گوہر مراد 

گوہر مراد 

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: عنایت اللہ فیضی

ممتاز حسین گوہر صاحب نے شندور کا مقدمہ حصہ دوئم شائع کر کے ایک بار دعوت فکر دی ہے

دیکھنا تقریر کی لذت جو اس نے کہا
میں نے جانا گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

چونکہ گوہر صاحب کا گوہر مراد سرفراز شاہ کی تحریر وں سے آتا ہے اس لئے بنیادی حقائق سے پہلوتہی کر کے ہوائی باتین کی جاتی ہیں سر فراز شاہ کی طر ح گوہر صاحب بھی قطعاً پسند نہیں کرتے کہ شندور کوکوش لنگر کے استفادہ کنندہ گان کا زکر کیا جائے غذر کے ولئے (کاکا خیل )سو کھے ،موکھے ،چوروٹے ،بوتے ،کھونے ،ٹونگے اور دیگر اہم اقوام کازکر کیا جائے ان کی رائے پوچھی جائے ۔اس طرح لاسپور کے بوژوکے ،اوکیلے ،برامے،کڑامے،ژوندرے ،سید ، ٹھولے ،ڈونے ،حاکمے،خوشے ،زانگئے ،دانزے ،بڈورے و دیگر اقوام کا نا م لیکر ان کی رائے لی جائے یہ لوگ ہیں جو صدیوں سے شندور کو کوش لنگر میں موروثی اور دستوری حقوق کے حوالے سے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں ان کے درمیان جھگڑے بھی ہوئے جرگے بھی ہوئے فیصلے بھی ہوئے پرل کا نٹی نینٹل ہوٹل پشاور میں کوہاٹ اور چلاس کے معتبرا ت نے جو مفاہمتی کا غذبتا یا اس کو خفیہ رکھنے سے مسائل پیدا ہو ئے ۔اگر مفاہمت کی ضرورت تھی تو کو ہاٹ اور چلاس کے لوگوں کے درمیان مفاہمت کی ضرورت نہیں تھی غذر اور لاسپور کے عوام کے درمیان مفاہمت ہونی چاہئے تھی مجھے یہ پڑھ کر دکھ ہوتا ہے کہ گوہر مراد میں سر فراز شاہ کی طرح ڈیورنڈ لائن کا زکر آتا ہے شندور کا مقدمہ ڈیورنڈباونڈری سے کوئی تعلق نہیں رکھتا چھوٹے بھائی الجرنن ڈیورنڈنے گلگت اور چترال کا سفر نامہ لکھا بڑے بھائی مُر ٹا مر ڈیورنڈکو بعد میں افغانستا ن اور پاکستان کے درمیا ن موجودہ سرحد کے تعین کی ذمہ داری سونپی گئی پاکستان اور افغانستان کی سرحد ڈیورنڈ لائن اور ڈیورنڈ باؤنڈری کہلاتی ہے شندور اس کا حصہ نہیں ہے اسی طرح کی غلط فہمی واٹر شیڈ یعنی پانی کے بہاؤ اور کر یسٹ آف ماونٹین یعنی پہاڑی چوٹی کے قدیم اصول کے حوالے سے پید اکی جارہی ہے سروے آوف انڈیا اور سروے آف پاکستان نے وقتاًفوقتاًجو پالیسی جاری کی ہے اس پالیسی میں صراحت کے ساتھ لکھا گیا ہے اور ایک جیسے الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ نقشہ (Map)سرحدوں کی تعین کے لئے معتبر دستاویز کا درجہ نہیں رکھتا جہاں انسانی آبادی ہوگی ،دو ملکوں ،دو صوبوں ،دو ضلعوں یا دو تحصیلوں ،تعلقوں کے درمیان حدود کا تعین کا سوال اٹھے گا مقامی دستور ،نظائر ،شورید اور مقامی روایات کے مطابق حدود کا تعین کیا جائے گا سروے آوف پاکستان ،نیشنل میپ پالیسی 2010ء پیرگراف 6سب پیرا گراف سی میں اس کا تفصیلی زکر ہے گو گل سے آپ کو یہ گوہر مراد بھی مل جائے گا

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں بھی جنوں میرا
یا اپنا گریبا ن چاک،یا دامن یزدان چاک

جو مسلہ زندہ انسانوں کا مسلہ ہو ،انسانی بستی کا مسلہ ہو اس پرجر گے ہوتے ہوں فیصلے ہو ئے ہوں اس مسلے پر ہوائی باتیں نہیں کی جاتی ،سابقہ فیصلوں کو سامنے رکھا جاتا ہے شواہد اور نظائر کو دیکھا جا تا ہے ورکنک پیپر ،سُنی سنائی باتیں اور من گھڑت کہانیاں شندور کے مقدمے میں کام نہیں آئینگی کو نا اور ماٹوٹی لاسپور اور غذر کے عوام کے درمیاں اتحاد کی دو علامیتں ہیں آج بھی یہ دو نام ضرب مثل کی حیثیت رکھتے ہیں میں کچھ اور کہنا نہیں چاہتا خواجہ حافظ شیرازی کا شعر اپنے دوست سید عباس کا ظمی کی خدمت میں پیش کیا تھا یہی شعر بعد اداب ممتاز حسین گوہر صاحب کی نذر کرتا ہوں ۔

بد گفتی و ضر سندم عفاک اللہ نِکوگفتی
جواب تلخ می زیبد لبِ لعلِ شکرخارا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments