ہمت ہے تو پاس کر نہیں تو برداشت کر

رشیدارشد

شہر کی کشادہ اور بڑی سٹرک پر اپنی کار کے شیشے بند کر کے اونچی آواز میں شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی والے گانوں میں کھو ئے جا رہے ہوں اچانک آپ کی نظر آپ کے آگے جانے والے رکشے پر پڑتی ہے جس پر لکھا ہے ،،،جلو مت کالے ہو جاو گے،،،،اس جملے کی جلن کے احساس سے آپ نکل نہیں پاتے دوسرا جملہ آپ کا امتحان لے رہا ہوتا ہے ،،ہمت ہے تو پاس کر نہیں تو برداشت کر ،اس جملے کو پڑھ کر آپ کا غصہ بڑھنے کے بجائے ہنسی اس لئے چھوٹتی ہے کہ اسمبلی کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے سیاست دان یاد آتے ہیں جو بین السطور میں اس طرح کے جملے کستے ہیں۔ جب اسمبلی کے اندر تلخی بڑھ جاتی ہے تو باہر آکر کہہ رہے ہوتے ہیں ،،پپو یار تنگ نہ کر،،،

نئے پاکستان میں اور کچھ بدلا ہے یا نہیں لیکن سیاسی قائدین کی زبان سیاسی مخالفین کے لئے ایسے بدلی ہے کہ پہلے رکشوں اور ٹرکوں کے پیچھے جملے پڑھ کر ہنسی چھوٹتی تھی تو اب سیاسی قائدین کی رکشہ ماڈل زبان سن کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے ہیں۔ میرے ایک دوست تو یہ بھی کہہ رہے تھے کہ نئے پاکستان سے قبل چونکہ دھرنوں کے لئے کنٹینر اور ٹرک استعمال ہوتے تھے تو شاید ان ٹرکوں کے پیچھے لکھے جملوں سے نئے پاکستان والے بہت زیادہ متاثر ہیں ،،، خیر ہمیں کیا کون کس سے متاثر ہے ،،ہم کون ہوتے ہیں کسی پر الزام دھریں ،،،کوئی دیکھے نہ دیکھے ،، شبیر تو دیکھے گا کے مصداق کوئی دیکھے نہ دیکھے عوام تو دیکھ رہی ہے کہ کس سیاسی رہنما کی زبان پر رکشے والے جملے ہیں تو کس کی زباں پر ٹرک والے۔

رکشوں اور ٹرکوں کے پیچھے لکھے جملوں کو سیاست کے آئینے میں دیکھیں تو وضاحت کچھ یوں ہوتی ہے شام کو ٹی وی سکرین پر شیخ رشید کی گفتگو سنیں تو اس کا ماخذ یہ ہوتا ہے کہ ،رل تو گئے پر چس بڑی آئی،ترجمعہ (خوار تو ہوئے لیکن مزہ بھی بہت آیا) اب شیخ صاحب کو چس رانا سنا اللہ کے جملوں سے آئی یا بلاول بھٹو کے اردو انگریزی کے ملغوبے سے بنی زبان میں غصے سے آئی، اس حوالے سے وضاحت شیخ رشید ہی بہتر کر سکتے ہیں لیکن بلاول کے غصے کو دیکھ کرشیخ صاحب زیر لب مسکرا کر کہہ رہے ہوں گے،تیرے غصے میں اتنا سرور ہے، پیار میں کیا ہو گا۔بلاول بھٹو کا غصہ دیکھ کر شیخ رشید کیوبن سگار کا کش لگاتے ہوئے یہ جملہ بھی کستے ہوں گے ،،پرے جانے دو یار،،،مصطفی قریشی کے انداز میں ڈا ئیلاگ بولتے ہوں گے ،،،نواں آیاں سونیاں۔

یار کو آزما کے دیکھ لیا، پارٹی میں بلا کر دیکھ لیا،رکشے پر لکھا یہ جملہ پڑھیں تو مجھے تو بے ساختہ پنجاب میں جو شہباز شریف لگے ہیں وہی اپنے پیارے عثمان بزدار کی یاد آتی ہے جن کے حوالے سے نئے پاکستان کے سیاسی امریش پوری خان صاحب سے کہتے ہیں کہ خان صاحب ،، یار کو آزما کے دیکھ لیا، پارٹی میں بلا کر دیکھ لیا ،کچھ نکلا نہیں اب زرا ہمیں موقعہ دو ۔ خان صاحب زیر لب جواب میں کہتے ہیں ہوں گے ،، شرارتی لوگوں کے لئے سزا کا خاص انتظام ہے۔جہاں ٹھکانہ ہوگا نیب اس کا نام ہے،
‘ ڈرائیور کی زندگی بھی عجب کھیل ہے، موت سے بچ نکلا تو سینٹرل جیل ہے’اس جملے کو اگر سیاست کے آئینے میں دیکھیں تو کچھ اسطرح بنتا ہے ،سیاست دان کی زندگی بھی عجب کھیل ہے،،،اقتدار سے بچ نکلا تو سینٹرل جیل ہے ،،،

قارئین آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا آج رکشے اور ٹرکوں کی باتیں کر رہاں ہوں ،رکشے والے اور ٹرک والے جن مشکلوں اور خطروں سے کھیل کر نکلتے ہیں با الکل ایسے ہی تیسری دنیا کے ممالک میں سیاست دان بھی انہی خطروں اور سازشوں سے اپنے آپ کو بچا کر نکلیں تو سیاست کے کامیاب شہسوار بن سکتے ہیں ،،،جس طرح رکشے اور ٹرکوں کے پیچھے تحریر جملے ان کے جذبات کی عکاسی اور ان کا مشکلوں سے کھیلنے کا پتا دیتے ہیں بالکل ایسے ہی سیاستدانوں کے جذبات سے آشنا ہونا ہو تو شام کو ٹی وی سکرین کے آگے ایسے ہمہ تن گوش ہونا ہوتا ہے جیسے آج کل تحریک انصاف کے ووٹر ہمہ تن گوش ہیں کہ کاش ابھی کوئی اچھی خبر ملے ،حکومت کوئی وعدہ پورا کرے لیکن یہ حسرت حسرت ہی رہتی ہے جیسے فواد چوھدری کی زبان سے سچ سننے کی تمنا پوری نہیں ہو سکتی ایسے ہی تحریک انصاف کے ووٹروں کی تمنائیں بھی ادھوری ہی رہیں گی،خیر بات کسی اور طرف نکل گئی بات ہو رہی تھی سیاست دانوں کی مشکلات کی ۔جس طرح لاہور کی سڑکوں پر رکشہ چلانا ،پہاڑوں کے درمیان جہاز چلانا ایک الگ سائنس ہے ایسے ہی آج کل سیاست میں بچ کر چلنا بھی ایک اعلی فن ہے ،ہر طرف سے سازشوں اور کھنچا تانی سے سیاست دان اکتا جاتا ہے تو کہہ رہا ہوتا ہے،۔۔ تولنگ جا ساڈھی خیر ہے۔۔۔

امریکہ میں ایک ہوائی جہاز خراب موسم کی وجہ سے غوطے کھانے لگا اور زمین کے انتہائی قریب آگیا ،شک تھا کہ زمین سے ٹکراجائے گا لیکن طیارے کے پائلٹ نے کمال مہارت سے دو تین پہاڑوں کو کٹ کروائے اور حیران کن طریقے سے جہاز کو ائیر پورٹ تک لے آیا،سب مسافر تالیاں بجانے لگے ،جہاز کی ائیر ہوسٹس نے پائلٹ سے پوچھا ۔سر آپ نے اتنا زبردست تجربہ اور ٹیلنٹ کس طرح حاصل کیا،پائلٹ نے بہت آہستہ آواز میں اےئر ہوسٹس کے کان میں جواب دیا میں پہلے لاہور میں رکشہ چلاتا تھا۔

سیاست میں آگے آگے جو سیاست دان جاتا ہے اس کے پیچھے آنے والے اسے آگے جانے سے سازشوں اور مختلف ہتھکنڈوں سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو اگلا سیاست دان تنگ آکر کہہ رہا ہوتا ہے ،،ہمت ہے تو پاس کر نہیں تو برداشت کر۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments