مہاراج کی جے ، راج کمار کی جے

فیس بک پر ایک صاحب کے کمنٹ پڑھ رہا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ وہ صاحب قوم پرست نہیں بلکہ گلگت بلتستان پرست ہیں ۔ ہمارے لئے یہ نام بالکل نیا لگا۔ ممکن ہے کسی صاحب نے پہلے سے یہ لفظ سنا یا پڑھا ہوگا۔

اب تھوڑی دیر کے لئے اس لفظ پر غور کیا جائے تواس لفظ کے دوسرے معانی یہ لئے جا سکتے ہیں کہ ان کا تعلق کسی قوم پرست جماعت یا کسی سیاسی پارٹی سے نہیں یعنی اسےگلگت بلتستان کا مفاد عزیز ہے۔ تو اس لحاظ سے وہ جی بی پرست کہلانے کو خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس کا ایک اور مفہوم یہ بھی بنتا ہے کہ اس کے نزدیک قوم پرست ہونا کوئی اچھا تصور نہیں ۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اب ان وجوہات پر وہ صاحب ہی روشنی ڈال سکتے ہیں کہ جی بی پرست اور قوم پرست میں کیا فرق ہے؟ اب اس پرست سے جی بی اور قوم کا سابقہ اٹھایا جائے تو صرف پرست باقی رہ جاتا ہے ، تو کیوں نہ اس پرست اور پرستی کی بات کی جائے تاکہ معلوم تو ہو کہ جی بی والوں کا تعلق اصل میں کس پرستی سے ہے۔

لازمی بات ہے کہ اس پرستی کو سمجھنے کے لئے ہمیں پرست کے معانی کو تو جاننا ہی پڑیگا تاکہ بات ہمارے سمجھ میں آئے۔اس کے لفظی معانی پرستش پوجا کے ہوتے ہیں اب کون کس کی پرستش یا پوجا کرتا ہے اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ مسلمانوں کی بستی میں ہم سب کو خدا پرست ہی سمجھتے ہیں ۔اور خدا پرستی میں پھر کسی پرستی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس پرستی میں خدا کی تخلیق انسان سے نفرت نہیں محبت کرنے کا حکم ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ صرف خدا پرست ہی انسانوں سے محبت اور الفت کر سکتا ہے کیونکہ اس پرستی میں تعلیم کا بنیادی نقطہ انسانوں سے پیار ہے جبکہ اس کے علاوہ باقی پرستوں میں محبت اور الفت کا محور انسان نہیں بلکہ مختلف چیزیں اور مادوں سے ہوتا ہے۔ اس خدا پرستی کے تحت کسی کو ہو یا نہ ہو ہمیں جی بی میں رہنے والوں سے بڑا پیار ہے ۔میں نے پیار اور محبت کا لفط استعمال کیا ہے اور میں ہر اس پرستی کو اچھا سمجھتا ہوں جہاں پیار ہو، محبت ہو چاہت اور الفت ہو ،اپنے سے، اپنے وطن سے اور اپنے لوگوں سے لیکن جب یہ پرستیاں محبت اور الفت کے بجائے دشمنیان اور عداوتیں بانٹیں تو یہ معاشرے کے لئے زہر قاتل کا درجہ رکھتی ہیں۔

آج کل کی پرستیوں کی طرف دیکھا جائے چاہئے کسی رنگ میں ہوں محبت کے بجائے نفرتیں بانٹنے کا کام زیادہ کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مجھے محبت اور الفت والی کسی پرستی سے دشمنی نہیں اور سچ جہاں اور جس پرستی میں ہو وہاں سے اس سچ کو اٹھانے اور اس کی حمایت کرنے میں کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتا ۔اس کے برعکس جھوٹ جس پرستی میں بھی ہوگا وہ بُرا ہی تصور ہوگا چاہئے اس جھوٹ میں وطن کی محبت سو فیصد ہی شامل کیوں نہ ہو ۔

دور جدید کی پرستیاں تقریباً سب ہی نفرت اور عدوات کو پروان چڑھائی دکھائی دیتی ہیں ۔سچ ان سے برداشت نہیں ہوتا اور میرے ساتھ سچ یہ ہے کہ میں ماضی پرست ہوں اور جوں ہی کچھ لکھنے بیٹھ جاتا ہوں تو میرے سامنے ماضی میں رونما ہونے والے واقعات ذہن میں گردش کرنے لگ جاتے ہیں۔ جب اس گردشی ذہن کی طرف نظر جاتی ہے تو ماضی کی اس گردش میں ۔مجھے کسی قسم کی کوئی قوم پرستی نظر نہیں آتی ہے ۔سوائے آتش پرستی ، بُت پرستی ، انگریز پرستی، اور پھر ڈوگرہ پرستی کے۔اسلام کو بھی آئے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا ۔اس لئے ہماری اسلام پرستی کے اندر بہت ساری دیگر پرستیاں بھی رائج ہیں۔ یہ سب اس لئے ہے کہ ہمیں خدا کی ذات اور اس کے آخری نبی محمد ﷺ کے بتائے ہوئے قرآنی قوانین اور دینی احکامات سے زبانی حد تک انس اور محبت ہے جس باعث ہمارے اندر اب بھی انگریز پرستی اور ڈوگرہ پرستی کے جراثیم بدرجہ اتم موجود ہیں۔ بس اس بارے یہ کہا جا سکتا ہے کہ
چھٹتی نہیں یہ کافر منہ کو لگی ہوئی

یہ کافر تو ہمارے ساتھ کافروں کے دور سے ہی چمٹی ہوئی ہے میں کمبل کو چھوڑتا ہوں لیکن کمبل مجھے نہیں چھوڑتا ہے والا محاورہ استعمال کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔

اگر ہم اپنی تاریخ کا ٹھنڈے دل سے مطالعہ کریں تو تاریخ میں ہماری عادات اور خصائل کا بڑے تفصیل سے ذکر موجود ہے ۔ ہماری تاریخ ہمیں یہ بتانے میں بخل سے کام نہیں لیتی ہے کہ ہم کسی کے دشمن نہیں اپنے آپ کے دشمن ہیں ۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتانے سے نہیں کتراتی کہ یہاں کے باسیوں میں اپنوں سے زیادہ غیروں سے محبت اور پینگیں بڑھانے کی خصلت زیادہ پائی جاتی ہے۔ تاریخ کو اس بات پر بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ وہ یہ آشکارا کرے کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھیچنے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ۔سب سے بڑی اور تمام پرستیوں میں ہمارے اندر جس پرستی نے ہر دور چاہئے وہ آتش پرستی کا ہو، ہندو پرستی کا ہو یا اسلام پرستی کا خوش آمد پرستی سر فہرست رہی ہے اور یہاں جس کو جب جب موقع ملا اس نے اس فن کے تحت وہ کچھ حاصل کیا جس کا وہ حقدار نہیں تھا ۔ اگر میں ان سب کے نام گنوانا شروع کردوں تو اس کی ایک لمبی فہرست سامنے آ سکتی ہے جس کی یہاں گنجائش شائد ہو۔اگر کسی کو یقین نہ آتا ہو تو اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور پوچھیں کہ اپنے آپ سے سوال کریں کہ آپ کس پرستی کی کیٹگری میں فِٹ ہوجاتے ہیں تو دو ہی چیزیں آپ کے سامنے آئینگی ایک حسد پرستی والا طبقہ جو حسد میں دوسروں کی اچھی چیزوں کو بھی بُرا ہی سمجھتا ہے اور دوسرا طبقہ خوش آمد پرستی والا جو ہر دور میں ہر پارٹی کے ساتھ دکھائی دیتا ہے اس کو آپ مفاد پرستوں کا ٹولہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔یہ طبقہ ہر دور میں کامیاب رہا ہے اور اب بھی کامیابی ان کی قدم چومے ہوئے ہے ۔ یہ لوگ اپنے فن کے مولا ہیں۔

ماضی قریب کی طرف سردار عالم پہلے پاکستانی پولیٹکل ایجنٹ کے دور کی طرف نگاہ کریں تو بات عیاں ہو جائیگی کہ کس نے کونسا عہدہ اپنے نام کیا ۔اس جنت میں سب مزے میں تھے بس فرق اتنا ہے کہ اس وقت کے حربے کچھ اور تھے اور اب دور جدید میں سائٹیفک طریقے سے ان پر عمل ہوتا ہے اور لوگ وہی واہ واہ میں ہی مصروف ہیں ۔اور یہ مفاد پرست ٹولہ اس واہ واہ میں وہ کام کر جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

حال کا حال جاننے کے لئے ایک صاحب کا لکھا ہوا ایک خاکہ ساری کہانی بتانے کے لئے کافی ہے۔ اس خاکے میں صاحب ایک سفید ٹوپی پہننے والے کا ذکر کرنے کے ساتھ اس کا لوگوں سے گھل ملنے اور ان کے ساتھ سلیفیاں نکالنے اور پکنک منانے کا تذکرہ کرتا ہے ۔ ان کو عوامی رابطہ کا نام دیا جاتا ہے اور بڑے اور حکمرانوں کے رابطے ایسے ہی ہوتے ہیں جو کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں ۔ جب اس صاحب کا لکھا ہوا واقعہ میں نے پڑھ لیا تو ذہن ڈوگرہ راج کےگورنر گھنسارا سنگھ کا عوامی لوگوں سے ملنے جھلنے اور ان سے روابط اور ان کے طرز حکمرانی کے مختف واقعات کی طرف گھوم گیا اور میں نے سوچا یہ طریقہ تو ہمارا دیکھا بھالا ہے چلیں چلتے ہیں ڈوگرہ راج کے گھنسارا سنگھ کے دور میں جب گھنسارا سنگھ نے گلگت میں چارج سنبھالا تو خوش آمدی اور مفاداتی ٹولہ بھی سرگرم عمل ہوا۔ اس میں کون لوگ شامل تھے اسے بھی بتانے کی ضرورت نہیں وہ بھی سب کے سامنے ہیں اور ہم سب ان کی حکمرانیوں کے سائے میں ہی پل کر جوان اور پھر بوڑھے ہوئے ہیں اس کے لئے آپ کو کتابوں سے چھیڑخوانی کرنا پڑیگی ۔اس کے بغیر شائد ہی کوئی ان کو جان سکے ۔

بات ہو رہی تھی گھنسارا سنگھ کی دور کی۔ اس دور کے خوش آمدی یا خوش آمد پرست لوگوں نے کیا کیا ڈرامے رچائے۔ اپنے مفادات کے لئے وہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں جو ہماری اصل پرستی کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم کس پرستی کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایک کتاب ہے جس کا نام صبح آزادی ہے جسے مرحوم ڈی ایف او غلام سول نے لکھا ہے اس میں لکھا ہوا ایک واقعہ ہم سب کی پرستی کی صحیح عکاسی کرتا ہے ۔ وہ رقم طراز ہیں گھنسارا سنگھ کے دور میں ہر شخص یا فرد جو انگریزوں کے دور میں مراعات یافتہ تھے وہ سب اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کسی طرح ڈوگرہ گورنر کی خوشنودی حاصل ہو جو انگریزوں کےگیارہ سالہ دور میں ڈوگرہ راج سے منقطعہ ہوے تھے پھر سے بحال ہوں ۔ اس کوشش میں ہر ایک اپنی اپنی ترکیب آزما رہا تھا۔ پولو میچ ہو یا عام سی تقریب سب ہی گھنسارا سنگھ کو مہمان خصوصی بنانے کی فکر میں لگے رہتے اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ۔ اور تو اور آزادی کے ہیرو بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے ۔

ایک ہیرو (نام لکھنا مناسب نہیں سمجھتا) اس کی چاپلوسی اور خوش آمد کے عجیب طریقے نے اس وقت کے لوگوں کو بڑا حیران کر دیا تھا ۔ ہوا کیا عیدین میں دستور یہ تھا کہ عمائدین شہر اور ملازمین گورنر کی سلامی کے لئے جایا کرتے تھے ۔ ایسے ہی ایک عید پر اس ہیرو نے پوری پلاٹون کو سفید ٹوپیاں سفید قمیض اور برون چپلوں میں ملبوس باقائدہ مارچ کراتے ہوئے گورنر کے بنگلے پہنچایا اور گورنر کو سلامی پیش کی ۔یہاں تک تو ٹھیک کہ علاقے کا گورنر تھا ایسا کیا گیا یا ہوا ہو۔ لیکن یہاں بس نہیں کیا گیا اس سے دو قدم اور آگے اس ہیرو نے گورنر کی خوشنودی اور ہمدردی کے لئے ایک جتن اور بھی کیا اور سیلوٹ کے بعد تین بار مہاراج کی جے اور تین بار راج کمار کی جے کے نعرے بلند کئے ۔اب بات آپ سمجھ گئے ہونگے کہ ہم اصل میں کس پرستی کو زیادہ پسند کرتے ہیں ایک یہی پرستی ہے جس کو ہم نے بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا بھی ہے اور اب تک اس پرستی کے نہ صرف قائل ہیں بلکہ اس پر ثابت قدم بھی ہیں ۔ کہیں پہ یہ پرستی ہم باقائدہ تنخواہ لے کر انجام دے رہے ہیں کہیں پر حکمرانوں کے ساتھ میل جول بڑھانے کے خاطر اور کہیں پہ اپنے کو دوسروں سے ممتاز اور نمایاں کے شوق میں سلیفیاں اور سفید ٹوپیاں پہنا کر اس پرستی کو پروان بلکہ سر پر چڑھا کر جدید اردو لفظ زندہ باد بولتے ہیں تو در اصل ہم وہی بات کہہ رہے ہوتے ہیں مہاراج کی جے ہو راج کمار کی جے ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments