یہ ایک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا

تحریر: فہیم اختر

مایوسی ایک انتہا کا نام ہے جو اس وقت جاگ جاتی ہے جب کسی بندے کو بار بار دیوار سے لگایا جاتا ہے ۔ اس کی وہ امید جب ٹوٹ جاتی ہے جو اس نے کسی شخصیت یا کسی نظام سے وابستہ کررکھی ہوں۔ اور جب بھی انتہاپہنچ جائے تب دلیلیں اور فلسفے بے سود اور بے کار ثابت ہوجاتی ہے ۔مسلم لیگ ن کو گلگت بلتستان میں حکومت ملے ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے ۔ تین سالہ کارکردگی بیان کرنے اور کارکنوں میں نئی روح پھونکنے کے لئے صوبائی حکومت نے چند روز قبل سوشل میڈیا کنونشن منعقد کرایا جس میں گلگت بلتستان بھر سے سوشل میڈیا میں ’ایکٹو‘ کارکنوں کو یکجا کردیا جس میں خاتون وزیرثوبیہ مقدم نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد کو کنونشن کے پنڈال تک لیکر آئی جو کہ دیگر تمام کی ناقص پالیسیوں کے لئے ایک اشارہ اور لمحہ فکریہ بھی تھا۔ بنیادی طور پر منشور اور کارکردگی وہی ہوتی ہے جس کااظہار اور اعتراف متعلقہ ادارہ یا شخصیات کرتی ہوں۔ مسلم لیگ ن نے گوکہ اپنی کارکردگی بتانے کے لئے سوشل میڈیا کنونشن کا انعقاد کیا لیکن کارکردگی وہی ہے جو کارکنان سمجھ رہے ہیں۔

وفاق میں ن لیگی حکومت کے ختم ہونے کے ساتھ ہی صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جواب مل رہا ہے ۔ محبوب علی عباس اوبامہ گلگت بلتستان کونسل کے لئے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر تھے ،عالمگیر حلقہ نمبر1گلگت سے الیکشن کے امیدوار تھے اور ن لیگ سے ٹکٹ کی درخواست کی تھی اس سے قبل ضلع کونسل گلگت میں ممبر بھی رہ چکے ہیں، انیس الرحمن شیخ ن لیگ کے متحرک کارکن تھے ، فدا حسین ن لیگ کے متوالے تھے اور 28سالہ طویل رفاقت تھی اور سیف الرحمن شہید کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرچکے تھے ۔ لیکن سب کے سب نے مسلم لیگ ن سے نہ صرف لاتعلقی کااظہارکردیا بلکہ نئی مدمقابل جماعت تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ۔ درج بالا شخصیات میں سوائے اول الذکر کے باقی سب نے کئی بار وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور صوبائی صدر مسلم لیگ ن کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا لیکن لازمی بات ہے کہ کوئی شنوائی نہیں ہوسکی۔ آپ راجہ شبیر ولی (مرحوم)کی مثال لیجئے جو مسلم لیگ ن کا ایک نام تھا جس نے اس پارٹی کے برے اوقات میں تن من اور دھن کی بھی قربانی دی جو کہ انتخابی سیاست میں بعد از مرگ بھی استعمال ہوتاتھا لیکن ان کے بھائی راجہ رحمن ولی نے پوری برادری کے ہمراہ مسلم لیگ ن سے لاتعلقی کااظہار کرتے ہوئے کپتان کی کشتی میں سوار ہوگئے ۔ جن بڑے شخصیات کے اشارے ہیں یا ان کی ن لیگ سے رخصتی ہے ان کا نام لکھنا قبل از وقت ہے لیکن لمبی فہرست ضرور ہے جو ریت کے مانند اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لیکر نکلتے ہیں۔ یہ محاذ مسلم لیگ ن کو حکومت ہوتے ہوئے پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے اس سے قبل کے محازوں میں دیگر پارٹیوں سمیت عوامی ایکشن کمیٹی کا مقابلہ کرنا ، جی بی میں عائد کردہ ٹیکس ، جی بی آرڈر 2018، میرٹ پر بھرتیاں، ممبران اسمبلی کو منصفانہ فنڈز کی فراہمی ، عوامی جذبات کا مقابلہ کرنا سمیت دیگر مسلم لیگ ن حکومت بڑی ناکامی سے سامنا کرچکی ہے ۔ بالخصوص گلگت بلتستان آرڈر2018 موجودہ شکل میں سوائے حکومت کی ناکام حکمت عملی کے کسی اور وجہ سے نہیں آیا ہے ۔ ان تمام محازوں میں ایسی حکمت عملی اپنائی گئی جس سے ’حفیظ دشمن عناصر‘ ہی کامیاب ہوگئے ۔ حافظ حفیظ الرحمن سے دشمنی کے کئی پہلو ہیں ۔

گلگت بلتستان میں حکومت پانچ سالہ مدت کے لئے ہوتی ہے اور مسلم لیگ ن حکومت اس وقت اپنے غیر آئینی مدت کو پوری کرچکی ہے ۔ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کے تین سالہ 2015الیکشن کے بعد سے شروع ہوئے اور دو سال وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہونے سے شروع ہوئے ۔ 2013میں مرکز میں ن لیگ کی حکومت تھی جی بی میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی ۔2015کے انتخابات تک علاقے میں حکومت کی کم اور ن لیگ بالخصوص حفیظ الرحمن کا طوطی زیادہ بولتا تھا ۔ یوں کہاں جاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان میں حکمرانی کے لئے منتخب ہونے والے صرف تین سال تنہا حکومت کرتے ہیں اور دو سال کسی اور آؤٹ آف اسمبلی پارٹی کے ساتھ اشتراک کرکے پورے کرتے ہیں۔ حفیظ حکومت آئندہ دو سال کس پارٹی کے اشتراک سے پوری کرتی ہے اس کا اعلان رواں ماہ (جولائی) کے آخر تک پتہ چل جائیگا۔ اشتراک سے حکومت کرنا تنہا حکومت کرنے کے مقابلے میں بہت زیادہ مشکل ہوتا ہے ۔وزیراعلیٰ اور اس کی ٹیم کے پاس اب بھی وقت ہے کہ کارکنوں کے تحفظات دو ر کریں گوکہ یہ وقت تنہا حکومت کے مقابلے میں مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ہے ورنہ جس رفتار سے لیگی کارکنان دیگر جماعتوں کی جانب جارہے ہیں وہ ن لیگ کے لئے کم از کم نیک شگون نہیں ہے ۔ سابق دور حکومت میں جہاں کئی برائیاں تھی وہی پر کارکنوں کو خود سے جوڑے رکھنا اور ’عام آدمی ‘ کو قریب رکھنے کا رواج بھی ضرور تھا ۔ موجودہ دور میں نہ کسی وزیر کا دفتر آباد نظر آیا ہے اور نہ ہی لوگوں کا وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب چہل پہل نظر آتی ہے ۔ گلگت ریورویو روڈ سے گزرتے ہوئے لوگوں کو مجبوراً اپنی آنکھیں بند کرکے گزرنا پڑتا ہے کیونکہ عین فیملی پارک کے سامنے اونچی دیوار کے ساتھ موجود ہاؤس کے دروازے پر سفید پوش لوگ کھڑے نظر آتے ہیں۔ وقت قلیل ضرور ہے لیکن گزرا نہیں ہے ۔ لوگ یقیناًسوچنے پر مجبور ہیں کہ ایسی ترقی کا کیا فائدہ جس کا ’فائدہ‘ صرف چند لوگوں کو ہی ہورہا ہے ۔ٹھیکوں کی صورتحال کو سمجھنے کے لئے گلگت چیف کورٹ سے جاری آرڈر ہی کافی ہے جس میں پانچ بڑے ٹینڈرز کو منسوخ کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو حکم دیا ہے کہ دیگر محکموں میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے لہٰذا خود ہی اس کی انکوائری کریں۔

یہاں اس بات کا اعتراف نہ کرنا بھی انتہائی زیادتی ہے کہ گلگت کے سیاسی شخصیات اور کارکنوں میں تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکریٹری فتح اللہ خان سب سے متحرک شخصیت کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ لیکن ان کا کھیل صفر کی بجائے منفی سے شروع ہوتا ہے اس تیزرفتاری میں تحریک انصاف دیگر جماعتوں کے کس حد تک قریب آتی ہے وہ وقت ہی بتائے گا لیکن گزشتہ چند ماہ کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ سیاسی سرگرمیں پی ٹی آئی کی رہی ہے ، سب سے زیادہ شمولیتیں پی ٹی آئی میں ہوئی ہیں اور سب سے زیادہ پریس کانفرنسز پی ٹی آئی نے ہی کیا ہے ۔ حلقہ نمبر 2گلگت جو کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور پیپلزپارٹی کے سینئر نائب صدر و سابق ڈپٹی سپیکر جمیل احمد کا انتخابی حلقہ ہے ، الیکشن کے لئے آسان نہیں ہے ۔ پی ٹی آئی کو اوپر کے نمبر پر آنے کے لئے مزید جدوجہد اور محنت کی ضرورت ہے ۔

اس سے قبل بھی کئی بار راقم نے لکھا ہے کہ دیواریں اونچی کرکے عوام سے AVOIDکرنا کسی صورت اچھی حکمرانی کی علامت نہیں ہے ۔ وزیراعلیٰ اس پہلو کو بھی ضرور دیکھیں کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اب تک کی سب سے مہنگی ترین حکومت بھی ہے ۔ جہاں بیک وقت 7غیر منتخب افراد باضابطہ حکومت میں شامل ہیں اور چند ایک لیگی ممبران کے علاوہ سبھی کے پاس عہدے اور مراعات موجود ہیں اور مراعات بھی ایسی کہ سابقہ حکومت کے مقابلے میں تین گنا مہنگی ۔ سنگل پارٹی حکومت ہونے کی وجہ سے اختلافات اور مخالفتیں زیادہ ، ایسی صورتحال میں عوام کی رسائی تک نہ ہونا ، سینئر کارکنان کا عدم اعتماد کرتے ہوئے پارٹی کو خداحافظ کہنا ایک المیہ ہی ہے ۔ اگر گزشتہ تین سالوں سے ’صرف چند لوگوں کے ہاتھوں ترقی ‘کا سلسلہ جاری رہا تو کل مسلم لیگ ن یہ کہنے پر مجبور ہوگی کہ ’چند لوگوں نے ہماری خوشیوں کو چھینا ہے ‘۔

مایوس کارکنان اور عام عوام اس وقت حقیقی چہرہ ہیں اس کو نقارہ خدا اور نوشتہ دیوار سمجھنا چاہئے ورنہ یوں کوچ کرجانا معمول بن جائیگا۔شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

یہ ایک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا

کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کرجانا

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments