گلگت بلتستان میں علیحدہ تعلیمی بورڈ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، موجودہ بورڈ ناکام رہا ہے، پروفیسر راحت شاہ

گلگت (پ ر) پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر راحت شاہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں الگ تعلیمی بورڈ کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے جو سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری سطح کے تعلیمی مسائل کے حل کیلئے ازخود پالیسیاں مرتب کرسکیں موجودہ بورڈ قراقرم یونیورسٹی کے زیر نگرانی چلنے میں ناکام رہاہے جس کی وجہ سے بہت سارے طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ قراقرم بورڈ یونیورسٹی کے زیر نگرانی چلنے کی وجہ سے بہت سارے مسائل سے دوچار ہے ایک طرف بورڈ کو سیکنڈری، ہائیر سکینڈری او ر گریجویشن سطح تک امتحانات کا بندوبست کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری طرف یونیورسٹی کے دیگر معاملات بھی بورڈ میں متعین آفیسران اور اہلکاروں کو ادا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کام کا بوجھ زیادہ ہونے کی وجہ اور پیشہ ور افراد کی عدم دستیابی کے باعث بورڈ مطلوبہ نتائج کے تاخیر کے باعث بہت سے طلباء کے مستقبل خطرے میں پڑتا ہے انہوں نے کہاکہ قراقرم بورڈ کو قراقرم یونیورسٹی سے ایک دفتر کا درجہ دیا گیا ہے جہاں پر تمام تر تعیناتیاں اور تقرریاں محض یونیورسٹی کے ضرورت کے تحت کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات غیر تجربہ کار ا فراد کو بورڈ ہذا میں بھیج دیا جاتا ہے جب وہ تجربہ حاصل کرتا ہے تو اس کی دوسری جگہ ٹرانسفری کی جاتی ہے جس کی وجہ سے بلواسطہ یا بلاواسطہ دونوں طرف سے اثرات بورڈ سے منسلک تعلیمی اداروں پر پڑتا ہے لیکچرز اینڈ پروفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر راحت شاہ نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کے نئی نسل کے مستقبل کو محفوظ کرنے کیلئے فوری طور پر اسمبلی سے ایکٹ منظور کراکے یونیورسٹی سے الگ قراقرم بورڈ کی منظور ی دی جائے تاکہ علاقے میں تعلیمی ماحول کو درست سمت دی جاسکیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments