ترقیاتی منصوبے جمود کا شکار

ترقیاتی منصوبے جمود کا شکار

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر:دردانہ شیر

گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن)کی حکومت کو برسراقتدار آئے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے اس ایک سالہ دور میں اگر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جائے تو خطے میں کوئی ایسا ترقیاتی منصوبہ نظر نہیں اتاجس پر یہ کہا جائے کہ وقعی پی پی پی کی حکومت کے اقتدار کے خاتمے کے بعد نون لیگ نے برسراقتدار آتے ہی ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا کیونکہ پی پی پی کے دور حکومت میں بھی ایسا کو ئی انقلاب نہیں لایا گیا جس کی تعریف کی جائے البتہ گلگت بلتستان کے عوام نے پی پی پی کے دور حکومت میں علاقے کی تعمیر وترقی کے حوالے سے کوئی اہم اقدامات نہ اٹھانے پر ان کو ووٹ کے ذریعے مسترد کردیا جون 2015میں جب گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت برسر اقتدار آئی تو عوام کو اس پارٹی سے بڑی توقعات وابسطہ تھی نو ن لیگ کی حکومت چونکہ وفاق میں بھی ہے اس لیے عوام یہ سوچ رہے تھے کہ گلگت بلتستان میں نون لیگ کی حکومت بننے کے بعدیہ علاقہ بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا مگر ایک سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علاقے میں ترقیاتی کام جمود کا شکار ہوگئے ہیں 2015/16کو ممبران قانون ساز اسمبلی کو ان کے حلقوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے آٹھ آٹھ کروڑ دئیے جانے تھے یہ رقم آج تک ریلیز نہیں ہوسکی جبکہ حلقے کے ممبران نے درجنوں سیکموں کو فناس ڈوثرن پہنچایا مگر کوئی پتہ نہ چل سکا 2016/17کا بجٹ آیا تو اس دوران بھی ممبران کو کہا گیا کہ فی ممبر بارہ کروڑ روپے کے منصوبوں کی لسٹ بناکر فوری طور پر جمع کرادیں اسطرح ممبران نے اپنے اپنے حلقے کے ترقیاتی سکیموں کی لسٹ متعلقہ محکمہ میں جمع کرادیا جولائی آیا اگست ختم ہوا اور اب ستمبر شروع ہوگیا ہے دو سالوں سے ممبران کو دیے جانے والا بجٹ کا کوئی پتہ نہ چل سکا اب سننے میں آیا ہے کہ فی ممبر کو بارہ کروڑ روپے کا بجٹ نہیں صرف سات کروڑ روپے فی ممبر کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ایک طرف ممبران پریشان ہے کہ انھوں نے بارہ کروڑ کی سکیموں کو متعلقہ حکام تک پہنچایا اب اگر پانچ کروڑ کو کاٹ دیا گیا تو وہ دیگر سکیموں کو کیسے مکمل کرینگے اور حلقے کے عوام سے جن سیکموں کے بارے میں ان کی رائے لیکر منظور کئے تھے اب رقم کی کٹوتی ہوگی تو وہ عوام کا سامنا کیسے کرینگے اور اگر یہ سکیمیں نہیں بن گئی تو ممبران کو اپنے حلقے کے عوام کے سامنے سخت مشکلات کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے اگر سات کروڑ روپے ستمبرکے مہینے میں فراہم بھی کیے گئے تو سردیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور کیا سردیوں میں ان منصوبوں پر کام ہوگا اخر ستمبر میں یہ فنڈز اتنی تاخیر سے ریلز کرنے کا کیا جواز تھا اگر جون میں ہر ممبر کو سات کروڑ روپے کی گرانٹ دی جاتی تو آج ستر سے اسی فی صدترقیاتی منصوبے مکمل ہوتے اس حوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایک پرائمری سکول کی بلڈنگ کی تعمیر کے لیے 65لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جس پر ممبران نے اتنی زیادہ رقم رکھنے پر احتجاج بھی کیا کہ پرائمری سکول کی بلڈنگ کی تعمیر پر پچیس سے تیس لاکھ روپے کی لاگت اتی ہے مگر pwdنے نہ جانے کس سوچ میں 65لاکھ روپے رکھے ہیں بہرحال گلگت بلتستان کے تمام ممبران قانون ساز اسمبلی کو ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد سات کروڑ روپے تو مل گئے مگر2015/16کے ترقیاتی بجٹ جو ممبران کے لیے مختص تھا اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا دوسری طرف اگر ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیا جائے تو بھی حکومت کی کاکردگی اتنی بہتر نہیں کہ اسکی تعریف کی جائے گلگت چترال روڈ کو ایکسپریس وے بنانے کی بات تو کی جاتی ہے مگر ایک سال گزر گیا ہے غذر روڈ کی تعمیراتی کام کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ اس کو اس رفتار سے اس روڈ کی تعمیر جاری رہی تونصف صدی میں شایدگلگت چترال روڈ بن جائے جبکہ دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بھی یہی حالت ہے ان منصوبوں کے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کئی عرصہ درکار ہوگاویسے بھی اگر دیکھا جائے توضلع غذر کے ساتھ تو نون لیگ کی بہت زیادہ مہربانیاں ہیں نہ تو اس ضلع کو وزرات دی گئی نہ ٹیکنوکریٹ کی سیٹ دی گئی اور نہ کونسل میں نمائندگی دی ملی ایسے میں ترقیاتی منصوبوں کی تعمیر کے حوالے سے بات کرنا بھی بیوقوفی کے علاوہ کچھ نہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author