عوامی ایکشن کمیٹی کا ایکشن اور حکومتی ری ایکشن

عوامی ایکشن کمیٹی کا ایکشن اور حکومتی ری ایکشن

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یہ بات تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت سے نفرت ہمیں ورثے میں ملی ہے کیونکہ ہم ہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے ماضی میں تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے سابق ریاست جموں کشمیر کا بھارت سے الحاق نامنظور کا نعرہ لگاتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت بغیر کسی غیر مقامی اور غیر ریاستی امداد کے یکم نومبر 1947 کو جمہوریہ گلگت کی بنیاد رکھی۔ لیکن بدقسمتی سے مقامی ہیروز کو دیوار سے لگا کر سازش کے تحت برطانوی سامراجی ایجنٹوں اور ایک غیر مقامی رابطہ آفیسر کی ملی بھگت سے الحاق کا ڈرامہ رچا کر یہاں ایف سی آر جیسا کالا قانون نافذ کیا۔ اُس وقت سے لیکر آج تک ہمارے خطے پروہی لوگ حاکمیت کرتے چلے آرہے ہیں جو نعرہ پاکستان کا لگاتے ہیں لیکن نظریں صرف عہدوں پر ہوتی ہے۔ آج گلگت بلتستان میں جو بھی لوگ مراعات کی خاطر حب الوطنی کا ڈرامہ رچایا رہے ہیں یہی لوگ ہی دراصل مودی کے حمایتی ہیں جو مودی کو گلگت بلتستان کے بارے میں بولنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ورنہ کسی کی کیا مجال کہ وہ اس عظیم خطے کے بارے میں بدزبانی کریں۔

اس وقت مقامی حکومت اور جو لوگ اسلام آباد میں بیٹھ کر متنازعہ خطے پر من مانی کے فیصلے مسلط کرتے ہیں وہی لوگ دراصل پاکستان دشمن ملک کو موقع فراہم کرتے ہیں۔ ورنہ گلگت بلتستان کا مسلہ صاف اور شفاف ہے کہ آپ تمام مسائل اور مجبوریوں کو ایک طرف رکھ کر اپنے ملک کی آئین میں ترمیم کرکے اس خطے کو آئینی دائرے میں شامل کریں بصورت دیگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس خطے کو مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے مکمل داخلی خود مختاری دیکر تمام تر اختیارات مقامی حکومت کے حوالے کریں۔ لیکن ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں تو بتائے پاکستان کے اصل دشمن کون ہیں؟

آج عوامی ایکشن کمیٹی ایک بار پھر عوامی حقوق کیلئے برسرپیکار ہیں لیکن مقامی اور وفاقی حکومت طاقت کے بل بوتے پر عوامی آواز کو دبانے کی بھرپور کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا ایک ایک مطالبہ قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہونے کے باوجود مقامی حکومت تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں تو بتائے مودی کے دوست کون اور دشمن کون۔؟۔لیکن ہمارے عوام نے آج بھی آنکھیں بند کی ہوئی ہے لہذا میرا ذاتی خیال ہے کہ ہم مہذب قوم ہے نہ ہی اسلام کے حقیقی پیروکار بلکہ ہماری تشریح کچھ یوں ہے کہ ہم مانند اُس انسان کے ہیں جنہیں ایک دائرے میں قید کیا ہوا ہے اور ہماری ذہنی سماجی معاشرتی تربیت بھی اسی قید خانے کے اندر ایک ناتجربہ کار افراد کے ذریعے کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب کچھ اپنے آنکھوں کے سامنے ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی حقیقت کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ہماری سوچ اور فکر کو اتنا محدود کیا ہے کہ ہمارے اندر سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت بلکل ختم ہوچُکی ہے۔ ہمیں بس اتنا سکھایا گیا ہے کہ آپ محب الوطن ہیں لہذا گلگت کے حکمران جو بھی کریں اسے حب الوطنی سمجھ کر قبول کرتے رہیں اور گندم سبسڈی کے مزے لوٹے رہیں جو کہ آنے والی نسلوں کی مستقبل کے حوالے سے قابل تشویش امرہے جہاں ہمیں یہ بھی اختیار نہ ہوگا کہ ہم ظلم اور ذیادہ کے خلاف بولنا تو دور کی بات بلکہ سوچنا بھی غداری اور بغاوت کے مترادف ہونگے۔

افسوس اس بات کا نہیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے کیونکہ دنیا میں جب قومیں کمزور پڑ جاتی ہیں تو طاقت ور عناصر اُن سے جینے کا حق تو چھین ہی لیتے ہیں بلکہ ایسا بھی ہوتا کہ کمزور قومیں اپنی شناخت اور تشخص بھی کھو ڈالتے ہیں۔ میرا شکوہ ان سے بھی نہیں جو تخت گلگت کے والی ہیں کیونکہ انکا کام ہی عہدے کے عوض نوکری کرنا ہے ورنہ شاید کبھی کسی نے سوچا ہو کہ مہدی شاہ، حفیظ، جعفر،مسکین، ناشاد جیسے نالائق لوگ ہمارے حکمران بنیں مجھے شکوہ اپنے آپ سے کہ میں ایسا کیوں ہوں؟ کیا اللہ نے مجھے سوچنے کی صلاحیت نہیں دی؟ مجھے تو شکوہ صاحب محراب منبر سے ہے جو سال بھر عوام الناس کو جنت جہنم موسی ،فرعون، نمرود کے کہانیاں سُنا رہے ہوتے ہیں لیکن موقع ملتے ہی وقت کے فرعون اور نمردو سے ہم رکاب ہوکر مرغن غذاواں کے مزے لیتے ہیں۔ عجب ایک المیہ ہے اس قوم کے ساتھ جو سال میں کئی بار جشن آذادی مناتے ہیں لیکن روح آذادی سے یہ قوم آج بھی کوسوں دور ہیں۔ کاش مجھے کوئی سمجھائے کہ آذادی کے حقیقی معنی کیا ہیں؟ کیا آذادی کا مطلب سال میں تین بار جھنڈے لہرا کر خوشیاں منانا ہے؟

ایسا بلکل نہیں آزاد قومیں اپنے فیصلے اورمسائل کی نشاندہی خود کرتے ہیں اور حاکمیت کا اختیار بھی اپنے پاس رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں تو کہانی ہی الٹا ہے یہاں تو حق مانگنے پر غداری کا مقدمہ درج کیا جاتا ہے ،میڈیا سے لیکر عوام آدمی تک نے اپنے نفس اور ضمیر کو چند ٹکوں کے عوض فروخت کیلئے ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیںیوں لوگ ہمارے وسائل کو لوٹ رہے ہیں اس خطے کو خالہ جی کا گھر سمجھ کر حاکم بنے بیٹھے ہیں اور ہمیں آنکھیں بھی دکھاتے ہیں۔

حالیہ صورت حال کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے جب مقامی حکمرانوں نے ستر سالہ محرمیوں کا حساب مانگنے پر یہ بہانا بنا کر بغاوت کا مقدمہ درج کیا اور کہا گیا کہ بھارت کو خوش کرنے کیلئے ایسا کیا ہے۔ شرم آنی چاہیے حکمرانوں کو اور ہوش کے ناخن لینے کہ ضرورت ہے کہ آپ گلگت بلتستان کو بلوچستان بنائے جارہے ہیں آپ ہمارا سینہ چیر کے راہداری گزار رہے ہیں اور ہم حق مانگے تو غدار کا لقب دیتے ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی ایک غیر سیاسی غیر مذہبی پلیٹ فارم ہے انکا ایک ایک مطالبہ عین بین لااقوامی قوانین کے تحت ہیں لہذا ان پر غداری کا مقدمہ درج کرکے آپ مودی کو بولنے کا موقع فراہم کررہے ہیں ۔ دوسری طرف اگر ہم پاکستان کے آئینی صوبوں کے لیڈران کی بات کریں توجنرل مشرف کے دور میں محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑا ہو کر کہا تھا کہ میں اُس پاکستان کو کبھی بھی زندہ باد نہیں کہوں گا جہاں میرے پشتون بھائی غلام بنائے جاتے ہیں۔ لیکن آج بھی وہ قومی اسمبلی کا ممبر اور محب وطن پاکستانی مانے جاتے ہیں بلکہ انکا پورا خاندان پاکستان کے اہم سرکاری اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ اسی طرح الطاف حسین نے ماضی میں بھارت جاکر تقریر کیا کہ پاکستان کا وجود میں آنا ہی غلط تھا اور گزشتہ دنوں انہوں نے کراچی میں پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگایا لیکن ریاست پاکستان نے انکی پارٹی کے رکن وسیم اختر کو کراچی کا مئیر بنایا اور اسی مئیر نے اعلان کیا کہ میں قائد تحریک کے مشن کو جاری رکھوں گا۔ یاد رہے یہ سب میڈیا ریکارڈ کی باتیں ہیں۔

اب اگر سرزمین بے آئیں کی بات کریں تو پچھلے ستر سالوں سے ریاست پاکستان نے ہمیں بیوقوف بنایا ہوا ہے ہم نے ہر مشکل دور میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ہماری سرحدوں کو پاکستانی سرحد مان کر ان سرحدوں کی حفاظت کی۔ کرگل سے لیکر وزیرستان تک ہم پاکستان کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کر رہے ہیں لیکن صلہ کیا ملا؟ سی پیک میں ہمیں نظرانداز کیا ،ہمارے وسائل پاکستان کہلائے گئے لیکن جب عوامی حقوق کی بات آئی تو کہا گیا کہ آپ تو ہمارے شہری ہی نہیں ہیں یوں جب ہم آپکے شہری نہیں تو ہم بھی مطالبہ کرنے کا حق بجانب ہیں کہ جناب تو پھر بات بین الاقوامی قوانین کے مطابق حقوق کی ہوجائے میرا سینہ چیر کر سی پیک کا راستہ کس قانون کے تحت؟ ہمارے وسائل کس کھاتے میں پاکستانی؟ یہ وہ سوالات ہیں جس کا عوامی ایکشن کمیٹی نے ریاست پاکستان سے جواب مانگا۔ لیکن آپ نے اُن کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے طاقت کے بل بوتے پر اُن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ آپ نے محب وطن عوام پر حق مانگنے کے جرم میں غداری ایکٹ کے تحت مقدمہ بنایا اور اسی مقدمے کے آپ نے مرکزی قائدین گرفتار بھی کیا۔ خدارا اس پرامن دھرتی کو بلوچستان بننے سے بچائے آپکے غلط پالیسیوں کی وجہ سے مودی کو گلگت بلتستان کے بارے میں موقع مل رہے ہیں۔ رحم کیجئے اس دھرتی پر کیونکہ آپکا رویہ نئی نسل کو بغاوت کی طرف اکسا رہے ہیں۔ خدارا اسلامی جمہوریہ پاکستان پر رحم کیجئے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔