کیا تمام مسائل کے زمہ دار صحافی ہیں؟

کیا تمام مسائل کے زمہ دار صحافی ہیں؟

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان میں سیاسی شعور بڑھانے میں صحافت کا کلیدی کردار رہا ہے۔ گلگت بلتستان کی سیاسی اور صحافتی تاریخ سے آگاہ لوگوں کواس بات کا علم ہے کہ یہاں جب مقامی اخبارات نہیں تھے اس وقت تک سیاسی شعور کی بھی کمی تھی۔ لوگ سیاسی جماعتوں اور سیاسی اداروں کی اہمیت سے ناواقف تھے۔ جبکہ گلگت بلتستان کا مسلہ کشمیر سے تعلق اور پاکستان کی پارلیمنٹ میں نمائندگی سے محرومی کا ادراک بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔

گو کہ گلگت بلتستان میں صحافت کا آ غاز آزادی کے فورا بعد سے ہی ہوا تھا مگر نوے کی دہائی میں کئی مقامی اخبارات کااجراء اور گذشتہ پندرہ سالوں میں ان کے اشاعتی معیار اور گلگت بلتستان میں پرنٹنگ پریس کی ترقی نے یہاں صحافت میں نئی روح پھونک دی ہے اور اسی کی وجہ سے سیاسی شعور میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مزاحمتی لکھاریوں کی ایک بڑی تعداد انہی مقامی اخبارات کی مرہون منت پیدا ہوئی ہے۔ جبکہ مقامی مسائل کو خبروں ، تبصروں اور تجزئیوں کے ذریعے اجاگر کرنے کا سہرا ء بھی مقامی صحافیوں کے سر جاتا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ ابھی صحافت کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور دوسرے شعبوں کی طرح اس میں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ مگراس کا قطعا یہ مطلب نہیں ہے کہ مقامی صحافیوں اور مقامی اخبارا ت کی علاقے کے لئے گرانقدر خدمات کو فراموش کیا جائے۔ ان صحافیوں نے حق کے لئے آواز بلند کرتے وقت کئی تکالیف بھی جھیلی ہیں۔ جن میں قید و بند کی صعوبتوں کے علاوہ جھوٹے مقدمات ، الزام تراشیاں، کردار کشی، پولیس یا با اثر افراد کی طرف سے تشدد، قاتلانہ حملے، دھمکیاں، اخبارات پر پابندیاں، اشتہارات اور بلات کی بندش وغیرہ شامل ہیں۔ ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں صحافیوں پر حملے، پولیس یا دیگر افراد کی طرف سے تشدد ، جھوٹے مقدمات اور دھمکیوں کے سالانہ اوسطاً پانچ سے دس واقعات ریکارڈ پر آتے ہیں۔

ان تمام پریشانیوں کے باوجود مقامی صحافیوں نے بغیر مالی فوائدکے اپنا کام جاری رکھا ہے۔ کیونکہ اس کام میں محض دشمنیاں پالنے کے علاوہ ان کو کچھ نہیں ملتا ہے۔ نوے کی دہائی تک صحافت کا یہ کام رضاکارانہ کیا جاتا تھا اس کے بعد مقامی اخبارات اور بعد ازاں نیوز جینلز نے عامل صحافیوں کو تھوڑابہت مشاہرہ دینا شروع کیا۔مگر آج بھی کئی صحافی ایسے ہیں جو قلیل تنخواہ کے لئے یا رضا کارانہ طور پر صحافت سے منسلک ہیں۔

موجودہ وقت میں صحافیوں کو حکومت اورعوام دونوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ صحافی ان کی کار کردگی کو بہتر طور بیان نہیں کرتے بلکہ غیر ضروری طور پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں جبکہ عوام کا خیال ہے کہ صحافی ان کے مسائل کو اجاگر نہیں کرتے جس کی وجہ سے عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ جبکہ صحافی اپنے تئیں کوشش کرتے ہیں کہ عوام کے مسائل بھی اجاگرہوں اور حکومت کا موقف اور کارکردگی کو بھی کوریج ملے۔

عام آدمی کو نظام کی خرابیوں اور پیچیدگیوں کا اندازہ نہیں ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ حکمرانوں کو عوام کے مسائل کا ادارک نہیں ہے ۔ صحافی جب ان مسائل کو حکمرانوں تک بہتر طور پر نہیں پہنچا ئیں گے تب تک یہ مسائل حل نہیں ہونگے ۔

یہاں تک تو بات صحیح ہے مگر عوام اور فیس بک کے نام نہاد دانشوروں کی ایک بڑی تعداد کا خیال یہ بھی ہے کہ چونکہ صحافی ہی مسائل کو اجاگر کرنے کے زمہ دار ہیں اس لئے تمام مسائل کے حل نہ ہونے کے زمہ دار بھی صحافی ہی ہیں۔اس لئے انہوں نے گذشتہ دنوں سلیم صافی کو اپنا ہیرو بنا لیا۔ ان کو اتنی بات سمجھ نہیں آئی کہ سلیم صافی نے جو سوال یہاں ایک تقریب میں اٹھا یا تھا وہی سوال گلگت بلتستان کے صحافی گذشتہ تیس سالوں سے اٹھا رہے ہیں۔اس تقریب میں تو مقامی صحافیوں کو نہیں بلایا گیا تھا مگر اس کے علاوہ جہاں جہاں مقامی صحافیوں کو موقع ملا انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کی بھر پور تر جمانی کی ہے ۔ راقم خود اس بات کا گواہ ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی حکمران جب بھی گلگت بلتستان آیا اور مقامی صحافیوں کو جب ان سے ملنے کا موقع دیا گیا تو ان کے سامنے صحافیوں نے بغیر لگی لپٹی تمام مسائل اجاگر کئے ہیں۔

مگران عقل کے اندھوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا حکمران ہمارے مسائل سے آگاہ نہیں ہیں؟ کیا وہ کسی دو سری دنیا کی مخلوق ہیں جن کو مسائل کا اداراک نہیں ہے؟ اورکیا صحافیوں کے علاوہ ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے جہاں سے ان کو مسائل کی خبر نہیں پہنچتی ہو؟ اور کیا مسائل کا حل حکمرانوں کے پاس ہے یا صحافیوں کے پاس ہے؟ اگر صحافی مسائل اجاگر کر بھی لیں اور حکمران ان کو حل نہ کر یں تو صحافی ان کاکیا بگاڑ سکتے ہیں؟

ان عقل کے اندھوں کو اتنا سمجھنا چاہیے کہ یہ جب صحافیوں پر تنقید کرتے ہیں تو دراصل اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے” اس کو سزا ملی جس نے سبق یاد کیا “۔ کیونکہ عوام کو حکمرانوں کے پاس جانے سے زیادہ آسان صحا فی کے پاس جانا ہے ۔ صحافی ان کا مسلہ اجاگر کر کے ان کی مدد کرتے ہیں اس کا حل جس طرح عوام کے پاس نہیں اس طر ح صحا فی کے پاس بھی نہیں ہے۔ سیلم صا فی کے سوال سے راتوں رات کونسے ہمارے مسائل حل ہوئے ہیں؟ مسائل تو بد ستور موجود ہیں۔سلیم صا فی سے قبل بھی پاکستان کے نامو رصحافیوں نے جی بی کے مسائل اجاگر کیے ہیں مگرمسائل جوں کے تو ں ہیں۔ ہمارے صحافی روزانہ سینکڑو ں مسائل اجاگر کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی مسلہ حل نہیں ہوتاہے۔ فیس بگ کے بعض جاہلوں کی حالت تو یہ ہے کہ وہ صحا فیوں کو یوں تنقید کرتے ہیں جیسے انہوں نے سیاسی جماعتوں کو نہیں بلکہ صحافیوں کوووٹ دیکر منتخب کیا ہے ۔ اگر صحا فیوں نے ہی تمام مسائل حل کرنے ہیں تو یہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے اسمبلیاں، بیوروکریسی اور دیگر تمام سرکاری ادارے نصف صدی سے کیوں پالے جا رہے ہیں؟

عوا م کو چاہئے انہوں نے جن کو ووٹ دیا ہے ان کاگریبان پکڑیں ۔ ان سے پوچھیں کہ عوام کی ترجمانی وہ کیوں نہیں کرتے؟عوام کے مسائل وہ حل کیوں نہیں کرتے؟ عوام کو چاہئے کہ وہ متعلقہ اداروں سے پوچھیں کی عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہیں لینے والے لوگ ان کے مسائل حل کیوں نہیں کرتے ہیں؟صحا فیوں پر تنقید سے ان کے مسائل حل نہیں ہونگے کیونکہ صحا فیوں کے پاس مسائل کا حل نہیں ہے۔ اور نہ ہی صحا فی مسائل حل کرنے کے زمدار ہیں۔ صحافی تو پہلے سے ہی عوام کے شانہ بشانہ ہیں۔ عوام کو اپنی سیاسی جماعتوں کو فعال بنا کر ان کے ذریعے اپنے مسائل کا حل ڈ ھونڈنا ہوگا۔

اسی طرح حکومت کو اگر یہ شکایت ہے کہ صحافی ان کی کار کردگی اجاگر نہیں کرتے تو ان کو یا د رکھنا چاہیے کہ کوئی حکومت اگر بہتر کام کرے تو وہ عوام کو خود بخود نظرآئے گا۔ حکومت کی نیک نامی میڈیا سے نہیں ا ن کے کاموں سے ہوتی ہے۔ لہذا عوام اور حکومت دونوں کو صحا فیوں کے حوالے سے اپنا رویہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

گذشتہ دنوں ڈپٹی سپیکر قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان جعفراللہ خان کا سینئر صحافی عیسیٰ حلیم سے ہونے والی ناچاقی کو دور کرنے کے لئے خود پریس کلب گلگت پہنچ جانے اور دونوں کا تمام صحافیوں کے سامنے بغل گیر ہونے سے گلگت بلتستان میں آزادی اظہار رائے کی اہمیت کے نظریے کو تقویت ملی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی روایات کو مزید فروغ دیا جائے تاکہ گلگت بلتستان کی صحافت اور جمہوریت دونو ں میں مزید بلوغت کی راہیں ہموار ہوسکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments