بھارت کا جنگی جنوں

بھارت کا جنگی جنوں

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

خبر آئی ہے کہ دہلی اور لاہور کے درمیاں چلنے والی دوستی بس خالی آتی جاتی ہے لاہور سٹینڈ پر بس سے دو مسافر اترتے ہیں اور تین مسافر بس میں سوار ہوتے ہیں کبھی کبھی ایک مسافر بھی نہ اتر تا ہے نہ جاتا ہے اور بس خالی چلتی ہے یہ بھارت کے جنگی جنوں کا نتیجہ ہے اور بھارت کا جنگی جنوں بے سبب نہیں ہے اس کے بے شمار اسباب ہیں پہلا سبب سب کو معلوم ہے اور سبب یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اگلے انتخابات میں کامیابی کے لئے پاکستان کے خلاف جنگ اور محاذ ارائی کی فضا بنا تا پڑتا ہے ایسی فضا نہ بن سکی تو اگلا الیکشن بی جے پی کے ہاتھ نے نکل جائے گا اور کانگریس میدان مارلے گی یہ ایسی بات ہے جو بھارتی میڈیا کو بھی معلوم ہے پاکستانی میڈیا کو بھی معلوم ہے سیاستدانوں اور فوجی افسروں کو بھی معلوم ہے بھارت کے سابق فوجی افیسروں نے وزیر اعظم نر یند ر مودی کو مشور ہ دیا ہے کہ پاکستان کے خلاف جنگ کا محاذ گرم کیا جائے حاضر سروس فوجی افیسروں نے کھلی جنگ کی جگہ پر و پیگنڈہ مہم کی حمایت کی بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم کو تیز کیا ہے اس پروپیگنڈا مہم کا اثر آہستہ آہستہ پاکستانی اور عالمی میڈ یا پر بھی ہو رہا ہے دوستی بس سروس کی ناکام سروس بھی اس پروپیگینڈا مہم کا نتیجہ ہے اس کے مزید نتائج معیشت کی خراب صورت حال کی صورت میں سامنے آرہے ہیں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات کو تکر ار کر کے واضح کیا ہے اور ہر تقریب میں اس کو دہر ایا ہے کہ پاکستان ہر حال میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے آرمی چیف کی پیروی میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیردفاع خواجہ محمد آصف نے بھی خبر دار کیا ہے کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کے خطر ناک نتائج برآمد ہونگے اور خطے میں امن کو شدید دھچکا لگیگا امن اور سلامتی کو درپیش خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے مبصرین نے جو رائے قائم کی ہے وہ یہ ہے کہ بھارت اس وقت پاکستان کے خلاف گرم جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے صرف پرو پیگینڈے کے ذریعے پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے اور اس دباؤ کے ذریعے اپنے اندرونی مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹا نا چاہتا ہے پاکستان کے اندر دو طرح کے جذبات پائے جاتے ہیں شہروں سے دیہات تک عام آدمی ، عام پاکستانی اور غریب شخص بھارت کے خلاف شدید قسم کے جذبات رکھتا ہے اور جنگ لڑ کر کشمیر حاصل کر نے کے لئے بے تاب ہے بے قرار ہے عام آدمی جنگ کا حامی ہے اور بھارت کو سبق سکھانا چاہتا ہے ہماری سیاسی قیادت کو عوامی جذبات کا کوئی ادراک نہیں پاک فوج کی قیادت عوامی جذبات سے آگاہ ہے اور عوام جذبات کا احترام کرتی ہے ہمارے سیاستدانوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل ، چھوٹے چھوٹے مفادات اور چھوٹے چھوٹے اختلافات سے فرصت نہیں ہے شاید بھارتی قیادت پاکستان کے اندر پائے جانے جانے سیاسی انتشار سے فائد ہ اُٹھا نا چاہتی ہے اگر یہ بات درست ہے تو بہت افسوسناک بات ہے سیاسی قیادت کو عوامی جذبا ت کا ترجمان ہونا چا ہیے ہماری خارجہ پالیسی ہو ، داخلہ پالیسی ہو ،عدلیہ کی خدد مختاری ہو ، بیوروکریسی کی بے لگامی ہو ، معیشت کی زبوں حالی ہو کرپشن کی بھر مار اور بدا نتظامی ہو ،ہر مسئلے پر عوام کے جذبات سے سیاستدانوں کے طر ز عمل کا کوئی تعلق نہیں ہوتا عوام مشرق کی سمت سفر کرتے ہیں تو سیاسی قیادت مغرب یا شمال کی سمت میں روانہ ہوجاتی ہے یہ افسوسناک صورت حال ہے اور ہمارا دشمن اس صورت حال سے ہمیشہ فائد ہ اُٹھا تا ہے اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان کوتین اطراف سے خطرات کا سامنا ہے مشرق میں بھارتی فوج ہے مغرب کی سمت میں کلبھوشن یاد یو کے دوستوں کا نیٹ ورک ایران میں سرگرم ہے مغرب کی طرف دیکھو تو بھارت نے افغانستان کی سرحد پر 8 تونصل خانوں کے ذریعے اپنا مضبوط جال بچھایا ہوا ہے فاٹا سے کراچی اور کراچی سے بلوچستان تک اپنا نیٹ ورک پھیلا یا ہوا ہے بقول حالی

چاہِ یوسف سے آرہی ہے پیہم صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

پاکستان اس وقت دشمن کے خطرناک نرغے میں ہے ہماری فوجی قیادت کا حوصلہ بلند ہے ہمارے عوام کا حوصلہ بلند ہے اگر کوئی کمی ہے تو سیاسی قیادت میں ہے دائیں بازو کی جماعتوں میں دائیں بازو کی کوئی خوبی نہیں رہی بائیں بازو کی جماعتوں میں بائیں بازو کی کوئی صفت پائی نہیں جاتی قومی و حدت ، قومی منشور ، قومی ایجنڈا کسی کے سامنے نہیں اس لئے وطن کے دفاع کا سارا بو جھ پاک فوج او رعوام کے کندھوں پر ہے عوام کو متحرک کر نے کا کام بھی پاک فوج کو کرنا پڑ رہا ہے سیاسی قیادت اس پر توجہ نہیں دے سکتی سیاسی لیڈروں کی ترجیحات الگ الگ ہیں اس وقت بھارتی پر وپیگینڈے کا موثر جواب دینے کے لئے ایک ایسی آل پارٹیز کانفرنس کی ضرورت ہے جیسی آل پارٹیز کانفرنس آرمی پبلک سکول پشاور پر بھارتی حملے کے بعد بلائی گئی تھی جس میں دیگر سیاسی لیڈروں کے ہمراہ عمران خان بھی شریک ہوئے تھے نیشنل ایکشن پلان بنا یا گیا تھا اب 2014 ؁ء کا ایکشن پلان پر انا ہوا ہے اس کے 25 فیصد پر عمل ہوا 75 فیصد پر عمل کے لئے نئی اے پی سی اور نئے ایکشن پلان کی تشکیل بے حد ضروری ہے اور بھارت کے جنگی جنوں کو لگام دینے کا یہ واحد طریقہ ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔