہیں اور جب مست بکرا قلا بازیاں کھاتا ہو ا ان کے نزدیک پہنچ جاتاہے تو وہ مٹی جو خاصی مقدار میں پہلے جمع کر کے رکھتا ہے بکرے کی طرف پھینکتا ہے اس پر وہ بکرا بدک کر اور بھی دور چھلانگیں مارتا ہے اور قلا بازیاں کھاتا ہے اور لوگ جمع ہو کر اپنے اپنے بکروں کی تعر یف کر تے ہیں اور تفسیرے کرتے ہیں اور سب ملکر اچھے انداز میں چھلانگیں لگانے اور قلا بازیاں کھانے والے بکرے کی تعریف کی جاتی ہے اور دنوں تک یہ باتیں ہو تی رہتی ہیں کہ فلاں بکرا نے زبردست چھلانگ لگایا یہ ہوا وہ ہو اور اس بکروں کو بھگانے والے رسم کو لوبہو کہا جاتا ہے اور اس کے علاوہ اس روز ہر گھر سے چرواہوں کیلئے ایک مخصوص روٹی (ٹکی) جو کہ کیک کی طرح موٹا ہوتا ہے پکایا جاتاہے اور اس پر دیسی گھی کی کافی مقدار لگا کر اور کچھ گھی اسی طرح ہی اس کے اوپر رکھ کر دیا جاتاہے اور جب یہ لوگ اپنے ایک خاص مقررہ جگہ پہنچ جاتے ہیں تو پھر اس روٹی یا( مشٹیکی ) کو کھاتے ہیں اور بچا ہو تو آپس میں تقسیم کر تے ہیں اور پھر آپس میں کشتی کا مقابلہ کرتے ہیں اور سب سے جیتنے والا اس ایک سال کیلئے ان کا راجہ (سربراہ) چنا جاتاہے اور سال بھر اس کا حکم مانا جا تا تھا

فوتو اُھویچُم:

کہتے ہیں پرانے زمانے میں حلقہ تھوئی اور حلقہ سلگان میں ایک عجیب سی روایت تھی کہ گھروں کے اند ر نادیدہ مخلوق (بوت) ہو تے ہیں جن کو مار بھگا نا سال میں ایک دفعہ کم از کم ضروری ہے اور خاص کرموسم خزاں کے بعد سال بھر کی کمائی جو زمینداری سے حاصل کیا جاتا ہے ایک جگہ جمع ہو تا ہے اور جب تمام کاموں سے فارغ ہوتے اور جب رسم دیشکی یعنی بہت سارا اناج پیس کر سردیوں کیلئے سٹاک کیا جاتا تھا اور ڈشٹی (نسالو) وغیرہ بھی کرنے کے بعد ایک دن سات عدد چھوٹے چھوٹے روٹیاں (کلچہ) پکا کر اور گھر کے مکین خو د بھی عجیب حلیہ بنا کر مثلاََ ایک پاوں میں جوتا پہنتے تھے دوسرا ننگا ہوتا تھا ایک آنکھ میں سرمہ لگاکر ، ایک بازو کی آستین چڑھاکر د وسرا اندر لے کر گھر کے تما م کھانے پینے کے اشیاء پر لو ہے کی کوئی داری دار چیز مثلاََ چاقو، تیشہ، کلہاڑی، خنجر، تلوار، چھری ، نبدوق، پستول یا کم از کم لو ہے کی کوئی نہ کوئی چیز رکھتے اور ایک ہاتھ میں لکڑ کا کوئی ڈندا اور ایک تیز کاٹوں والی کانٹے کا ٹکڑا لیکر مکان کے چاروں کو نو ں سے ا نداد ھند مارتے ہو ے یہ کہتے کہ شہر کی طرف جاو اوہ ہمارے مہمانو شہر میں موسم گرم ہے ہر قسم کے پھل فروٹ پک چکے ہیں وہاں آ پ سردیاں آرام سے گذار سکے نگے اور پھر موسم بہار میں بیشک آجاو وغیرہ کے الفاظ پڑھتے ہو ے باہر کے دروازے سے باہر نکا ل کر واپس آ تے اور لکڑی کا ڈنڈا اور کانٹے کا ٹکڑا بیرونی دروازے کے اوپر ایک دوسرے کے ساتھ لپیٹ کر رکھ دیا جاتا تاکہ بوت واپس نہ آئے اور گھر آکر شکر کر تے کہ اب بر کت ہو گا ہمارے اخراجات پر بوتوں کا قبضہ اب ختم ہو گیا ۔

دیشکی:

یہ رسم تقریباََ پورے گلگت بلتستان میں شاید رائج تھا کہ سردیوں میں پن چکیاں بند ہو تی تھیں اور اس لئے تقریباََ پانی کے جم جانے یعنی برف کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ہی بہت سارا اناج (گندم، مکئی، جو، گہیوں، باقلہ،انو) وغیرہ پن چکیوں میں پیس کر سٹاک کیا جاتاتھا تاکہ موسم بہار تک کہیں آٹا ختم نہ ہوجائے اور اس موسم میں بھی چکی میں باری کا انتظار کرنا پڑتاتھا اور باری کیلئے تھوڑہ سا اناج نمبر لگانے کی خاطر چکی میں لے جاکر رکھا جاتا تھا اور باری آنے پر اپنا اناج چکی میں سٹاک کر کے پیسنا شروع کیا جاتاتھا اور مزے کی بات یہ تھی کہ یہ کام دن رات کیا جاتا تھا تب جاکر تمام لوگ اپنا اناج پیس کر سردیوں سے پہلے تیار کر سکتے تھے اس کو آٹے کا ذخیرہ بھی ہم کہہ سکتے ہیں اور یہ کام گندم پیسوانے والا خود کر تا جبکہ چکی کا مزدوری اس کے ملک کو دیا جاتا مگر آج بجلی کی چکی نے یہ کام آسان کی ہے کہ صرف گندم کے دانے چکی میں پہنچاواور آپ کا کام ختم چکی کا مالک پیس کر آٹا تیار کرکے دیتا ہے مگر روٹی کا ذائقہ پن چکی کی آٹے کی طرح نہیں ہو تا ہے۔

ڈشٹی (نسالو) :

یہ رسم بھی پورے گلگت بلتستان میں قدرے مشترک ہے اب بھی بہت سارے لوگ نسالو کر تے ہیں ہوتا یوں ہے کہ ایک جانور خاص کر بیل، گائے،یابکرے وغیرہ کو ستمبر کے بعد پالا پوسہ جاتا اس کو دانے وغیرہ بھی کھلاکر یعنی اس کو موٹا تازہ بنانے کیلئے جوکچھ بھی کھلاپلا سکتے ہیں کر گذرتے ہیں یہاں تک کہ وہ جانو ر خوب ہٹا کٹا ہو جاتا ہے اور نومبرکے آخر میں گاوں والوں کو بلا کر نسالو کے جانور کو ذبح کیا جاتا اور اس شام کو تمام گاوں والوں کو خوب گوشت اور تربٹ جو کہ اس جانور کے چربی میں درم (مکوتی) پکا کر کھلایا جاتا ہے اور پھر سردیوں میں خوب گوشت کا مزہ لیا جاتاہے بعض لوگ تو کئی کئی جانور بھی ذبح کرتے ہیں اور تقریباََ مارچ کے آخر تک یہ گوشت رکھ کر استعمال کیا جاتا ہے

ہشکی:

یہ ایک غیر لازمی قسم کا رسم تھا چونکہ یہ اس طرح ہو تا تھا کہ کسی بھی گاوں کے دس بارہ نوجوان ملکر کہتے کہ چلو ہشکی کیلئے آج رات چلتے ہیں اور یوں یہ جوان ملکر آدھی رات سے کچھ پہلے ملکر نکلتے اور کسی ایک گاوں کے گھروں کو چنتے اور ان کے چھت پر نکل کر دیسی گھر کے سم( سگم یا روشندان) کے گرد دائرہ کی صورت میں کھڑے ہو کر ایک خاص قسم کاگیت گاتے اور اس گانے گانے میں گھر والوں سے الگ الگ سوال کرتے یعنی گھر کی مالکہ اور مالک سے مختلف طریقے سے کچھ نہ کچھ ان کو پیش کر نے کا سوال کیا جاتا مثلاََ نینے باکا تھلوخ پھلتے اور نانے باکا کھمر پھلتے ، ہشکی ہشکی سم چا دایا ہنگ چا دایا وغیرہ یعنی انکا کہنا یہ ہے کہ اگر پھوپھی گھر میں ہیں تو وہ اپنا ساما ن رکھنے والا صندوق کو مہربانی کر کے کھولے اور اگر ماموہے تو وہ اپنا بندوق کے سامان رکھنے والا چمڑ ے کے تھیلے کو کھولے ہم لو گ ہشکی کیلئے چھت پر آئے ہیں اور ہم ہشکی کیلئے آپ کے صحن یا آنگن میں آئے ہیں اس طرح یہ گیت کافی لمبا ہے جو سنایا جاتا اور گھر والے اٹھ کر ان کو پھٹور، اخروٹ ، یا کوئی اور کھانے کی اشیاء دیتے اور بعض اچھے لوگ تو آدھی رات کو بھی ان ہشکی والوں کیلئے کھانے پینے یا کم از کم چائے کا بندوبست کرتے اور وہ لوگ کچھ نہ کچھ ساتھ لے جاتے اور کھا پی کر دعائے خیر دے کر جاتے اور پرانے اور بزرگ لوگ اسے خیرو برکت کا موجب جانتے اور خوشی محسوس کرتے مگر آج کے زمانے میں کسی کو کسی کے گھر رات کو جاکر دروازہ کھٹکھٹا نے کی جرات نہیں ہو تی ہے چہ جائکہ کسی کے چھت پر چڑھے۔

ہشکی کے بول یہ ہیں

جگاہو جگاہو مُک ہشکو یو ہنگ چا دویا، شولتا دویا، سم چا دویا ، ہیا ہیا ، ہشکی ہشکی

نینے با کا تھلو خ پھلتے بوتان دیوسے ، نانے باکا کھمر پھلتے ہنز ان دیوسے

ہشکی ہشکی ، سم چا دویا ، ہنگ چا دویا

ہن شیتی چی گویو مور مور ہن شیتی چی گو می شو مور مور

شَر چی گلا بے پا مور مور ، بیا کو شِی گلا بیا مور مور ، باچی گلا ہلدیو مور مور

ہیا ہیا ہنگ چا دویا، سم چا دویا

دس غوجلتی تو کا نے یم ،ڈاڈنگے سندی تو کا نے یم، غٹم بار کولتی تو کا نے یم، سینجور ہویلتی تو کا نے یم

ہیا ہیا ہنگ چا دویا ، سم چا دویا

پِق بو ٹرن مغ مغ نے تے ایتا گلی کِھتا گلی ، چون چی یرن ڈُغ ڈُغ نیتے اِ یتا گلی کِھتا گلی

ہیا ہیا ہنگ چا دویا سم چا دویا

چھنے ممو تلے ممو شُراپ تھیچا ٹیو ٹیو غمو، ہیا ہیا ہنگ چا دویا ، سم چا دویا

مدالے تلنگ یلتار گلنگ قر شافرنگ

زند گینگا تندرستینگا ، خو شانینگا ، صیحتی نگا

ہنگ چا دویا ، سم چا دویا ، ہیا ہیا ہشکی ہشکی

 قلمدری:

یہ بھی بھیڑ بکریاں چرانے والے گڑریوں کا ایک رسم ہے جو کہ دسمبر کے مہینے میں چرواہے اکھٹے ہو کر اپنے گاوں کے تمام
گھر وں میں جاتے ہیں ان میں سے ایک بوڑھا اور دوسرا کسی بوڑھی کی حلیہ بناکر مختلف مزاحیہ خاکے پیش کرتے ہیں اور باقی لڑکے دف بجا کر تماشہ پیش کر کے ہر گھر میں ایک دو لڑکے ناچتے ہیں اور گانا گاتے ہیں اور وہ بوڑھا اور بوڑھی گھر والوں سے مختلف کھانے پینے کی اشیاء کا تقاضہ کر تے ہیں اور آٹا ، گھی پھٹور ، اخروٹ جو بھی وہ ان گھر کے مکینوں سے نکال سکے مانگتے ہیں اور اکھٹا کرتے ہیں اور دوسرے دن ان اشیاء کو فروخت کر کے کوئی حلوہ یا مکوتی یا دیسی شربت بنا کر نا چ گانے کا اہتمام کرتے ہیں اور اس رسم کو گلگت میں شاپ اور گوپس والے اس رسم کو ہشکی کہتے ہیں۔

یِن یا آونار:

جب گڈریوں کے ذریعے بکریوں کو چرانے یا ریوڈ کو یا گلہ بانی کا رواج تھا تو اس وقت ہر ایک گاوں میں ایک یا دو گڑریا ہو تے تھے اور وہ پورے گاوں کے لوگوں کے بکریاں چراتے تھے جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے ان گڑریوں کو ریوڈ کو چراتے ہو ے دن کے وقت میں کھانے کیلئے ایک مو ٹی روٹی بنایا جاتاتھا جو کہ پہلے توے پر پھر انگاروں کے نیچے دبا کر پکایا جاتاتھا اور صبح جب بکریوں کو گڑریوں کے حوالے کیا جا تاتھا تو یہ ین یا اونار کو بھی ان کے حوالے کیا جاتاتھا اور وہ بکریوں کو چراگاہ میں چراتے ہوے دن کو کھاتے تھے اور جو بچتا تھا اپنے گھر لے جاتے تھے اور بعض لوگ گڑریوں سے درخواست کر کے یعنی مانگ کر کھاتے تھے کہ ین کو کھانے سے نیند آتی ہے یہ کہاں تک سچ تھا اللہ بہتر جانتاہے۔

بک دیچم :(نر سنگا بجانا)

یہ پہاڑی بکرا جس کو مقامی زبان میں سمور کہا جاتاہے کا سینگ ہو تا تھا جس کے درمیان سے سوراخ ہو تا تھا اور باریک سرے میں ایک لکڑی لگایا جاتا تھا جس میں بانسری کی طرح کا سوراخ کیا ہوتا تھا جس میں پھونک مارنے سے بہت اونچی قسم کی اواز آتی تھی اس کے ذریعے گڈریا ایک دوسر ے کو تنزیا الفاظ کا تبادیلہ بھی کر تے تھے اور اچھے باتیں بھی اور ایک خاص قسم کا آواز اور باتیں اس کے ذریعے کیا جاتا تھا ۔جس کو شاید اردو میں نر سنگا کہاجاتاہے۔

دارسیری :

یہ کھوار کا لفظ ہے جس کا مطلب لکڑیا ں جمع کرنا یا ذخیرہ کرنا ۔ چونکہ گلگت بلتستان میں سردیوں میں سردی بہت پڑتی ہے اس لئے موسم گرما میں بھی لیکن خاص کر موسم خزاں میں جو کہ تقریباً اکتوبر نومبر میں دور دور نالوں سے لکڑیا گدوں پر ، اور پیٹھ پر اٹھا کر یا بعض مگر بہت کم جگہوں میں ٹر یکٹر کے ذریعے سوکھی لکڑی کا خاص کر ایک مقررہ میعاد میں جمع کیا جاتاہے اور پھر اپنے درخت کاٹکر بھی ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا جاتا ہے اس کو دار سیری کہا جاتا ہے۔

(جاری ہے )

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔