تا ریخ شندور اور خو دکش مو رخ ( دوسری قسط)

تا ریخ شندور اور خو دکش مو رخ ( دوسری قسط)

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بر ملا ظہار: فدا علی شاہ غذریؔ

’’فیضی صاحب کی ذات گرا می کو غا ئبا نہ طو ر پر دو عشروں سے جا نتا ہوں لیکن اُن کی خاندان سے تعلق کئی عشروں پر محیط ہے اُن کے معزز خاندان کے بہت ہی محترم قادر دشمن مرحوم

( جو رشتے میں اُن کے سگے چچا تھے) وادی بالیم چھو ڑ کر میرے گاوں وادی پھنڈر کے دامن میں ہما رے خاندان کی ہمسا ئیگی میں ایک نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ میرے ا سلاف سمیت علا قے کے دیگر لو گوں نے اُن سے علمی فیض اور استعفادہ حاصل کر تے تھے اور وہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھے جا تے تھے مو صوف مر حوم میرے والد صاحب کی نو جوانی میں اس دار فا نی سے وفات پا گئے ۔ اُن کے بعد اُن کا بیٹا برادر خان المعروف قا ضی سے ہمارے خاندان کے قریبی روابط رہے ہیں اور بعد میں ہمارے بیچ رشتہ داری شروع ہو ئی جو

ا لحمدا للہ جو آج بھی قائم ہے، مجھ سمیت میرے خاندان کو اپنے بھانجا آصف علی اور ان کے دیگر بھا ئیوں اور بہن سے انتہا درجے کا پیار ہے ۔

قا ضی صا حب مر حو م کی زندگی کا فی دقت اور مشکلات سے گزر گئی لیکن اُن کے فر زند مر حوم میر ہزار خان کی انتھک محنت نے اُن کے بچوں کو علمی زیور سے آرا ستہ کی، مر حوم نے دن رات ایک کر کے اپنے بچوں اور بھا ئی کو ایک اچھی زندگی کا آغاز دے کر خود ہم سب کو اُداس کر کے وہاں چلے گئے جہاں سے کو ئی لوٹ کر نہیں آیا۔ فیضی صا حب کی( قومیت )کے دیگر افراد بھی وادی پھنڈر کے معزز اور معتبر خاندانوں میں شمار ہو تے ہیں۔ بزرگ سما جی شخصیت اکبر شا صاحب (جو کہ ابھی حیات ہے) علاقے کے خبر دار لو گوں میں شمار ہو تے ہیں جن کا ذکر فیضی صا حب نے اپنے ایک کالم میں کر چکے ہیں لیکن افسوس ہوا کہ رشتوں کی ذکر میں کہیں بھی برادر خان شا مل نہیں تھا جو کہ اُن کے سگے چچا کی واحد اولاد تھے۔ مکھی سلیمان شاہ مر حوم پھنڈر کے معز ز ترین اور علمی لو گوں میں شمار ہو تے تھے اور جو عزت اور پیار اُن کے حصے میں آئی تھی قا بل رشک ہے۔ خوش قسمتی سے مر حوم برا در خان کی صحبت مجھے بھی نصیب رہی اور ہم کچھ لڑکے اُن کے خو با نیوں کے باغ میں بیٹھ کر اُ ن سے چترال اور بالیم کی با تیں سنتے تھے اور وہ ہمیں اپنے والد بزرگ اور دادجان کی با تیں اور کہا نیاں

سنا تے تھے میرے چچا ذاد بھا ئیوں کی نظر خو بانیوں پر ہو تی تھی لیکن مجھے ہمیشہ اُن کی کہا نیوں سے دلچسپی تھی۔ اُنہوں نے مجھے اپنے بزرگ دادا جان کی تین دلچسپ کہا نیوں کے ساتھ ایک سو نے کی سٹول( سندا ڑی) کے با رے میں بتا ئی تھی جو آج بھی من و عن، سہ پہر کے خوبصورت منظر اورپکی ہو ئی خو با نیوں کی گرتی آوازیں اور ان کی خو شبو کیساتھ یاد ہیں‘‘۔ میرا دوست خاموش ہو ا کہ میں وہ تین کہا نیاں بھی سنا دوں لیکن میں رک گیا اس لئے نہیں کہ کہانیاں بُری یااچھو ت تھیں بلکہ اس لئے کہ یہ کہا نیاں صرف فیضی صاحب کو سنا نے کے لئے ہیں اور کبھی اُن سے با لمشا فہ ملاقات ہو ئی تو اُن کے گوش گزار کروں گا۔ فیضی صا حب کو جا ننے کا سلسلہ صرف اُن تین کہا نیوں پر محیط نہیں رہا بہت ساری با تیں ہو تی رہی اور یا داشت کا حصہ بنتی گئی۔دن بدلتے رہے اور میں سکول سے نکل کر کا لج، کا لج سے نکل کر شہر اقتدار میں صحا فت اور پڑ ھنے لکھنے کے مرا حل سے گزر تا گیا ، یو نیو رسٹی میں چترالی دوست ، روم میٹ ہمیشہ چترالی اور یوں فیضی کی کہا نیاں سنتے سنتے میں آدھا چترا لی بن کر رہ گیا ہوں ۔ اب زرا پھر قسطوں میں خو دکشی کر نے کی طرف جا رہا ہوں خو دکشی کا میاب ہو ئی تو یہ آخری کالم ہے اگر کسی طرح بچ نکلا تواگلی قسط بھی آئیگی ۔۔۔

فیضی صاحب !! الفاظ تب تک لکھا ری کے ہیں جب تک پیرا ئے میں پرو ئے نہ جا ئے اور پرو کر قر طاس کی زینت بننے کے بعد قا رئین کے حوا لے ہو تے ہیں اور وہ اپنے فہم و فرا ست (لیول آف انڈر سٹینڈ نگ) کے مطا بق ان کی تشریخ لکھتے ہیں ۔ خوش قسمت لکھا ریوں کو فہم و فرا ست والے قا رئین ملتے ہیں اور با ادب اور با نصیب قا رئین کو اچھے لکھا ری مل جا تے ہیں۔ ہم دو نوں کی بد قسمتی ہے کہ ہم پرا نی اور محدود دنیا کی با توں کی کتا بچے اور کالم تخلیق کرکے قا رئین کا وقت ضیا ئع کر تے ہیں لیکن کیا کر یں گز شتہ سے پیو ستہ ہوہی گئے ہیں تو ہمارے قا ر ئین کچھ اور بے وقعت اقسا ط پر گزاراکر ہی لیں گے ۔ لاسپور کے کچھ آپ کے قدر دانوں کو میں فارغ نظر آتا ہوں ، کچھ کو کسی کا ایجٹ اور کچھ کو نفسیاتی دباو کا شکار لگتا ہوں لیکن ایسا با لکل نہیں ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے سطروں سے بھا گنے کی عادت نہیں اور نہ ہی اپنے لفظوں کو کسی اور کا نام د ے کر’’کا لم ‘‘ تخلیق کر نے کی ہمت و ضرورت ہے۔یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ سچا ئی کا سفر ہمیشہ فردواحد سے شرو ع ہو تا ہے، ابتدا میں مسا فر تن و تنہا نکلتا ہے اور چلتے چلتے کاروان بنتاجا تا ہے ۔رب کر یم نے حق اور با طل کے بیچ لا ئن بنا کر الگ کر دیا ہے حق پر بات کر نے والے کے ساتھ کو ئی نہیں ہو تا اور با طل کی پہچان ہی یہی ہے کہ ہز یان بکنے و الوں کی فوج ظفر موج ساتھ ہو گی اور یہی نعمت آپ کو جمال الدین جیسے لو گوں کی صورت میں حا صل ہے۔ آپ کے قلم سے چر چل بننے والوں کی اصل حا لت یہی ہے کہ اُن کے گھر میں تر بیت نام کی کو ئی چیز نہیں لیکن قر طا س میں بات تر بیت اور چر چل کی کر تے ہیں مہذب اور باآدب تحا ریر کو سو قیا پن کا نام دیتے تھے۔ آج اُس نقلی چرچل کے بھتیجے کی پا میر ٹا ئمز پر میرے مضمون پر ایک را ئے نے خا ندا نی تر بیت کا پردہ چا ک کر دی۔۔ افسوس تو یہ ہے کہ ’’ بول بو غک لا سپر کان‘‘ (عوام لاسپور )کی یو نین کونسل کا نا ظم ایک دشنام طراز شخص ہے مجھے تو یہ لگتا ہے کہ علاقہ لا سپور کے غیور عوام اُن کو ووٹ دینے پر

نا دم ضرور ہو نگے۔

فیضی صاحب !! بعض لفظوں سے دکھ سب کو پہنچتا ہے آپ کے حقا ئق نا مے میں شوا ہد سے نہیں بلکہ الزا مات سے دکھ ہوا تھا ، نفرت کی پر چار سے دکھ ہوا تھا لیکن مجھے اس لئے افسوس ہے کہ میں نے تو رشتوں کی پا ما لی کو نا منظور کہا ہے اس سے بھی چند لوگوں کو تکلیف ہو ئی ہے۔ دکھ تو یہ ہے کہ میرے بہت ہی قریبی لوگ اورخاندان بھی ان اقساط پر گہرے صد مے میں ہیں اور خود کو تا ریخ شندور کا با تاج بادشا ہ سمجھ کر طفل مکتب ہو نے کا طعنہ د ینے کے ساتھ ساتھ سر فراز کا ہم نوا نہ بننے کی نصیحت بھیج رہے ہیں حا لا نکہ سچ تویہ ہے کہ میں سرفراز شاہ صاحب کا سب سے بڑا مخالف ہوں اور اپنے ۱۳سالہ صحا فتی دور میں سب سے زیادہ قلمی جنگ بھی اُ نہی کے ساتھ کیا ہے اور اُن ( گزشتہ ) قسطوں میں بھی اُن کی ذات کو ہدف تنقید بنا یا ہے ۔ اُن کی کتاب کی تلاش جا ری ہے ہاتھ لگی توپو سٹ مارٹم ہو گی اور اگر رپورٹ سے نفرت کی تعفن آئی تو یاد رکھنا اقساط اُن پر بھی لکھی جا ئیں گی اور تا ریخی رشتوں کو رو ندنے والے ہر لفظ کا بد لہ لیا جا ئے گا کیو نکہ بر ملا اظہار کی سطروں میں تا ریخی رشتوں کو پا ما ل کر نے کی جرم میں حقیقت کی کڑوی گو لی کھلا نے کی سزا ہے جو نفرت کے تمام پجا ریوں سمیت اپنے اس قر یبی خاندان کو بھی کھلا ئی جائیگی ۔ اُ ن کی ذہنی خبط کے لئے عرض ہے،

اپنی عادت ہے اندھیروں میں جلا تے ہیں چراغ

اُن کی ضد ہے کہ زما نے میں یو نہی رات رہے

فیضی صا حب !! مجھے معلوم ہے کہ آپ سر زمین پا کستان میں رہتے ہیں شا ید آپ بھو ل رہے ہیں کہ اس پا ک سر زمین کو بنا نے اور بچا نے میں ہما رے اسلاف کا کر دار رہاہے، ہما را خون بہہ کر اس سر زمین کو آزادی دی ہے۔ نہ جا نے کیوں آپ جیسے لوگ گلگت بلتستان کو پا کستان کے نقشے سے با ہر سمجھتے ہیں؟یاد رکھیں اس خطے کے بغیر پا کستان کا نقشہ کل بھی آدھورہ تھا اور آج بھی آدھورہ ہے۔ اپنی دو سری قسط میں پا کستان کی سر زمین کی محبت کا راگ آلا پتے ہو ئے آپ ’’ نا دا نی کی کمال دا نا ئی ‘‘ اور دوسری قسط میں خو د ہی خود کشی کر تے ہو ئے دیکھا ئی دیتے ہیں ۔ میری تا ریخی حوالوں کو بے وضع قرار د ے کر خود اپنے الفاظ کو ا یسے لو گوں کا نام دیتے ہیں جن کو اپنا نام لکھنا تک نہیں آتا اور اُن تحر یروں میں معا ہدہ امر تسر کا بار با ذکر چھیڑ کر اور اُس کی سطریں لا نے کا چلیج دے کر آپ مجھے اور کئی قسطیں جنم دینے پر مجبور کر تے ہیں۔ سر زمین چترال کے مشہور و معروف مو رخ!! معا ہدہ امرتسر کسی اہل گلگت بلتستان اور ہندو ستان کی مفا ہمتی یاداشت نہیں تھا بلکہ وہ انگر یزوں اور مہارا جہ کشمیر کے درمیان طے تھا جو کہ 1935ء کے معا ہدہ پٹہ کے بعد اپنے آپ ہی ختم ہوا تھا اور 1947 ء کو آزادی پا کستا ن کے دن گلگت بلتستان پر انگر یزوں اور ڈوگروں کی حکو مت تھی اور معا ہدہ پٹہ کے تحت ڈو گرے اور انگریز وں نے 1995ء تک یہاں رہنا تھا لیکن ہمارے بزرگوں نے یکم نو مبر 1947ء کو گھنسارا سنگھ کی لاش کیساتھ معا ہدہ پٹہ اور امرتسر کی رہی سہی کسر بھی خاک میں ملا دیا اور گلگت کو آزاد کر کے پا کستان کی جھو لی میں ڈال دیا ۔ آج 69برس بعد تا ریخ گلگت کو جھٹلا نے، گلگت بلتستان کو پا کستان کا حصہ نہ ما ننے اور معا ہدہ امر تسر کی مردہ سا نسیں بحال کر نے کی صدا سر زمین چترال سے بلند ہو نا اس بات کی گوا ہی ہے کہ راء کا اصل ایجنٹ سر زمین چترال میں چترا لی بن کر رہ رہا ہے جو کہ نہ صرف ملک پا کستا ن کے لئے خطرہ ہے بلکہ چترال کے غیو ر اور محب وطن پا کستا نیوں پر سیاہ دھبے کا با عث ہے ۔ اور یہی لوگ اپنی حب الو طنی ثا بت کر نے کے لئے اہل گلگت اور غذر پر الزامات لگا رہے ہیں جو ’’ چور مچا ئے شور ‘‘کے مصداق عمل ہے۔ اور آخری بات یہ کہ قسطیں لکھنے سے کردار مشکو ک نہیں ہو تابلکہ مشکوک عمل سے کردار مشکوک ہو جا تا ہے۔ میں ایسے الزامات اور جذ با تی با توں کو حقا ئق نا مہ بنا کر مصنف بننا نہیں چا ہتا اور چترال ٹا ئمز، سمیت گلگت کے تمام اخبارات کے پاس کالم نگا ری کے لئے محدود جگہ دستیاب ہے جہاں 30صحفات پر مشتمل کا لم نہیں ہوتا بلکہ سو دو سو سطروں پر مشتمل تحر یر کالم کہلا تا ہے اور تحر یر لمبی ہو تو اقساط میں شا ئع ہو تی ہے یہی رواج جدید صحا فت میں عام ہے لیکن ایک پیرا گراف پر مشتمل قسط اور کالم کا با نی ڈاکٹر فیضی ہی ہو سکتے ہیں۔

فیضی صاحب!!سر زمین چترال محبت کی سر زمین ہے وہاں نفرت کی کو ئی گنجا ئش ہی نہیں ہے ما ضی میں بھی ایک صا حب نے بھرے مجمع کو جلاو گھیراو کی تلقین کر کے با ہر نکلا تو صرف ایک شخص اُن کے پیچھے کھڑا تھا (تفصیلات چا ہئے تو وہ بھی مہیا کروں گا )۔ اگر چترال کی تا ریخ میں زندہ رہنے کا شوق ہے تو با با میرزہ سیار بن، آمیر گل بن جا، گل اعظم خان گل بننے کی تگ ودو کر ، محمد حسن بنو، رحمت اکبر، گل نواز خا کی اور علی ظہور بن ۔۔۔اگر نہیں تو نفرت اور تنا زعوں سے پاک فیضی بن کر رہے تاکہ کھوار ثقا فت کی دنیا آپ کے نام پر فخر کر یگی ورنہ اُن ہزاروں نفرت کے بیچ بو نے والوں کی طرح ایک گمنام قبر کا اُداس مکین بننا مقدرہو گا۔

( دل آزاری پر معذرت خواہ ہوں)

یار زندہ صحبت با قی !

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔