چارٹر آف ڈیمانڈز پر عملدرآمد کے لئے 26 اگست کو گلگت میں سکردو میں دھرنا دیں گے، عوامی ایکشن کمیٹی کا اعلان

چارٹر آف ڈیمانڈز پر عملدرآمد کے لئے 26 اگست کو گلگت میں سکردو میں دھرنا دیں گے، عوامی ایکشن کمیٹی کا اعلان

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( سٹاف رپورٹر) عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان نے سی پیک میں گلگت بلتستان کو حصہ، ٹیکسز کے نفاذ کے خلاف، سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی سمیت11نکاتی چارٹرڈیمانڈ پر عمل درآمد کے لئے 26اگست بروز جمعہ کو گلگت اور سکردو میں دھرنے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کا باقاعدہ اعلان منگل کے روز گلگت پریس کلب میں چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس، رکن قانون ساز اسمبلی حاجی رضوان علی، یصوب الدین، کریم خان و دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے 28سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظمیوں کا اتحاد ہے۔ جس کے کوئی سیاسی عزام نہیں ہے۔ اس اتحاد کا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کا حقوق کے حصول ہیں۔ چارٹر آف ڈیمانڈ کے حصول کے لئے اگر نیشنل ایکشن پلان کے تحت کاروائی عمل میں لائی گئی تو بھی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وزیرا عظم پاکستان کی عدم دلچسپی اور نااہلی کی وجہ سے نرنندر مودی نے گلگت بلتستان کے لئے آواز بلند کی ۔ اگر نااہلی کی یہی حالت رہی تو اقوام متحدہ بھی گلگت بلتستان کے عوام کے لئے آواز بلند کر ئیگی۔ جس سے حکمرانوں کو مذید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اُنہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26اگست کو صبح 9 بجے سے شام 6بجے تک دھرنا دیا جائے گا اس کے بعد تحریک کو گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں وسعت دی جائے گی۔جس کے بعد گلگت بلتستان کی حالات کی ذمہ داری صوبائی اور وفاقی حکومت پر عائد ہو گی۔ پریس کانفرنس میں عوام ایکشن کمیٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی راہداری میں گلگت بلتستان کو موجودہ آئینی ، جغرافیائی حیثیت کو مد نظر رکھتے ہو ئے حصہ قرار دیا جائے۔ اقتصادی راہداری میں گلگت بلتستان کو ٹیکس فری زون قرار دیا جائے ، سی پیک میں موجودہ تمام پراجیکٹس گلگت بلتستان میں لگایا جائے۔ گلگت بلتستان میں کم از کم تین اکنامک زون قائم کیا جائے سی پیک میں گلگت بلتستان کی ثقافتی اور مذہبی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے نیز گلگت بلتستان کے تما م تاریخی روٹس کو سی پیک میں شامل کیا جائے۔ مستقبل کے حوالے سے مستقبل بنیادوں پر سی پیک میں حاصل ہونے والی انکم میں سے کم سے کم گلگت بلتستان کو 20فی صد شیئر دیا جائے نیز سوست پورٹ کو گلگت بلتستان سے باہر لے جانا غیر قانونی اقدام ہو گا۔گلگت بلتستان میں عائد تما م ٹیکسز ختم کئے جائے۔ جنرل سیلز ٹیکس میں گلگت بلتستان کو حصہ دیا جائے۔ گندم سبسڈی سمیت 23اشیاء پر حاصل سبسڈی جو کہ یکہ طرف ختم کیا گیا ہے اس سے فوری طور پر بحال کیجائے۔خالصہ سرکاری کے نام پر عوامی اراضی پر ناجائز قبضہ ختم کیا جائے۔گلگت بلتستان کے ملازمتوں میں میرٹ کے مطابق بھرتیاں کی جائے ۔ تھور اور ہربن تنازعہ حل کیا جائے۔گلگت بلتستان میں میڈیکل اور انجیئنرنگ کالج تعمیر کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات جائز ہیں اگر چارٹر ڈیمانڈ میں تاخیر حربے استعمال کیا گیا تو گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں صوبائی حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔