داسو ڈیم سے متاثر ہونے والی شاہراہ قراقرم کی تعمیر نو پر دو اداروں کے درمیان سرد جنگ، عوام رُل گئے

داسو ڈیم سے متاثر ہونے والی شاہراہ قراقرم کی تعمیر نو پر دو اداروں کے درمیان سرد جنگ، عوام رُل گئے

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کمیلہ کوہستان ( نمائندہ خصوصی) کوہستان، داسو ڈیم میں متاثر ہونے والی بین الاقوامی شاہراہ قراقرم کی دوبارہ تعمیر پر چائنیز کمپنی اور واپڈا حکام کے مابین سرد جنگ کے باعث لوگوں کی املاک متاثر ہونے کے ساتھ پرانی شاہراہ پر مسافروں کا چلنا محال ہوگیاہے۔CCECC(China Civil Engineering and Construction Company)کمپنی ملبے کو متعین جگہ پہنچانے کے بجائے دریائے آباسین کے کنارے پرانی شاہراہ قراقرم پر پھینکنے لگی ، بار بار گاڑیوں کو روک کر دوردراز سے آنے والے مسافروں کو تنگ کیا جانے لگا جبکہ مقامی املاک ، پائپ لائن، نہریں اور کھیت بھی تباہ ہونے لگے ، واپڈا اور ٹھیکیدار معاملہ ایک دوسرے پر ڈالنے لگے ۔چائنا کمپنی کے ترجمان مسٹر ٹونی (TONY) کے مطابق واپڈا نے انہیں ملبہ ڈالنے کیلئے کوئی جگہ فراہم نہیں کی، جو سٹرکچر تباہ ہوا اُس کی تعمیر کا معاوضہ نہیں دیا جارہا، تباہ شدہ سٹرکچر کی بحالی کیلئے معاوضے کے پیپرز پر دستخط کئے گئے تو فوری بحالی کا کامشروع کریں گے ۔ بائی پاس کیلئے جو ایریا دیا گیا ہے اسی کو ملبے کیلئے بھی استعمال کررہے ہیں۔ ادھر داسو ہائیڈ رو کنسلٹنٹ روڈ انجینئر سردار ارلر( Serdar Erlor) کے مطابق کنٹریکٹر معاہدے سے روگردانی کررہاہے تمام ڈھانچے کی بحالی کی ذمہ داری کنٹریکٹر کی ہے جس کے پیپرز پر دستخط بھی موجود ہیں ۔ واپڈا نے انہیں تمام سٹرکچر کی بحالی کے پیسے دینے ہیں ۔ معمولی سے کام میں رکاوٹ پیدا کرکے لوگوں کو واپڈا کے خلاف بھڑکایا جارہاہے جو افسوسناک ہے ۔ مسٹر ارلر نے صحافی شمس الرحمن کوہستانی ؔ کوبتایا کہ RaR 01سے متعلق 9اگست 2016کوکنٹریکٹر سے تحریری طورپر گزارش کی گئی کہ لوگوں کی املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے ،تحریری شکل میں موجود معاہدے کے مطابق کام کیا جائے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہورہے ۔واضح رہے کہ ادارے(واپڈا) اور ٹھیکیدار کے مابین سرد جنگ کے باعث مسافروں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے اور بھاری مقدار میں آئے روز شاہراہ پر ملبہ گرانے سے انسانی جانوں کا بھی ملبے تلے آنے کا خطرہ ہے جبکہ قریبی آبادی کو بھی نقصان پہنچ رہاہے ، لوگوں کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹر کو پابند کیا جائے کہ وہ ملبے کو متعین جگہ پھینک دے اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے سے باز رہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔