جنسی زیادتی کی مجرمانہ کوشش کے بعد انصاف نہ ملنے پر خودکشی کرنے والی طالبہ کا کیس سنجیدگی سے اُٹھایا جائے،عمائدین لاسپور

جنسی زیادتی کی مجرمانہ کوشش کے بعد انصاف نہ ملنے پر خودکشی کرنے والی طالبہ کا کیس سنجیدگی سے اُٹھایا جائے،عمائدین لاسپور

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) وادی لاسپور کے گاؤں ہرچین اور رمان کے عمائدین سابق یونین ناظم محمد قیوم شاہ، عدیر احمد خان، عبدالعزیز، شیرگلی ، شریف الدین اور دولت علی خان نے چیف جسٹس آف پشاور ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ گورنمنٹ ہائی سکول ہرچین کے کلاس روم میں اپنے ساتھ ذیادتی کی کوشش پر دلبرداشتہ ہوکر طالبہ طاہرہ بی بی کا زہر کھاکر خود کشی کے کرنے کے واقعے کا جوڈیشل انکوائری کی جائے تاکہ اس اندوہناک واقعے میں ملوث افراد کے مکروہ چہروں سے نقاب اٹھ سکے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں انصاف کا علمبردار صوبائی انتظامیہ میں محکمہ ایجوکیشن اور پولیس نے اس واقعے کو کوئی اہمیت نہیں دی جس کے نتیجے میں واقعے کے ذمہ دار افراد دندناتے پھر رہے ہیں اور علاقے کے لوگ اپنی عزت کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ تعلیم نے اس معصوم طالبہ کی موت کے ذمہ دار گورنمنٹ ہائی سکول ہر چین کے خاکروب دیدار علی اور استاد سہروردی کو علاقے کے لوگوں کی کی درخواست پر علاقے سے باہر تبدیل تک نہیں کی اور پولیس نے سکول ٹیچر سہروردی اور ہیڈ ماسٹر علی دینہ کو کیس میں شامل تفتیش کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ لاسپور کے عمائدین نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک سکول کے احاطے میں صبح 8بجے ایک مظلوم بیٹی انتہائی دلبرداشتگی کے عالم میں زہر کھاکر دو پہر تین بجے تک تڑپتی رہی لیکن سکول انتظامیہ نے اس دن گیارہ بجے طالبہ کو تڑپتی چھوڑکر سکو ل کو بند کرکے بے حسی ، لاپروائی اور سنگدلی کی انتہا کردی۔ انہوں نے واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سال دسمبر میں گورنمنٹ ہائی سکول ہرچین کی خاکروب دیدار علی نے قریب واقع مایون پبلک سکول کی انٹرمیڈیٹ کی طالبہ طاہر ہ بی بی کی عزت پر سرعام حملہ آؤر ہوا جس پر مقامی پولیس چیک پوسٹ میں ان کے خلاف کیس دائر کردی گئی لیکن سہروردی سمیت دوسرے گواہوں نے جب تین بار سے بھی ذیادہ پیشی میں گواہی دینے سے انکار کردیا تو وہ دلبرداشتہ ہوکر خودکشی پر مجبور ہوگئی اور ہائی سکول کے اندر آکر اپنی جان دے دی تھی۔ انہوں نے کہاکہ علاقے کے عوام نے جب مظلوم طالبہ کے حق میں جلسہ منعقد کرکے ملزمان کے کاروائی کا مطالبہ کیا تو سہروری نے ان کو ڈرانے دھمکانے کے ساتھ دس ملین روپے کی ہرجانہ کا نوٹس بھی بھیجوادیا ہے۔ معززین علاقہ نے اس واقعے پر سیکرٹری ایجوکیشن اور انسپکٹرجنرل پولیس سے اس واقعے پر سخت ایکشن لینے کی اپیل کی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔