’’تھنکر زفورم‘‘ چترال کی طرف سے ’’سیمینار‘‘ کا انعقاد

’’تھنکر زفورم‘‘ چترال کی طرف سے ’’سیمینار‘‘ کا انعقاد

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) علم میں اگر روحانیت،اخلاق،کردارکی بلندی اور معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگی نہ ہو تو وہ نقصان دہ ہے جس کے نتائج ہم آجکل ایک قومی المیے کی صورت میں تجربہ کررہے ہیں۔شرکاء سمینار میں کالج یونیورسٹی پروفیسرز،ضلعی افسران،ڈاکٹرز،سماجی شعبے کے نمائندے ،انٹلیکچویلز،کالج ویونیورسٹیوں کے طلبا\طالبات شامل تھے۔بہت بھاری شرکت تعلیمیافتہ نوجوانوں کی تھی۔فاضل مقرر نے مغربی نظام تعلیم کے منفی پہلوؤں کو بھی اُجاگر کیا۔ہماری ٹریڈیشنل نظام تعلیم میں بعض تبدیلی،ثقافتی اور روحانی پہلوؤں اور کشرتیت(Pluratistic)ولیوز کے فقدان کا بھی زکر کیا۔’’ایک نقطہ بڑا اہم تھا کہ انسان کی تین بڑی بنیادی ضرورتوں ،نفسیاتی،تہذیبی وعقلی اورروحانی وجدانی‘‘کو تعلیمی نصاب میں سحو دینے کی ضرورت کا احساس نہیں کیا جارہا ہے۔صرف ایک پہلو نمایاں ہے اور وہ ہے Cognitive۔یہ ایک بالاحیوانی خصوصیت کی حامل ہے۔

سمینار کی ابتدائی کلمات کہتے ہوئے پروفیسر شمس النظر فاطمی نے ’’تھنکرز فورم چترال‘‘کے اغراض ومقاصد کا مختصر تعارف پیش کیا۔کہ تھنکرز فورم کا بنیادی مقصد’’مثبت سوچ‘‘تھنک پازٹیواور دوچیزوں پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا۔اسلام اور پاکستان ہماری دعوت ان دو(اسلام اور پاکستان )کی بہتری کا سوچنا ہے۔سوچ ہو اور وہ بھی تعمیری وتخلیقی سوچ تو اعمال وکردار بھی درست ہوسکتے ہیں۔پوری دنیا اور عالم اسلام کا بنیادی ’’تعمیری وتخلیقی سوچ‘‘کا فقدان ہے۔ہم نے منفی وتخریبی سوچ کو مثبت وتخلیقی سوچ سے الگ کرکے ذی شعور شہریوں میں فکری ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔تاکہ ایک متوازن معاشرہ میں اطمینان کا سانس لیا جاسکے۔تعمیری سوچ والے مواد کوCurriculumکا بنا نا چاہئے۔ہمیں کم فکری کو لگام دینا چاہیئے اور تقسیم درتقسیم کے بجائے ’’اتحاد ویگانگت‘‘کو فروغ دینا چاہیئے ۔شاہ صاحب نے یہ بھی بتایا کہ

’’تھنکرز فورم‘‘ کوئی تنظیم نہیں نہ ہی کسی قسم کی این جی او ہے۔اس کا کوئی دفتر،اکاونٹ،تنظیمی اسڑکچر بھی نہیں۔نہ ہی اس کا کوئی عہدہ دار ہے۔بلکہ یہ ’’حلف الفضول‘‘ کی ایک نئی فورم ہے۔اس میں Like Mindedاعلیٰ تعلیمیافتہ ،باشعور افراد اس میں تبادلہ خیالات کرتے ہیں اور اُن کا یہ عمل ’’ذہنوں کے لئے ایک کلک‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔جب تک بُرے خیالات اور سماج وامن مخالف تخریبی خیالات کو ذہنوں سے آن انسٹال نہ کیا جائے تب تک ذہنوں میں اچھے ،تعمیری اور مثبت خیالات کی آبیاری نہیں ہوسکتی۔

پروگرام کوسمٹتے ہوئے پروفیسر ممتاز حسین نے تھنکرز فورم سے متعلق حاضرین وناظرین کو مزید آپ ڈیٹ کیا اور کہا کہ ’’تھنکرز فورم‘‘ ایک عوامی فورم ہے جس کے آپ سب ممبرز ہیں۔مسائل سے چشم پوشی کے بجائے مسائل پر اوپن ڈسکشن زیادہ مناسب ہے جس سے مسائل کے متعدد حل سامنے آئیں گئے۔یہ ایک علمی فورم ہے جو بیلنس اور تعمیری سوچ وفکر کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔