قرقلتی (یاسین) ۔۔۔۔۔۔ ایک دلفریب مقام

قرقلتی (یاسین) ۔۔۔۔۔۔ ایک دلفریب مقام

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: جاوید احمد ساجد

قدرت نے شمالی علاقوں کو طرح طرح کے حسن سے نوازا ہے یہاں کہیں بلند و بالاپہار ہیں تو کہیں سبزہ زار، کہیں سنگلاخ چٹانیں ہیں تو کہیں لہلہاتے کھیت، کہیں جنگل ہیں تو کہیں صحرا، لیکن یاسین کو قدرت نے ان تمام خوبصورتیوں کا مرکز بنایا ہے ، خاص کر یاسین کے مختلف گاوں کے حسن کو ملا کر دیکھا جائے تو پوری دنیا کے حسن کا شاید دوسرا حصہ اسی علاقے کا حصہ تصور ہوگا۔

یا سین کے ایک گاوں قرقلتی یا نالہ قرقلتی کی خوبصورتی کو اگر بیان کیا جائے تو شاید اس کی دلکشی، برف پوش پہاڑوں ، دلفریب مناظر اور آب شاروں کا ذکر کر کے انتہا کو پہنچانا قدرے مشکل ہو گا۔

یہ گاوں یاسین کے مشرق میں سندی سے تقریباََ آٹھ میل کے فاصلے پر بلند و بالا پہاڑوں کے بیچ میں ایک چھوٹا سا گاوں ہے۔ اس کے ڈھلوان کے نیچے سے بہتی ہوئی ندی کا ایسا خوبصورت منظر ہے کہ دیکھنے والے پر ایک وجد طاری ہو جاتاہے ، خوبصورت وادی کے ڈھلوان گاوں کے نچلے حصے میں بہتا ہوا چھیر گلوغ، اتنے خوبصورت انداز میں بلندیوں سے گر کر فوارے اور آبشاروں کا خوبصورت سماں پیدا کرتا ہے صاف و شفاف پانی جب بلندیوں سے گرتا ہے تو پانی کے بلبلے سفید جاگ بنا کر ایسا دکھائی دیتاہے جیسے دودھ کی ندی ہو اس لئے اس ندی کانام چھیر گلوغ یعنی دودھ کی ندی ہے۔

1

دودھ کی ندی اس پانی کا نام ہے جو سندی کے آخری حصے میں یہ ندی دریا یاسین میں گرتا ہے سندی کے مشرق میں مڈوری کے کھنڈرات کے نیچے سے بہتا ہے اور اس ندی سے یاسین کے غیور عوام نے مڈوری میں محصوری کے دوران سرنگ کے ذریعے قلعہ مڈوری تک پانی پہنچایا تھا ، اگر مڈوری کے مقام سے نظارہ کیا جائے تو ندی کے کنارے کنارے سڑک سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی اونچائی کی طرف اس طرح جاتی ہے جیس کہ پانی سے مچھلی سطح سے بلندی کی طرف تیرتی ہو۔ راستے میں دو پل ،بارجو بش اور موکے بش یعنی بارجو بش سے مراد سرخ پل اس مقام پر زمین کی مٹی سرخ ہے جسے گیر و ، کہا جاتا ہے اس لئے اس پل کو سرخ پل کہا جاتا ہے اور موکے بش سے مراد موتی کا پل چونکہ اس جگہ پانی پتھروں سے ٹکر ا کر موتیوں کی طرح خوبصورت نظر آتا ہے اس لئے موکے بش کہا جاتا ہے، ان دونوں پلوں کے اوپر سے ندی کا نظارہ بڑا مسحور کن ہو تاہے۔قرقلتی کی کل آبادی تقریباََ ۲۰۰ گھرانوں پر مشتمل ہے۔ لیکن موسم گرما ،میں نالہ قرقلتی کے لئے سندی ، سلطان آباد، اور بر کولتی کے چند گھرانے جوق در جوق اپنے مال مویشی اور بھیڑ بکریاں لے کر جاتے ہیں تو گرمیوں کے موسم میں یہاں کی آبادی تقریباََ ۳۰۰ گھرانوں سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ڈیڑ دو لاکھ سے زیادہ مال مویشی و بھیڑ بکریاں اور گھوڑے گدھے اور خو ش گاو ، اس نالے کے چراگاہ میں چرتے ہیں۔

قرقلتی میں گندم، جو، باقلہ، انو، گہیوں اور مٹر کے علاوہ ، سبزیوں میں آلو، گوبھی، پالک، گاجر م شلجم، کدو کے علاوہ مقامی سبزیاں جس میں سواچل، حازگار، بارجو وہوئی، اشکرکا، ہونی منازیکی، اور بلغار بھی کثرت سے کاشت کی جاتی ہے۔ لیکن نالے میں صرف جو کی کاشت کی جاتی ہے، لیکن ستمبر کے آخر میں ، سندی، سلطان آباد، اور برکولتی کے باسی سردی کے باعث اپنے گاوں کا رخ کرتے ہیں اور نالہ خالی ہو جاتا ہے ۔اور لوگ اپنے مال مویشی، بھیڑ بکریاں اور تمام پالتو جانور سمیت بلندیوں سے اتر تے ہیں ، لیکن قرقلتی کے باسی قرقلتی گاوں میں ہی رہتے ہیں۔

قرقلتی دس چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہے جو کہ سنٹر قرقلتی، برداس، بٹور کشی، دیشمبر، تشی،فندس، جت بر، کونجو مشک، غنو مو کو ٹونز، حرایو غر چھم اور مکولی۔

دیشمبر جو کہ بٹور کشی سے اوپر بلندی کی طرف جائے تو ایک نالہ ہے جہاں آبادی نہیں بلکہ گھوڑوں، خوش گاو، وغیرہ کو موسم گرما میں چرنے کے لئے چھوڑا جاتا ہے اور خاص کر راجگی نظام میں صرف راجہ بہادر کے گھوڑے ہی چر تے تھے اب یہ بے گار ختم ہو چکا ہے ، اس نالے کے بلند و بالا اور برف پوش چوٹیاں مار خور کی بھی شکار گاہ ہے بڑی بڑی اونچی چوٹیاں اس نالے میں ہیں۔

تشی، جت بر اور فندس میں قرقلتی اور بر کولتی کے بھی چند گھرانے جو کی کاشت کاری کرتے ہیں اور گرمیوں میں رہتے ہیں ۔ کونجو مشک اور غونوموکو ٹونز ، میں سلطان آباد او ر سندی کے لوگوں کی زمینیں ہیں ۔یہاں بھی صرف جو کی فصل ہوتی ہے۔ اور گرمیوں میں اپنے مال مویشی لے کر بستے ہیں ۔

حرایو غر چھم اور مکولی میں برکولتی کے چند گھرانے گرمیوں میں مال مویشی لے کر رہتے ہیں اور یہاں فصل نہیں ہو تی۔یہ کھلے میدان سرسبز وا شاداب سبز زار ہیں یہاں گھوڑے گدھے، گائے، بیل، ہر قسم کی مال مویشی کھلے چرتے رہتے ہیں ،یہ اتنا خوبصورت میدان ہے کہ اس کے درمیان سے بہتا ہو چھیر گلوغ بل کھاتا ہوا جنت کا نظارہ پیش کرتا ہے ، پھر ادھر سے ادھر دوڑتے ہوے مست گھوڑے اور طرح طرح کے جانور انسانوں کی پابندی سے آزاد ، دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں۔

اردگرد بلند و بالا پہاڑ جو کہ سرسبز موٹھرنگ، باوڈلنگ، گساپور، سے اٹے پٹے اور وادی میں لہلہاتے کھیت اور لکڑی اور جھاڑیوں سے بنے ہوے جھونپڑے دعوت نظارہ دیتے ہیں ۔اور سیاحوں اور ہر آنے والے کے منتظر ہیں اور سیاحو ں کے لئے شاید اتنا دلچسپ مقام کہیں اور نہیں ہو گا۔

یہاں مئی کے ماہ سے اکتوبر تک سیر کے لئے آنے والو ں کے لئے موسم بڑا خوشگوار رہتا ہے۔ لیکن نومبر کے مہینے سے برف اپنی چادر لپیٹ لیتی ہے۔ اور سردی خشک اور ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ لیکن گرمیوں کا موسم خاص کر موسم بہار کے بعد سردیوں تک ایک ایک جگہ جنت سے کم نہیں ہوتا۔ اگر حکومت یا ، پی ٹی ڈ ی سی، والے یا کوئی پرائیویٹ ہوٹل کا انتظام کر کے اگر سیاحوں کو متوجہ کیا جائے تو شاید سالانہ لاکھوں روپے کی آمدنی ہو سکتی ہے اور نئی نئی چوٹیاں اور معدنیات بھی دریافت کرنے میں بڑا مدد گار ثابت ہو گا۔

قرقلتی میں سلاجیت، گندھک، اور بلور کے علاوہ اور بھی بہت سے معدنیات کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ مختلف جڑی بوٹیاں بھی مثلاََ گساپر، پونر پھول، بتی کی، دوندل، شریکی، بش قر، ، جنگلی پیاز، اور تمور(قہوہ) کثیر تعداد میں پایا جاتا ہے، یہ تمام جڑی بوٹیاں وہاں کے لوگ مختلف امراض کے لئے بطور دوائی استعمال کرتے ہیں۔ گساپور سے پیٹ درد ، پونر کے پھولوں کی صفوف سے آشوب چشم، اور شریکی اور بش قر، وغیرہ سے عورتیں میک اپ کا کام لیتی ہیں ، اس کے علاوہ قیمتی پتھر اور چینی کے برتن کی مٹی بھی وافر مقدار میں ملتی ہے، اور ہزاروں کی تعداد میں پھول اور جڑی بوٹیاں ملتی ہیں صرف حکومت کو چاہیٗے کہ اس علا قے کا مکمل سروے کرائے اور توجہ دے تو خدا جانے کہ کتنی کتنی چیزیں دریافت ہوں جو یہاں کے سادہ لوح لوگوں کو پتہ تک نہیں ، یہاں کے باشندے علاج معالجہ کے تکلیف برداشت کر کے خاص کر سردیوں میں سر درد کی دوائی یا ایک اسپرین کی گولی حاصل کر نے کے لئے دس میل دور طاوس ہسپتال جاتے ہیں ۔

لہٰذا حکومت یہاں ایک ڈسپنسری یا ہسپتال تعمیر کرے تو لوگوں کی ایک بنیادی ضرورت پوری ہوگی ۔ ویسے تو یاسین میں بھی طبی سہولتیں نہ ہو نے کے برابر ہیں لیکن قرقلتی میں تو نزلہ زکام کے لئے بھی اے پی سی دینے والا کوئی سرکاری یا پرائیویٹ بندوبست نہیں تھا ۔ اب ایک چھو ٹا سا ڈسپنسری تو کھولا گیا ہے لیکن کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے، بلکہ ایک نرس ہو تا ہے دوائی کا تو سب کو پتہ ہے کہ ہسپتالوں میں نہیں تو وہاں کہاں سے ہو گا۔ لہٰذ حکومت اور یہاں کے ممبران کو سوچنا چاہیے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔