سپریم کورٹ آف پاکستان کا دائرہ کار گلگت بلتستان تک نہ بڑھانے سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونگی، ملک کفایت الرحمن

گلگت ( سٹاف رپورٹر) سی پیک منصوبہ گلگت بلتستان کے لئے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے اس کی تکمیل سے قبل گلگت بلتستان کے عوامی حقوق اور تحفظ اور سستا انصاف کی فراہمی کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان کا دائرکار کو گلگت بلتستان تک بڑھانا ضروری ہے ان خیالات کا اظہار صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن گلگت بلتستان ملک کفایت الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے دائرکار کو گلگت بلتستان تک بڑھائے بغیر سی پیک منصوبے کی تکمیل میں قانونی پیچدگیاں ہو رہی ہے سی پیک کا منصوبے سے گلگت بلتستان کی عوام کی تقدیر بدل جائے گی لیکن گلگت بلتستان کے حدود کے اندر جو قومی اور بین الااقومی تاجر برادری تاجر کرئیگی اُس کو کوئی مسلہ پیش ہونے کی صورت میں موجودہ کورٹس فیصلے صادر کر ینگے اُس پر ملک کے دیگر صوبوں میں عمل درآمد نہیں ہو سکتی ہے ۔ اُنہوں نے مذید کہا کہ گلگت بلتستان چیف کورٹ کو مکمل ہائی کورٹ کا درجہ دے دیا جائے اور ججوں کی تعداد کو بڑھا کر 7کر دیا جائے اُنہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا دائرکار اور چیف کورٹ کو ہائی کورٹ کا درجہ سی پیک کے لئے ناگزیز ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں چیف آف آرمی سٹاف نے کرپشن کے خاتمے اور دہشت گردی سمیت سی پیک منصوبے کی تکمیل کے لئے جس عزم کا اظہار کیا گلگت بلتستان کے عوام بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ اور آرمی چیف سے سی پیک منصوبے کی تکمیل کے لئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائر کار اور چیف کورٹ کو ہائی کورٹ کے درجہ دلانے کے لئے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اس اہم معاملے کو حل کرنے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرے کیونکہ وزیراعظم اور صدر پاکستان کے اختیارات اور احکامات گلگت بلتستان میں عمل درآمد ہو رہے ہیں تو سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرکار کو گلگت بلتستان بڑھانے میں کوئی قانونی پیچدگی نہیں بلکہ اس سے قومی اور بین الااقومی سطح کے تاجروں کے حقوق تحفظ ہو نگے۔

آپ کی رائے

comments